”تھوک سے گیند چمکانے پر پابندی لگائی گئی تو باﺅلر۔۔۔“ محمد عباس نے بھی اپنی پریشانی بیان کر دی

”تھوک سے گیند چمکانے پر پابندی لگائی گئی تو باﺅلر۔۔۔“ محمد عباس نے بھی اپنی ...
”تھوک سے گیند چمکانے پر پابندی لگائی گئی تو باﺅلر۔۔۔“ محمد عباس نے بھی اپنی پریشانی بیان کر دی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باﺅلر محمد عباس نے کہا ہے کہ گیند کو چمکائے بغیر باﺅلر ادھورا رہ جائے گا اس لئے امید ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) گیند کو چمکانے کیلئے متبادل آپشن ضرور دے گی۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے معطل ہونے والی کھیلوں کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو رہی ہیں لیکن کھلاڑیوں کو احتیاطی تدابیر کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑ رہا ہے اور فاسٹ باﺅلر محمد عباس سمجھتے ہیں کہ اب جب کھیل شروع ہو گا تو کرکٹ تبدیل ہو چکی ہو گی۔

18 ٹیسٹ اور 3 ایک روزہ میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے محمد عباس کا کہنا ہے کہ اتنے لمبے عرصے کے بعد جب کرکٹ کھیلیں گے تو یہ آسان نہیں ہو گا، مشکل ہو گی اور ہمیں بہت خیال رکھنے کی ضرورت ہو گی۔ فٹنس کے علاوہ احتیاطی تدابیر کے حوالے سے بھی محتاط ہونا پڑے گا، بال کو تھوک سے چمکانے کی پابندی ہو گی، اس کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔

قومی ٹیم کے باﺅلر کا کہنا تھا کہ جب تھوک سے گیند کو چمکانے کی پابندی ہو گی تو میں سمجھتا ہوں کہ آئی سی سی ضرور اس کا کوئی متبادل آپشن دے گی اور اس کا حل نکالے گی کیونکہ گیند کو چمکائے بغیر تو باﺅلر ادھورا رہ جائے گا۔ گیند کو چمکانے کی بہت عادت ہو چکی ہے، خود کو بار بار یاد کرانا ہو گا کہ تھوک سے گیند کو نہیں چمکانا، میں نے ابھی ردھم کیلئے دو تین باﺅلنگ سیشن کئے ہیں اور میں اکثر بھول جاتا تھا لیکن مجھے امید ہے آئی سی سی اس کا حل نکالے گی۔

محمد عباس نے کہا کہ باﺅلرز اپنے روایتی انداز میں وکٹ لے کر خوشی مناتے ہیں، آپس میں ملتے ہیں، اس کا بھی خیال رکھنا ہو گا، احتیاطی تدابیر کی وجہ سے اب بالکل مختلف کرکٹ ہو گی۔ محمد عباس نے دو سیزن کیلئے انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں لیسٹر شائر کی نمائندگی کی جبکہ اس سیزن میں ان کا معاہدہ ناٹنگھم شائر کے ساتھ تھا لیکن کووڈ-19 کی وجہ سے انگلینڈ میں کرکٹ کی سرگرمیاں معطل ہیں اور وہ اس مرتبہ کاؤنٹی کرکٹ نہیں کھیل سکے۔

اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال میں کاؤنٹی کرکٹ کو مس کر رہا ہوں کیونکہ کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے سے خود کو ردھم اور ڈسپلن میں رکھنے کا موقع ملتا ہے جن دنوں کاؤنٹی سیزن ہوتا ہے تب پاکستان میں کرکٹ نہیں ہو رہی ہوتی، ایسے میں انگلینڈ میں کھیلنے سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے، پروفیشنل ازم میں بہتری آتی ہے لیکن اس مرتبہ کووڈ-19 کی وجہ سے ممکن نہیں ہوا اس لیے میں کاؤنٹی کرکٹ کو مس کر رہا ہوں۔

مزید :

کھیل -