کیا آپ کو دوسری مرتبہ کورونا وائرس ہوسکتا ہے؟ وبائی امراض کے ڈاکٹر نے انتہائی اہم بات بتادی

کیا آپ کو دوسری مرتبہ کورونا وائرس ہوسکتا ہے؟ وبائی امراض کے ڈاکٹر نے ...
کیا آپ کو دوسری مرتبہ کورونا وائرس ہوسکتا ہے؟ وبائی امراض کے ڈاکٹر نے انتہائی اہم بات بتادی

  

سیئول (مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی وباءکے پیش نظر دیگر کئی سوالات کے ساتھ ایک یہ سوال بھی ہر شخص کے ذہن میں موجود ہے کہ آیا کسی شخص کو دوسری بار کورونا وائرس لاحق ہو سکتا ہے؟ اب اس حوالے سے نئی تحقیقات میں سائنسدانوں نے خوشخبری سنا دی ہے۔ فوربز کے مطابق جنوبی کوریا سے چند ہفتے قبل اس حوالے سے ایک مایوس کن خبر آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ کورونا وائرس کے 11صحت مند ہونے والے مریض دوبارہ اس وائرس کا شکار ہو گئے۔ صحت مندی کے بعد ان کے ٹیسٹ منفی آئے اور کچھ دن بعد ان کے ٹیسٹ دوبارہ مثبت آ گئے۔اس خبر سے دنیا بھر میں ایک خوف پھیل گیا کہ لوگ دوسری بار بھی اس موذی وباءکا شکار ہو سکتے ہیں تاہم سائنسدانوں ان 11 مریضوں پر تحقیق شروع کی جس کے نتائج میں اب خوشخبری سنا دی گئی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج میں سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ سب لوگ دوسری بار وائرس کا شکار نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کے جسم میں وائرس کا بچا کھچا جینیاتی مواد باقی رہ گیا تھا جس کی وجہ سے ان کے ٹیسٹ ایک بار پھر مثبت آ گئے۔ جب ان لوگوں پر تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ ان کے جسموں میں موجود وائرس کا بچا کھچا جینیاتی مواد نہ تو ان میں دوبارہ بیماری کا سبب بن سکتا تھا اور نہ ہی یہ لوگ آگے دوسرے لوگوں کو وائرس منتقل کر سکتے تھے۔ یہ مواد مزید کچھ عرصہ ان کے جسم میں رہا اور پھر ختم ہو گیا۔

جنوبی کوریا ہی کے سائنسدانوں نے اس حوالے سے بندروں پر بھی ایک تحقیق کی۔ انہوں نے کچھ بندروں کو کورونا وائرس کا شکار کیا اور پھر ان کا علاج کیا گیا۔ علاج سے جب بندر صحت مند ہو گئے تو ٹیسٹ کرنے پر پتا چلا کہ ان کے جسم میں کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بن چکی تھیں۔ اس پر سائنسدانوں نے دوبارہ انہیں کورونا وائرس کی زد میں رکھا لیکن وہ بندر اس بار محفوظ رہے اور وائرس انہیں لاحق نہیں ہوا۔ وبائی امراض کے امریکی ماہر ڈاکٹر مارک کورٹ پیٹر کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ ”کورونا وائرس کے صحت مند ہونے والے مریضوں کے جسم میں اینٹی باڈیز پیدا ہو جاتی ہیں اور ان کو دوبارہ وائرس لاحق ہونے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے لیکن یہ تاحال معلوم نہیں کہ یہ اینٹی باڈیز کب تک ان کے جسم میں متحرک رہتی ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہیپاٹائٹس اور دیگر کچھ بیماریاں ایسی ہیں جن سے صحت مند ہونے والے مریضوں کو زندگی بھر دوبارہ یہ امراض لاحق نہیں ہوتے لیکن انفلوئنزا کا معاملہ مختلف ہے۔ یہ بھی ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے، لیکن یہ بار بار ہوتا رہتا ہے۔ اسی طرح کورونا وائرس کے متعلق یہ معلوم کرنا تاحال باقی ہے کہ اس کی اینٹی باڈیز جسم میں کتنے عرصے تک متحرک رہتی ہیں؟فی الوقت ہم اتنا جانتے ہیں کہ ایک بار جس کو یہ وائرس لاحق ہو جائے اور وہ صحت مند ہو جائے۔ آئندہ چند ماہ کے دوران اسے دوبارہ وائرس لاحق ہونے کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔“

مزید :

تعلیم و صحت -کورونا وائرس -