پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کا قتل، امریکی شہر نے پولیس فورس ہی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا، پولیس والوں کا کام کون کرے گا؟ انتہائی حیران کن فیصلہ

پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کا قتل، امریکی شہر نے پولیس فورس ہی ختم کرنے کا ...
پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کا قتل، امریکی شہر نے پولیس فورس ہی ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا، پولیس والوں کا کام کون کرے گا؟ انتہائی حیران کن فیصلہ

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر منیپولیس میں سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی پولیس آفیسرز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد پھوٹنے والے ہنگامے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں اور ایک حالیہ سروے میں امریکی شہریوں کی اکثریت نے ملک کی صورتحال کو ’آﺅٹ آف کنٹرول‘ قرار دے دیا ہے۔ ایسے میں منیپولیس سٹی کونسل نے پولیس کو ’زہریلی پولیس‘ قرار دیتے ہوئے سرے سے اس محکمے ہی کو ختم کرنے کے حق میں ووٹ دے دیا ہے۔میل آن لائن کے مطابق سٹی کونسل کے اراکین کی تین چوتھائی اکثریت نے واضح برتری سے پولیس کا محکمہ ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی قرار داد کے حق میں ووٹ دیئے ہیں۔ شہر کے 38سالہ میئر جیکب فرے نے اس قرار داد کی مخالفت کی لیکن تین چوتھائی اکثریت ہونے کی وجہ سے ان کی مخالفت اہمیت کھو بیٹھی، کیونکہ تین چوتھائی اکثریت کا مطلب ’ویٹو‘ ہوتا ہے۔

قرار داد کی منظوری کے بعد کونسل لیڈر کا کہنا تھا کہ ”پولیس کا محکمہ ختم کرنے کا کوئی قلیل مدتی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ اس کام میں کافی وقت لگے گا اور اس پہلو پر بھی غوروخوض کرنا پڑے گا کہ آیاشہر پولیس کے بغیر کیسے رہ سکے گا۔“ رپورٹ کے مطابق اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پولیس کو دیئے جانے والے فنڈزمحکمے کو ختم کرکے ان کمیونٹی سروسز کو منتقل کیے جائیں جن کا مقصد جرائم کو روکنا ہے۔اس کے علاوہ یہ رقم مینٹل ہیلتھ سروسز، سوشل سروسز، جاب پروگرامز اور آرٹس گروپس کو دی جا سکتی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ پولیس کی جگہ ایک بہت چھوٹے سائز کی ’پبلک سرونٹس ‘ کی ایک فورس تشکیل دی جائے جو پرتشدد جرائم سے نمٹنے کا کام کرے۔کاﺅنٹی شیرفس، جو منیپولیس کی حدود میں آتی ہیں، انہیں عارضی پولیس فورس کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -