جو چیزیں ہمیں کامیاب نہیں ہونے دیتیں 

جو چیزیں ہمیں کامیاب نہیں ہونے دیتیں 
جو چیزیں ہمیں کامیاب نہیں ہونے دیتیں 

  

ہم سب مادی اور روحانی طور پر کامیاب ہونا چاہتے ہیں مگر اس کے لئے درکار ضروری وسائل اور سوچ بروئے کار نہیں لاتے۔ مثلا ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس بہت سا پیسہ آجائے مگر اسے تلاش نوکری میں کرتے ہیں حالانکہ خطیر پیسہ یا زیادہ پیسہ کاروبار میں ہے، نوکری میں نہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اللہ کے قریب ہوجائیں مگر سمجھتے ہیں کہ ایسا صرف خواہش سے ہوجائے گا جب کہ اس کے لئے ایک باعمل انسان بننا پڑے گا اور اللہ کو ماننے کے ساتھ ساتھ اللہ کی ماننی بھی پڑے گی. جو ہم نہیں کرتے. اور پھر مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ 

آج یہاں پانچ ایسی رکاوڑٹوں کا ذکر کروں گا جو ہمیں مادی اور روحانی طور پر کامیاب نہیں ہونے دیتیں۔پہلی رکاوٹ قوت ارادی کی کمی ہے۔ قوت ارادی دراصل ہمارے اندر کا وہ انسان ہے جسے ہر لمحہ جاگتے رہنا چاہئے مگر اکثروبیشتر وہ سویا رہتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ سویا انسان کوئی کام کرسکتا ہے نہ عبادت۔ ہم جب تک یہ ارادہ نہ کریں کہ میں نے یہ کام ہر صورت میں کرنا ہے، وہ کام شروع ہی نہیں ہوسکتا۔ جب ہم کوئی کام کرنے کی ٹھان لیں تو رب تعالی بھی مدد کرتا ہے۔

یاد رکھیں!زیادہ پیسہ کمانا چاہتے ہیں تو کوئی ہنر سیکھیں، کسی کاروبار میں تجربہ حاصل کریں اور پھر اس کام میں اپنا تن، من، دھن لگادیں۔ کاروبار میں پیسہ ہے، نوکری میں نہیں۔ مگر یہ کبھی نہ بھولیں کہ کاروبار میں برکت اسی وقت آئے گی جب اپنے ہر معاملے میں اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوں گے اور اللہ کی مانیں گے۔ مثلا کاروبار میں جھوٹ کی ملاوٹ نہیں کرنی۔ نماز اور دوسری عبادات کے علاوہ یہ پکا ارادہ کرنا ہے کہ کاروبار میں دھوکہ نہیں دینا، ہر کام احسن انداز میں کرنا ہے۔ آپ ایسا کرکے دیکھیں مادی اور روحانی طور پر آپ ایک کامیاب انسان بن جائیں گے اور دونوں جہانوں کی خیر ہوگی دوسری رکاوٹ صبر کی کمی یا جلد بازی ہے۔ یہ کام بھی ہم مادی اور روحانی دونوں طور پر کرتے ہیں۔ مثلا ہم راتوں رات امیر ہونا چاہتے ہیں جب کہ کاروباری حضرات کے حالاتِ زندگی بتاتے ہیں کہ انہوں نے بے صبری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے صبر کے ذریعے سب کچھ حاصل کیا۔ جو لوگ دوسرے محاذوں پر کامیاب ہوئے انہوں نے بھی کمال صبر کا مظاہرہ کیا. اسی طرح روحانی طور پر ہم اِدھر دعا مانگتے ہیں اور ادھر چاہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اپنے مقرب بندوں میں شامل کرلے جب کہ اس کے لئے بھی طویل وقت اور محنت کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیں کام وہی کریں جس کا تجربہ ہے، پیسہ لگائیں، محنت کریں، کم منافع پر پریشان نہ ہوں، صبر سے کام لیں اور اپنی غلطیوں سے سیکھیں، کبھی نہ سوچیں کہ غلطیاں کیوں ہوئیں؟ انسان غلطیوں سے سیکھ کر اپنے معاملات ٹھیک کرتا ہے اور دوسروں کے لئے مثال بنتا ہے۔

اسی طرح دعا کی قبولیت کے لئے ٹارگٹ اپنے پاس نہیں، اللہ کے پاس رہنے دیں۔ سچے دل سے دعا کرتے رہیں، واپسی جواب ضرور ملے گا، مگر صبر کے بعد۔ اس لئے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ یہ بھلا کیسے ممکن ہے کہ اللہ کا وعدہ پورا نہ ہو تیسری رکاوٹ ناکامی کا خوف ہے۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ کام کیا تو ناکام ہوجائیں گے۔ ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ کامیاب ہوگیا تو کیا ہوگا؟ خوف دراصل توکل سے دوری ہے۔ قسمت اور حالات انہی کا ساتھ دیتے ہیں جو اس گمان کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں کہ کامیاب ہونا ہے۔ شاندار منصوبہ بندی کرتے ہیں، بہترین انداز میں عمل درآمد کرتے ہیں، بھرپور محنت کرتے ہیں۔ یاد رکھیں! خوف صلاحیتوں کا قاتل ہے اور ہم یہ کام اپنے ہاتھوں سے خود کرتے ہیں حالانکہ کامیابی کے لئے خطرات سے کھیلنا پڑتا ہے۔ خطرات مول لینے والے ہی کامیاب ٹھہرتے ہیں۔ کامیابی میں رسک فیکٹر ضروری ہیجب ہم کھیلنے کے لئے میدان میں اترے ہی نہیں تو جیت کیسی؟ یا میدان میں اترے اور  ہار کا خوف رہا تو ہار ہی مقدر ہوگی چوتھی رکاوٹ مقصد کا واضح نہ ہونا ہے۔ ہم زندگی بھر غیر حقیقی مقاصد کے حصول میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ انسان ہر کام کرسکتا ہے جو اس میں کرنے کی صلاحیت ہے۔ اللہ تعالی نے ہر انسان کو مختلف شکل، ذہن، فکر اور صلاحیت کے ساتھ دنیا میں بھیجا اور اللہ تعالی انسان کو دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوتا دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے لئے اللہ تعالی نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے اپنے احکامات بھیجے جو دراصل کامیابی کے ہی راستے ہیں۔ قرآن پاک اس سلسلے میں بہترین مثال ہے جو ہمیں غوروفکر کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ہم دوسروں کو دیکھ کر ان جیسا ہونا چاہتے ہیں حالانکہ ہمیں دوسروں جیسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے، ان سے منفرد ہونا چاہئے۔ اسی کا نام ورائٹی ہے، اسی کا نام زندگی کا مقصد ہے۔ اپنی زندگی میں مقصد واضح کریں اور پھر اس میں جت جائیں، کامیابی ضرور ملے گی۔

پانچویں رکاوٹ مستقل مزاجی کی کمی ہے۔ ہمارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے کامیاب ترین انسان اسی لئے بن سکے کہ تمام تر رکاوٹوں، مشکلات ومصائب کے باوجود مستقل مزاجی سے اپنے مشن پر ڈٹے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکی زندگی میں کیا کیا مشکلات نہیں آئیں مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ صرف خود پیکرِ ہمت و استقلال بنے رہے بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی اس کا سبق دیا. مدنی زندگی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکہ میں مستقل مزاجی کا پھل تھا جو اللہ نے عطا کیا. خرگوش اور کچھوے کی کہانی بھی دراصل مستقل مزاجی کی کہانی ہے۔ کچھوا اس لئے کامیاب ٹھہرا کہ اس نے مستقل مزاجی سے اپنی حرکت جاری رکھی۔ ہمیں بد دل ہوکر کوئی بھی کام چھوڑنا نہیں چاہئے۔ نئی دنیا صرف وہ بناسکے جو اپنے مقصد کے ساتھ چمٹے رہے. بد دلی سے کام کرنے والوں کی منزل اچھی نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ بھٹکتے رہتے ہیں۔

یہ پانچ فیکٹرز ہر اس شخص پر لاگو ہوتے ہیں جو اپنے متعلقہ شعبہ میں کامیاب ہونا چاہتا ہے. وہ جاب کرتا ہے یا بزنس، وہ سیاست دان ہے یا سیاست میں آنا چاہتا ہے، وہ استاد ہے یا طالب علم، وہ چھوٹا ہے یا بڑا ان فیکٹرز کو ٹارگٹ کرلے تودنیاوی اور روحانی کامیابی اس کو ضرور ملے گی۔

مزید :

رائے -کالم -