طلباء کے امتحانات اور بین الصوبائی تعلیمی کانفرنس کے فیصلے

طلباء کے امتحانات اور بین الصوبائی تعلیمی کانفرنس کے فیصلے
طلباء کے امتحانات اور بین الصوبائی تعلیمی کانفرنس کے فیصلے

  

کورونا وبا کے سبب جتنا نقصان طلباء کا ہوا ہے شائد کسی اور شعبہ کا نہ ہوا ہو مارچ کے وسط میں تعلیمی ادارے اس وقت بند کر دئیے گئے جب پہلی جماعت سے آٹھویں اور میڑک،انٹرمیڈیٹ کے امتحانات سر پر تھے پھر بورڈز کے امتحانات ملتوی ہونے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد طلبا نے امتحانات کی تیاری کرنی چھوڑ دی اور دیگر غیر نصابی سر گرمیوں میں مصروف ہوگئے پچھلے سال 2020 میں بغیر امتحانات کے طلباء کو پرو موٹ کر دیا گیا اور جس فارمولہ سے پروموٹ کیا گیا اس سے ذہین طلباء کا بہت تعلیمی نقصان ہوا۔

یہ فیصلہ راجہ رنجیت سنگھ کے ریاستی امور کی عکاسی کرتا ہے کہ جتنے مارکس طلبا فزکس کیمسٹری بیالوجی میں حاصل کریں گے اسی تناسب سے نمبر اختیاری مضامین میں لگنے ہیں اور نویں دسویں امتحانات میں بھی اسی فارمولہ پر عمل ہونا ہے اور پچھلے سال نویں اور گیارہویں کے طلبا جو اب دسویں اور بارہویں جماعتوں کے امتحانات دیں گے جتنے نمبر حاصل کرتے ہیں اتنے نمبر ان کو نویں اور گیارہویں کے لگا دیئے جانے ہیں اس سے ایک تو طلبا کا میڈیکل اور انجینئرنگ کے علاوہ دیگر پروفیشنل اداروں میں داخلہ میں میرٹ پر اثرہو گا پھر پریکٹیکل نمبر بھی فزکس کیمسڑی بیالوجی کے تناسب کے حساب سے ہونے ہیں۔

 نویں دسویں کا امتحان صرف اختیاری چار مضامین کا ہوگا،باقیکاامتحان نہیں ہوگا، دسویں بارہویں کے امتحانات کے بعد نویں اور گیارہویں جماعت کے امتحانات ہوں گے. سکول بند ہونے کے باعث  طلباء کا کورس ورک مکمل نہیں ہوسکا، طلباء کی یہ شکایت درست ہے، اسی سلسلے میں ہم نے کئی ماہ قبل فیصلہ کیا کہ جس کے تحت سلیبس  40 فیصد کم کردیا تھا،فیصلہ کیا ہے کہ نویں دسویں کا امتحان اختیاری مضامین میں ہوگا، اور چار مضامین کا ہوگا۔ باقی میں نہیں ہوگا، گیارہویں بارہویں کا امتحان صرف تین مضامین کا ہو گا۔ امتحانات، تعلیمی اداروں کی بندش اور اوپننگ سے متعلق سارے فیصلے بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں متفقہ طور پرہوئے ہیں۔

 امتحانات بھی 10 جولائی کے بعد شروع ہوں گے۔ دسویں بارہویں کے امتحانات پہلے اور نویں گیارہویں جماعت کے بعد میں ہوں گے۔ نویں اور دسویں کے طلبا  آسانی کے لئے صرف اختیاری مضامین اور ریاضی کے پیپر دیں گے، اور پریکٹیکل و باقی مضامین کے امتحانات نہیں ہوں گے، جب کہ گیارہویں اور بارہویں کے بھی امتحانات صرف اختیاری مضامین میں لئے جائیں گے، جب کہ ستمبر کے تیسرے ہفتے تک تمام امتحانات کے نتائج آجائیں گے۔

تعلیمی بین الصوبائی کانفربس میں جو فیصلے کئے گئے ہیں وہ کمزور ہیں اس سے طلباء کا مستقبل داؤ  پہ لگ گیا ہے پھر میڑک اور انٹر کا سلیبس بھی کم ہے جبکہ پہلی تا آٹھویں کے امتحانات جو مارچ میں کم کرونا کی صورت حال میں لئے جاسکتے تھے اب جون میں لئے جا رہے ہیں ان بچوں کا تعلیمی سال بھی اب 16 ماہ کا ہو گیا ہے نجی تعلیمی اداروں نے کرونا میں بچوں کی فیسیں بھی کم نہیں کی ہیں اور نہ ہی ان نجی تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسوں کا اہتمام کیا، جس سے چھوٹی کلاسوں کے طلبا کا بھی بہت نقصان ہوا ہے حکومت کو فیسوں میں 40 فصید کمی کا نوٹیفیکیشن جاری کرنا چاہیے۔

 اب میڑک اور انٹر کے امتحانات کے زرلٹ کے بعد جن طلبا نے میڈیکل اور انجینئرنگ میں جانا ہے ان کا بھی آدھا سال ضائع ہوتا نظر آتا ہے اسی طرح پہلی سے آٹھویں چماعت کا 2022 کا تعلیمی سال بھی لمبا ہو گا اور اس کا بوجھ بھی فیسوں کی شکل میں والدین پر براہ راست پڑے گا، ذہین طلبا کے مجموعی نمبر بھی اثر انداز ہوں گے کیونکہ بعض طلبا فرسٹ ائر میں کم اور سیکنڈائر میں زیادہ نمبر لے جاتے ہیں اسی طرح نویں اور دسویں جماعت کے طلباء کی بھی نمبروں کے حوالہ سے یہی صورت حال ہوتی ہے میڈیکل اور انجینئرنگ کا میرٹ بھی اس طرح 5 سے 8 فیصد تک اوپر چلا جائے گا،تجزیاتی انداز سے اگر دیکھا جاے تو اس سسٹم میں مجموعی طور پر طلباء کو نقصان ہی نقصان ہے اگر آئندہ کرونا رہا تو ایسی حکومت کو کمزور پالیسیوں پر نظر ثانی کر لینی چاجیں۔

مزید :

رائے -کالم -