اب کرکٹ ہاکی سے بھی گئی گزری ہو گئی

اب کرکٹ ہاکی سے بھی گئی گزری ہو گئی
اب کرکٹ ہاکی سے بھی گئی گزری ہو گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 یہ مہینہ بجٹ کا ہے اور خیال تھا کہ اس حوالے سے ہی کچھ لکھا جائے، بزرگ شہریوں کا اصرار ہے کہ ای او بی آئی پنشن کے حوالے سے وفاقی حکومت کو یاد کرایا جائے،ارادہ بھی تھا لیکن گزشتہ شب جو نیند خراب کی اور اپنی توقع کے مطابق نتیجہ بھی دیکھ لیا اس کے باوجود یکہ میں اور میرے جیسے ہزاروں پاکستانی دعا بھی کر رہے تھے لیکن مثال ہے ”بھیڈو کی کرے جے پنوں ای نہ لڑے“ مقصد یہ کہ اگر آپ خود ہمت اور کوشش نہ کریں تو آپ کی جگہ کوئی دوسرا تو کچھ نہیں کر سکتا، ایسا ہی کچھ حال ہماری کرکٹ ٹیم کا بھی ہوا ہے کہ سابق چیئرمین کوئی ایسا منتر پھونک گئے ہیں کہ ٹیم سنبھل ہی نہیں پا رہی، میں نے آئرلینڈ اور انگلینڈ سے ہونے والی سیریز کے نتائج اور کھیل دیکھ کر اخذ کیا تھا کہ اب ان تلوں میں تیل نہیں رہا اور یہ ٹیم جلد ہی وطن واپس لوٹ آئے گی کہ ٹیم میں اب جیت کا جذبہ ہی نہیں رہا اور شوگر ملز والے چیئرمین برملا گروپنگ کا ذکر کرتے نوجوانوں کے اختلافات کو ہوا دے گئے تھے اس کے بعد ممکن نہیں تھا کہ ٹیم میں یکسوئی اور جذبہ پیدا ہواور وہ میدان میں جم کر مقابلہ کرے، وہی ہوا کہ یہ ٹیم اب دنیا کی نوزائیدہ کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہو گئی اور کارکردگی کے لحاظ سے بھی یہ ظاہر ہوتا اور پورا خدشہ ہے کہ شاہین کل نیویارک گراؤنڈ میں بھی مایوس کریں گے۔

حالیہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے دورے ہی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ شاداب خان کی قیادت میں ایک گروپ بابراعظم کے دوبارہ کپتان بن جانے کی وجہ سے خوش اور مطمئن نہیں اور اس گروپ کے کھلاڑی مایوس ہو کر یا پھر جان بوجھ کر اچھا نہیں کھیلتے کہ اس ٹی 20عالمی کرکٹ، ٹورنامنٹ میں بھی شکست ہوگی تو سارا بوجھ بابراعظم پر منتقل ہوگا اور اسے پھر سے ٹیم کی قیادت چھوڑنا ہوگی۔

یہ نفسیاتی مسئلہ بھی ہے کہ محترم نے شاہین آفریدی پر اعتماد کرکے اسے کپتان بنا دیا تھا لیکن جب موجودہ چیئرمین بابراعظم کی کارکردگی سے متاثر اور اسے چاہنے والے نکلے تو ان کی پھر سے سنی گئی اور ان کو ون ڈے اور ٹی 20کا کپتان بنا دیا گیا، یہ قدرت امر ہے کہ جس کھلاڑی کو آپ اعتماد سے لائیں اور پھر اسی پر بداعتمادی بھی ظاہر کر دیں تو وہ یقینی طور پر مایوس ہوگا اور ڈیپریشن محسوس کرے گا سو شاہین آفریدی کے ساتھ یہ ہوا تو اسے بھی صدمہ ضرور ہوا ہوگا اگرچہ اس نے حوصلہ دکھایا اور کہا کہ بابراعظم کی حمائت کریں گے لیکن کہنا کچھ اور بات اور کچھ کرنا اور بات ہے حالیہ دوروں اور اب ورلڈکپ کے شروع ہونے پر بھی اگر شاہین آفریدی کا ردھم نہیں بن رہا تو اِس میں اُس کا اپنا کیا قصور،ابھی تک شاید ڈیپریشن سے ہی نہیں نکل پایا، اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ محترم ذکاء اشرف (سابق چیئرمین بورڈ) نے دبئی میں ٹیم کے سامنے کہا کہ گروہ بندی ہے اسے فوری طور پر ختم کریں ورنہ ٹیم کی کارکردگی بہتر نہ ہو سکے گی اس کے ساتھ ان کے الزامات میں ڈھکے چھپے الفاظ میں کھلاڑی کو فکسنگ کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ یوں یہ بگاڑ وہاں سے شروع ہوا اور بعد میں معززین کی بھرپور مخالفت اور ضد کی وجہ سے تبدیلی تو لائی گئی لیکن یہ محدود ہو گئی ہے اور ”غرض مند حضرات“ نے اسے حرزجاں بنا لیا اور اب کوشش یہ ہے کہ ایسے لوگ سامنے آئیں جو بورڈ کی سرکاری خواہشات پر مبنی پریشانی سے آگاہ کریں یہ سب بعد از مرگ واویلا والی بات ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ ٹیم میں گروہ بندی رضاکارانہ طور پر ختم کرکے مفاہمت کے راستے پر چلنا چاہیے، ورنہ یہی کچھ ہوگا جو اب ہو رہا ہے اب اگرامریکہ اور پاکستان کرکٹ کے میچ کی بات کی جائے تو امریکی ٹیم والے بہت ہی پر اعتماد تھے۔ امریکی ٹیم کسی بھی لحاظ سے نو آموز اور نوزائیدہ نظر نہیں آئی۔ اس ٹیم کے کھلاڑیوں نے کھیل کے تینوں شعبوں باؤلنگ، بیٹنگ اور فیلڈ میں بھی پاک ٹیم کو چت کر دیا۔ پاکستان ٹیم کا کوئی بھی کھلاڑی جم کر باؤلنگ کے لحاظ سے نہ کھیلا، خود بابراعظم نے بگڑے حالات میں ایک اینڈ سنبھالنے والی کرکٹ کھیلی، لیکن دوسری طرف سے کھلاڑی آؤٹ ہوتے چلے گئے اور پھر خود بابراعظم کو ہمت کرنا پڑی لیکن اسے خود کو مایوسی ہوئی کہ ایک اینڈ روکنے کی وجہ سے وہ تیز سکور نہ کر سکا اور جب ایسا کرنا چاہا تو وقت نے ساتھ نہ دیا۔

چلیں مان لیتے ہیں کہ شاہین اتنا لڑے، اتنا لڑے کہ بات سپراوور پر چلی گئی اور یہ سپر اوور شاہینوں کے لئے پروانہ ثاب ہوا، محمد عامر بہتر گیندیں کرکے پھر کنٹرول نہ کر سکے، وائیڈ بال کرنے کے علاوہ بلاک ہول میں باؤلنگ نہ کر سکے اور اس کے بعد آخر میں چوکا بھی کھا لیا، دوسری طرف افتخار احمد پر زیادہ بھروسہ کرکے اس کے ساتھ فخر کو کھیلنے کے لئے بھیجا جو ایک بھی گیند کھیلے بغیر واپس آ گیا یوں یہ سپراوور امریکی ٹیم ہی کے لئے سوپر بن گیا اور وہ جیت گئی۔ اول تو فخر کے ساتھ افتخار کو بھیجنا ہی درست نہیں تھا اور اگر یہ سوچا گیا تھا تو ابتداء فخر سے کرائی جاتی، اس کے علاوہ یہ زیادہ بہتر ہوتا کہ فخر کے ساتھ عثمان خان کو بھیجا جاتا اور محمد عامر کی بجائے نسیم شاہ اوور کرتے کہ نسیم شاہ نے میچ میں بہت کم سکور دے کر وکٹ حاصل کی تھی، اب تو نہیں لگتا کہ کل بھرپور سٹیڈیم کے سامنے شاہین، بھارت کے خلاف اپنی پرانی کارکردگی دکھا سکیں اور یہی وہ غم ہے جو اندر اندر سلگتا رہتا ہے۔ اب ضرورت ایک بڑے اوورہال کی ہو گئی اور ان سب کھلاڑیوں کو ٹیم سے نکالنا ہوگا جو جان بوجھ کر سازش کے تحت گڑبڑ کرتے ہیں۔افسوس تو یہ ہے کہ اعظم خان کی بری کارکردگی کے باوجود اُسے ٹیم میں شامل کیا گیا۔ وہ پھر صفر لے آیا کہ اس میں فٹ ورک کی کوئی بات نہیں،وہ کھڑے کھڑے چیونگم کھاتا کھیلتا اور ایسے ہی واپس آ جاتا ہے،اتنا ہی پیارا ہے تو اُسے اوپننگ بلے باز بنا لیں۔

مزید :

رائے -کالم -