انفرادی و اجتماعی مجرمانہ خاموشیاں 

انفرادی و اجتماعی مجرمانہ خاموشیاں 
انفرادی و اجتماعی مجرمانہ خاموشیاں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 بطو ر مسلمان ہمیں روزانہ کی بنیاد پر اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ہم اپنی سمت سفر کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ ایک کلمہ گو کی حیثیت سے ہمارے شب و روز اور احوال و اعمال کی کچھ حدودو قیود ہیں اور یہی وہ ذمہ داری ہے جو دائرہ ایمان میں داخل ہونیکے بعد شریعت ہم پر لاگو کرتی ہے۔ جانے کیوں لگتا ہے کہ ہم نے اعمال کے محاسبہ، انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں اور ایمانی حدودوقیود سے نظریں چرا کر سراسر دھوکہ دہی میں خود کو مبتلا کر رکھا ہے، جس پر قرآن کریم کی آیات بار بار ہماری توجہ مبذول کروا رہی ہیں۔ قرآن حکیم کی تعلیمات اور احکامات کے تناظر میں اپنے گرد وپیش اور احوال پر نظر دوڑائیں تو خوف آنے لگتا ہے کہ ہم احکامات الٰہی اور پیغام رسالتؐ  سے چشم پوشی کے مرتکب ہو کر آخر دھوکہ دہی کے کس مدار میں سفر کر رہے ہیں۔ سورہئ توبہ کی آیت  111 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ”بے شک اللہ نے اہل ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال و جان جنت کے عوض خرید لیے ہیں“۔ اس آیت کی روشنی میں  دیکھیں تو ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر انہی دو چیزوں کی محبت میں شب و روز گرفتار ہیں۔ ہر کوئی خواہش کثرت اموال اور اپنی جان بچانے کی فکر میں کوشاں ہے۔ مال اور جان کی محبت دراصل ایک دوسرے سے باہم پیوستہ ہے۔ مال بنانے اور جمع کرنے کی ہوس میں مبتلا انسان کو  سب سے پہلے جان کی فکر  لاحق ہوتی ہے اور مزے کی بات کہ دونوں چیزوں کو ہی کسی صورت دوام حاصل نہیں۔ اللہ نے ہم سے دائمی راحت  اور نعمتوں کا وعدہ کیا ہماری ان چیزوں کے عوض جو  ہر صورت فنا ہوجانے والی ہیں  اور ہم نے فانی اشیاء اور ذات کی محبت میں اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔فلسطین میں جاری  بربریت، نسل کشی اور انسانیت سوز مظالم کی ایک داستان رقم ہو چکی، مگر مال اور جان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ستاون اسلامی ممالک کے سربراہان اور ذمہ داران اس سے مجرمانہ چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس نے  ہماری ایمانی غیرت کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا ہے۔یہ ستاون اسلامی ممالک نہیں،بلکہ زمین پر بکھرے ہوئے بے دست و پا الگ الگ ٹکڑے ہیں، جن کو اپنے اپنے وقت پر ایسی ہی صورتحال پیش آنے کے واضح اشارے دکھائی دے رہے ہیں۔ اسلامی دنیا کے حکمرانوں کی ترجیحات مغربی اقوام کی خوشنودی کا حصول ہے، جن کے سبب ان کے اقتدار اور دولتیں محفوظ ر ہیں اور وہ کسی بھی صورت کوئی موہوم سی آواز اٹھا کر بھی جان، مال اور اقتدار کو گرم ہوا نہیں لگوانا چاہتے۔ عرب دنیا اسی مال میں اضافے کے لئے اپنی سرزمینوں پر بڑے بڑے بت خانے خود تعمیر کر رہی ہے کہ دولت کے انبار اکٹھے ہو سکیں اور ان کے پنڈت بتوں کو اٹھائے جہازوں سے اتر کر خطہ عرب کو شرک کی آماجگاہ بنا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں عالم اسلام کی واحد موثر آواز ترکیہ کا خاموش ہونا بھی بہت سے سوالیہ نشان اُٹھا رہا ہے یا وہ بھی اپنی تنہائی کے سبب چپ کا لبادہ اوڑھنے میں ہی عافیت محسوس کر رہا ہے۔ دوسری طرف ہماری ایمانی قوت کے مرکز و محور منبر و محراب بھی خوابیدہ ہیں اور ان کے ہاں سے بھی اس ظلم پر کوئی آواز اٹھتی دکھائی نہیں دے رہی۔ہماری ذہنی فکری مذہبی اور ایمانی  تربیت کے مراکز بھی اسی مال اور ان کے تحفظ اور مسلکی اور فرقہ وارانہ مباحث میں اپنی صلاحیتوں کو صرف کرنے میں لگے ہیں۔ قد آورمفتیان کرام کی طرف سے کسی احتجاج کی صدا تک بلند کرنے کا کوئی حکم نامہ جاری نہیں ہو سکا اور یہ ان صاحبان علم کے وارثان ہیں، جن کو کالے پانی کی سزائیں اور تختہئ  دار تک لیجایا جاتا رہا۔ مشائخ کی طرف نظر دوڑائیں تو وہاں بھی اپنی گدیوں کی حفاظت اور اپنے حلقہ ئ ارادت میں صاحبان مال کی شمولیت کے گرد ہی ساری مسند گھومتی دکھائی دیتی ہے، جبکہ ان سلاسل کے بزرگوں کی تاریخ کلمتہ اللہ کے احیاء اور ظلم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوا ر بن کر کھڑے ہونے سے عبارت ہے۔آج کل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اور اس میں دن رات خود ساختہ بڑے بڑے موٹی ویشنل سپیکرز نے خوب ترقی کی ہے اور ان کے موضوعات دیکھیں تو وہاں بھی کہیں فلسطینی بچوں، عورتوں اور نہتے معصوم شہریوں کی ان گنت ہلاکتوں کا موضوع دکھائی نہیں دے گا کہ سب نے سوشل میڈیا سے مال ہی کمانا ہے۔ ہمارا صحافتی قلم بھی حکومتی  پالیسیز کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اور الیکٹرانک میڈیا کی بات کریں تو  وہ عرصہ دراز سے غیر اہم موضوعات کو دن رات اچھالنے کے لئے وقف کر دیا گیا ہے۔ ہماری شاعری  اس اندوہناکی میں بھی زلف و رخسار کی رنگینیوں کے سحر سے ہی باہر نکل نہیں پائی کہ ان کے نزدیک مشاعرہ میں داد اہمیت کی حامل ہے نہ کہ کٹے پھٹے معصوم نرم و گداز جسموں کو اپنی اہم شاعری کا موضوع بنائیں، جس کو کوئی سننے کے لئے بھی تیار نہ ہو۔ سلام ہے ان غیر مسلم طلبا کو جو اپنی اپنی یونیورسٹیوں میں فلسطینیوں کے لئے آواز بلند کر رہے ہیں اور ہمارے ہاں تو  میچوں کے دوران محض اظہارِ یکجہتی کے لئیان کا پرچم لہرانے کی بھی اجازت نہیں تھی جس سے ہماری سیاسی قیادتوں کے وڑن کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ پیغمبر اعظم کے اس فرمان کو سامنے رکھتے اپنے ایمان کا انفرادی و اجتماعی جائزہ ضرور لینا چاہئے کہ ”مسلمان ایک جسد واحد کی مانند ہیں جس کے ایک حصے کو تکلیف پہنچے کو سارا جسم درد میں مبتلا ہو جاتا ہے“۔ اس ارشاد کے تناظر میں ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی ”مجرمانہ خاموشی“  اور اس کے تناظرات کو بخوبی جان اور سمجھ سکتا ہے۔  

مزید :

رائے -کالم -