مدینہ اکنامکس

 مدینہ اکنامکس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 اللہ والوں کا فرماناہے کہ ”سفر وسیلہ ظفر ہوتے ہیں، ماسوائے چندایسے جو سوئے دار،کوئے یار،بسلسلہ روزگار، بیمار کی تیمار،یتیم کی سہار اور علم کی بسیارسے پرے، کسی  غیر اخلاقی، غیر قانونی یا غیرانسانی نیت سے اختیار کیے جاتے ہیں۔ مبارک سفروہ ہوتاہے جو مخلوق کی خدمت یا حصول علم نافع کی خاطر اختیار کیا جائے“۔ 

اسلام مکمل دین ہے، اور ”معاش“ ہماری زندگی کا جزولاینفک۔ کیا اسلام کا کوئی معاشی نظام ہے؟ یا اسلام کسی معاشی نظام کے بغیرہے؟ اس سوال کا جواب ماڈرن تقاضوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک بندے سابق بینکر محمد منیر احمدسے ”مدینہ اکنامکس“جیسی کتاب کی شکل میں لیا۔ انسانی زندگی میں ”اکنامکس“بہت اہم پہلو ہے۔ مگر جو اسلام اکثر ہمیں بتایاجاتاہے، وہ تقریباً ایمانیات اور اخلاقیات پرمشتمل ہوتاہے، توپھرکیا دین اسلام کسی معاشی نظام کے بغیرہے؟ 

ساتویں صدی عیسوی میں رومی اورایرانی حکومتوں کی مسلمانوں کے ہاتھوں شکست کے بعد ایک بہت بڑاعلاقہ اسلامی حکومت میں شامل ہوا، جوچین کی سرحدسے لے کر سپین تک پھیلاہواتھا۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ تمام زمینی وبحری تجارت مسلمانوں کے قبضے میں تھی۔غالباً یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ”اکنامک زون“ تھا، جواسلامی حکومت کے زیر کنٹرول تھا۔ اسلامی تہذیب ساتویں صدی عیسوی سے لے کر گیارہویں صدی عیسوی تک پوری دنیا میں چھائی رہی۔ ان 500سالوں میں اسلامی دنیا کے سکے بطور "Reserve" کرنسی اور ”عربی زبان“ساری دنیا کی تجارت میں نافذ تھی۔ یہاں پراہم پوائٹ ہمارے ذہن کی سکرین پرابھررہاہے کہ اس عظیم اوروسیع سلطنت کا معاشی نظام کیاتھا؟ کیا اسلام نے کوئی نیامعاشی نظام عطاء کیا؟ یاپہلے سے مروجہ”ایران“ اور ”روم“کے معاشی نظریات سے ہی کام چلایاگیا۔ 

جب سرکارؐ نے مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی، تومدینہ منورہ کی معاشیات پر یہودی قابض تھے، کیا سرکارؐ نے کوئی نئی مارکیٹ بنائی یا یہودیوں کے نظام کو Adopt کیا گیا؟ بہت سارے لوگوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ”اکنامکس“کے حوالے سے ان پانچ صدیوں میں کچھ نہیں ہوا، Five Lost Centuries ہیں۔ یہ دراصل ان لوگوں کی کوتاہ نظری ہے۔ 

جانتا ہوں میں یہ امت حامل قرآں نہیں 

ہے وہی سرمایہ داری بندہ مومن کا دیں 

2003ء میں ایک مردحر امریکن پروفیسر ایس ایم غضنفرنے پہلی بار ”اسلامی معاشی نظام،قرون وسطیٰ میں“ کے متعلق بات کی، اورسرمایہ داری نظام کے ارباب حل وعقدکی ”منجی ٹھوک“ دی۔ 2002ء کے کارپوریٹ سکینڈل اور 2008ء کے مالیاتی بحران نے سرمایہ داری نظام کے بت کوپاش پاش کرکے رکھ دیا۔ 2011ء میں ملائیشیاکے ڈاکٹر ”مورات سی ذاکا“نے اسلامی سرمایہ داری کے نام سے بہت خوبصورت کتاب لکھی، جس میں مدینہ میں قائم کی جانی والی اسلامی مارکیٹ کواجاگرکیاگیا، اوریوں آشفتہ حالی میں کافی کمی ہوئی۔

بقول اقبال ”پاسباں مل گئے کعبہ کوصنم خانے سے“، 2014میں جرمن سکالرBenedict Koehlorنے تمام رازوں سے گویاپردہ اٹھادیا۔ism Early Islam & Birth of Capitalکے عنوان سے کتاب لکھی، اس کتاب میں یہ دعویٰ کیاگیاکہ سرکاردوعالم ؐ دراصل انسانیت کے پہلے اکانومسٹ تھے۔ 

ابھی تک حضرت انسان کا واسطہ تین معاشی نظاموں سے پڑاہے، مدینہ اکنامکس، سرمایہ داری اور اشتراکیت (Communism)۔بلاشبہ سرمایہ داری دنیا کاجدیدترین معاشی نظام سمجھاجاتاہے، جوعزت وتوقیراسے ملی وہ دوسرے دونظاموں کو نہیں ملی، لوگوں نے بہ سرو چشم تسلیم کیا۔ لیکن پچھلے چندسالوں سے یہ نظام ڈوب رہاہے، قہر درویش برجان درویش کے مصداق۔ ان حالات میں "مدینہ اکنامکس" بہترین آپشن ہوسکتی ہے۔ یہ پوائنٹ دھیان میں رکھ لیں سرکارؐ کی مکی زندگی کے دوران ہی معاشیات کے مختلف موضوعات مثلاً زکوۃ و صدقات (Charity) اور ارتقاز زر کے بارے میں قرآنی احکامات کانزول ہوچکاتھا اور "سود" ناپسندیدہ قراردیاجاچکاتھا۔ مدینہ منورہ میں معاشی نظام کا آغاز ایک نئی مارکیٹ سے ہوا جووقت کے ساتھ ساتھ پختہ ترہوتاگیا۔ 

712ء میں عباسیوں نے جب بغداد کو "دارالخلافہ" بنایا، جو100سال کے بعد دنیا کاسب سے بڑاشہربن گیا۔ دسویں صدی عیسوی میں بغدادکی آبادی 5لاکھ افرادپرمشتمل تھی،جبکہ بصرہ میں 2لاکھ لوگ آبادتھے۔ اس کے برعکس گیارہویں صدی میں لندن کی آبادی 20ہزار نفوس سے کم تھی۔ ناصرف سپین اورجنوبی افریقہ کے اسلامی شہر، بارہویں صدی کے یورپی شہروں سے نفاست اوردیکھ بھال میں بہتر تھے، بلکہ یورپی سکالروریاضی دان اپنی ذہنی ترقی کے لئے مسلمانوں کی طرف دیکھتے تھے۔ یہی صورتحال یورپی تاجروں کی تھی۔ عربوں کی تجارتی مہارت کے باعث بغداد میں ایک مکمل "بینکنگ مارکیٹ" وجود میں آئی، "سفتاجہ" کے ذریعے رقوم ٹرانسفرہوتی تھیں۔ یورپ کے برعکس اسلامی دنیا میں "تجارت"ہمیشہ سے ہی پسندیدہ پروفیشن رہاہے۔ بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں اسلامی بینکوں نے نفع ونقصان کی بنیاد پر "مالیاتی ثالثی" کاتصورپیش کیا۔ مالیاتی ثالثی کی یہ شکل اہل مغرب کے لئے بڑی عجیب وغریب تھی۔ ہر 50/60سال بعد بینک کرائسزکاشکارہوجاتے ہیں۔ بینکاری کی 500سالہ تاریخ میں ایسا ہی ہوتاآیاہے۔ 

"مدینہ اکنامکس"تین بلڈنگ بلاک پرمشتمل ہے۔ اول، مارکیٹ کا قیام اوراس کی اصلاحات۔ دوم، سچا تاجراورسچی تجارت کاظہوراور سوم سودکاخاتمہ۔ سرکارؐ نے اسی ترتیب سے مرحلہ وار اسلامی معاشی نظام کو ساتویں صدی کی ریاست مدینہ میں نافذ کرکے انقلاب برپا کیا تھا۔ پچھلے 76سالوں میں اسلامی معاشی نظام کے سلسلے میں پاکستان میں ہم نے بڑی ڈھٹائی سے روحانی بددیانتی(Spiritual Dishonesty)کامظاہرکیاہے۔ وطن عزیز میں تمام طبقات کی طرف سے اللہ اوررسولؐ کے نظام کی باتیں توبہت ہوئی ہیں، مگرعملی طورپرکام بہت کم ہواہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -