امریکہ سے ہار، پپو نہ کر یار

امریکہ سے ہار، پپو نہ کر یار
امریکہ سے ہار، پپو نہ کر یار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 کرکٹ کے حوالے سے کیا دیگر ممالک بھی ہم جیسے مسائل کا شکار ہیں۔ کرکٹ ایک مہارت کی گیم ہے، جس میں بلاشبہ فٹنس بھی اہم کردار ادا کرتی ہے، مگر کیا کسی اور ٹیم کو آرمی کے جوانوں جیسی ٹریننگ کسی ملک نے کرائی۔آج سے نہیں پچھلے کئی برسوں سے کرکٹ ٹیم تنازعات کا شکار رہی، کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کے الزامات بھی لگتے رہے اور کئی کھلاڑیوں کو آئی سی سی نے بین بھی کیا،صرف کرکٹ ٹیم ہی نہیں، کرکٹ بورڈ بھی سیاست کا اکھاڑہ بن کر رہ گیا۔اس کے چیئرمین کی پوسٹ اس قدر پُرکشش ہے کہ بڑے بڑوں کی رال ٹپکتی ہے لیکن ماجرا یہ ہے اس پر بھی کوئی پروفیشنل بندہ تعینات کرنے کی بجائے کبھی آصف علی زرداری اپنا پسندیدہ لے آتے ہیں اور کبھی نواز شریف اپنا منظورِ نظر تعینات کرتے ہیں۔عمران خان نے ایک کرکٹر رمیض راجہ کو چیئرمین تعینات کیا،مگر اُنہیں چلنے نہیں دیا گیا۔ اب محسن نقوی اس کے چیئرمین ہیں سوال یہ ہے اُنہیں کرکٹ کے معاملات کا کتنا تجربہ ہے؟ پھر اُن کے پاس کئی وزارتیں بھی ہیں،کیا پہلے کبھی ایسا ہوا ہے۔ کیا وہ کرکٹ کے امور پر اس طرح توجہ دے سکتے ہیں۔پھر وہ اپنی پنجاب کابینہ میں شامل وہاب ریاض کو کرکٹ بورڈ میں لے گئے ہیں، اُن کی پاکستان کرکٹ میں ایسی حیثیت تو نہیں رہی کہ ُانہیں سلیکٹر بنا دیا جائے۔یہ سب اقربہ پروری کی مثالیں ہیں خود ٹیم کے اندر واضح گروپ بندی نظر آتی ہے جب ہر کوئی کپتان بننا چاہتا ہو تو یہ کیسے ممکن ہے تمام کھلاڑی اُس کپتان کو کامیاب ہوتا دیکھیں، جو ٹیم کو لیڈ کر رہا ہے۔یہ سب کچھ سامنے کی باتیں ہیں مگر کوئی خفیہ ہاتھ ہے جو سب کچھ کئے جا رہا ہے۔ایک کھلاڑی محمد اعظم خان کی اب تک پرفارمنس بدترین رہی ہے،لیکن وہ ٹیم میں شامل ہوتا ہے اور صفر پر آؤٹ ہو کر واپس آ جاتا ہے اسے وکٹ کیپر کے طور پر لیجایا گیا، مگر اُس نے اہم مواقع پر کیچ چھوڑے اور پھر دوبارہ رضوان کی یاد آئی۔یہ تجربات ایسے اہم موقع پر کئے جب ورلڈکپ ہو رہا ہے بدترین حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دنیا بھر کی ٹیمیں کئی ماہ پہلے اپنی پلینگ الیون فائنل کر لیتی ہیں اور پھر سارا زور اُس کی پرفارمنس پر دیتی ہیں۔واحد ہماری ٹیم ہے، جس میں آخر تک تجربات جاری رہتے ہیں اور پسند نا پسند کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔

امریکہ جیسی نوآموز ٹیم سے جو پہلی بار ورلڈکپ میں حصہ لے رہی ہے پاکستان کا شکست کھا جانا ایسا واقعہ نہیں جسے آسانی سے ہضم کیا جا سکے اس ٹیم کے مقابلے میں پاکستانی ٹیم کی جو پرفارمنس رہی، وہ ہر شعبے میں ناکامی سے دوچار تھی۔ ایک کمزور ٹیم ہونے کے باوجود امریکہ نے پاکستان کو 159 رنز تک محدود رکھا۔یاد رہے کہ پاکستان ٹیم20 اوورز میں دو سو سے زائد رنز بھی بناتی رہی ہے۔ بابر اعظم جو ٹیم کے کپتان ہیں ایک بڑا سکور کرنے کی بجائے لمبی اننگز سمجھ کر کھیلتے رہے ایک موقع پر انہو نے21گیندوں پر صرف سات رنز بنائے تھے۔اگر کپتان ہی اننگز کا تیز ٹیمپو سیٹ نہیں کر سکتا تو باقی کھلاڑی کیسے کریں گے۔بابر اعظم کے بارے میں کرکٹ کے سابق کھلاڑی بارہا کہہ چکے ہیں وہ کپتانی کے بوجھ تلے دب گئے ہیں،جس سے اُن کی بیٹنگ بھی متاثر ہوئی ہے۔ دوسری طرف وہ اچھے کپتان بھی ثابت نہیں ہوئے۔امریکہ کے خلاف میچ میں ہی دیکھ لیں کہ انہوں نے آخری اوور حارث رؤف کو دیا، حالانکہ اُن کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود تھے، آخری اوور میں امریکہ نے15رنز بنانے تھے یہ ایک اچھا سکور ہوتا ہے جس کا دفاع کیا جا سکتا ہے،مگر حارث رؤف کی باؤلنگ نے امریکی کھلاڑیوں کو آسان مواقع فراہم کئے۔یوں میچ ٹائی ہو گیا اور معاملہ سپر اوور میں چلا گیا۔ جب پتہ ہے کہ چھ گیندوں میں زیادہ سے زیادہ سکور کرنا ہے تو پھر کھلاڑیوں کا انتخاب بھی درست ہونا چاہئے تھا۔ذرا سوچیں کہ امریکی کھلاڑی آخری اوور میں جبکہ اُن پر میچ  ہارنے کا دباؤ بھی تھا،15رنز سکور کر سکتے ہیں تو پاکستان کھلاڑیوں نے صرف13رنز کئے۔ سپر اوور میں 13رنز کا مطلب ہے آپ نے میچ ہار دیا ہے۔ جب آپ آخری اوور میں 15رنز کا دفاع نہیں کر سکے تھے تو سپر اوور میں 13 رنز کا کیسے دفاع کر سکتے تھے، سو امریکہ اس اوور میں 18سکور بنا کر فاتح ٹھہرا۔ یہ بجا طور پر ورلڈکپ کا سب سے بڑا اپ سیٹ ہے ایک نئی ٹیم نے منجھی ہوئی ٹیم کو شکست سے دوچار کر دیا اب بھارتی میڈیا پروپیگنڈہ کر رہا ہے سپر اوور جو عامر نے کرایا وہ مشکوک ہے، کیونکہ اُس میں وائٹ بالز کی تعداد حیران کن ہے،کوئی مانے یا نہ مانے ہمارے ہاں سیاست اور فیورٹ ازم نے ہر چیز کو برباد کر دیا ہے،جب انتظامی گرفت کمزور ہو تو اُس کے ٹیم پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔چیئرمین کرکٹ بورڈ جب کرکٹ کے معاملات سے یکسر نابلد ہو اور آگے ٹیم کا کپتان میرٹ پر فیصلے کرنے کی بجائے اپنی پسند کے مطابق ٹیم سلیکٹ کرنے لگے تو ٹیم کے کھلاڑیوں میں وہ جذبہ نہیں رہتا جو میچ جیتنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔

پاکستان کی ابتداء ہی ایک انہونی شکست سے ہوئی ہے آگے تو بہت مضبوط ٹیمیں ہیں یہ روایتی بیان دینا کہ مڈل آرڈر بیٹنگ ناکام ہو گئی یا باؤلنگ اٹیک موثر ثابت نہیں ہوا، صرف کمزور موقف کے زمرے میں آتا ہے۔ سوال یہ ہے مڈل آرڈر بیٹنگ یا باؤلنگ اٹیک کیوں ناکام ہوتا ہے، ساری قوم اگر صرف جسمانی فٹنس پر دی گئی ہے تو پھر بھاگ دوڑ میں یا وزن اٹھانے کے مقابلوں میں آپ کو حصہ لینا چاہئے۔ کرکٹ تو ایک مہارت کا کھیل ہے،کٹ پر جمے رہنا اور باؤلنگ کے ذریعے مخالف ٹیم کو زِچ کر دینا اِس کھیل کا بنیادی تقاضا ہے،خامیاں اور غلطیاں بھی سامنے آتی ہیں،مگر افسوسناک امر یہ ہے اُن کے مطابق اصلاح کی جاتی ہے،مگر ہمارا رویہ مختلف ہے۔ہر سطح پر گروپ بندی کو فوقیت حاصل ہوتی ہے اور ٹیم کے اندر اجتماعی سپرٹ ہی پیدا نہیں ہوتی جو فتح کے لئے ضروری ہے۔مجھے تو یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ جن کھلاڑیوں پر پوری قوم نظریں جمائے بیٹھی ہوتی ہے کہ وہ ملک کے لئے کھیلیں گے،اپنی اَنا اور گروپ بندی کو پسِ پشت ڈال دیں گے،وہ اپنے تنگ دائے سے باہر نہیں نکلتے۔ یہ بات بھی پیش ِ نظر رہے کہ جب بورڈ کے حکام نان پروفیشنل ہوتے ہیں تو کپتان کے آگے بے بس نظر آتے ہیں وہ جیسی بھی من مانی کرتا رہے بے چون و چرا اُسے تسلیم کرتے ہیں۔یہ سوچ کر کہ اگر کپتان کو ناراض کیا تو ہمارا بھرم کھل جائے گا۔اب تو یہ بات خواب و خیال نظر آتی ہے کہ ہم کبھی ورلڈ چیمپئن بھی رہے ہیں اِس وقت تو لالے اِس بات کے پڑے ہیں کہ اس ٹیم کے ساتھ ہم اگلے مرحلے میں کوالیفائی بھی کرتے ہیں یا نہیں۔

مزید :

رائے -کالم -