کچھ کیجئے ، ابھی بھی دیر نہیں ہوئی !!!

کچھ کیجئے ، ابھی بھی دیر نہیں ہوئی !!!

 ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ، اگر ہمارے ارباب بست و کشاد ہوش کے ناخن لیں اور ایک ایسے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پر آمادہ ہوجائیں ، جس نے پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے ، تو معاملات دوبارہ بہتری کی طرف جاسکتے ہیں۔ گزشتہ سات آٹھ سال سے ملک میں بجلی کے معاملات نے ایک مستقل نوعیت کی بحرانی کیفیت اختیار کرلی ہے۔ صورت حال میں بہتری آنے کی بجائے ابتری کا راج بڑھتا چلا جارہا ہے اور اب یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ خدانخواستہ معاملات اس نہج پر نہ پہنچ جائیں جہاں سے واپسی ہی ممکن نہ ہوسکے۔

1990ءکی دہائی میں مختلف بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خصوصاً عالمی بنک کے دباﺅ پر پاکستان میں بجلی کے شعبے کو ”فعال“ بنانے کے لئے نام نہاد اصلاحات متعارف کرانے کا عمل شروع کیا گیا اور ہماری تقدیر سے کھیلنے والے پالیسی ساز پاکستان کے ایک بڑے ادارے واپڈا کے حصے بخرے کرنے میں جُت گئے۔یہ اصلاحات نجانے کس ذہن کی اختراعات تھیں ، تاہم اُس وقت بھی آزاد اقتصادی ماہرین اور پانی و بجلی کے شعبے میں مہارت رکھنے والے افراد کا خیال تھا کہ یہ نسخہ بہتری کی بجائے ابتری لے کر آئے گا اور اس کے نتیجے میں ہم واپڈا جیسے قومی ادارے کو شدید طور پر متاثر کر بیٹھیں گے۔ توقعات اور اندازوں کے مطابق ہُوا بھی یہی۔ پہلے واپڈا کے پاور ونگ کو اس سے علیحدہ کیا گیا، پھر اس کے حصے بخرے کرنے کا عمل شروع کیا گیا ۔ تقسیم در تقسیم کے ذریعے ایک کے بعد ایک کمپنی بنائی گئی ، لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تینپات۔ نہ بہتری آنی تھی اور نہ ہی آئی، البتہ دو کام ضرور ہوئے ۔ ایک تو یہ کہ لوگوں میں کنفیوژن بڑھی اور دوسرا یہ کہ پاو رسیکٹرمیں بنائی گئی کمپنیوں کی ”خود مختاری“ کے باعث باہمی رابطے کا شدید فقدان پیدا ہوگیا۔ نہ یہ معلوم کہ بجلی کے موجودہ مسائل کون اور کس طورحل کرے اور نہ ہی مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کو تیار۔

بین الاقوامی اداروں کے دباﺅ پر پاور سیکٹر کے حصے بخرے کرنے کے کیا نتائج سامنے آئے یا مزید آسکتے ہیں ، ان کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ چند عام فہم سوال ہیں جن کے جواب کی کسوٹی پر واپڈا کی توڑ پھوڑ کو پرکھا جاسکتا ہے۔ کیا ایسا کرنے سے پاور سیکٹر کی کارکردگی میں بہتری آئی ؟ کیا ان نام نہاد اصلاحات کے نتیجے میں لوگوں کو بجلی کی فراہمی بہتر ہوئی ، لوڈشیڈنگ میں کمی آئی ، مستقبل کے لئے کوئی قابل عمل حکمت عملی سامنے آئی ، زیر تعمیر پراجیکٹس کی تکمیل کے لئے ان کمپنیوں یا واپڈا کے درمیان کوئی مو¿ثر رابطہ قائم رہ سکا ، بجلی مہنگی ہوئی یا اس کی قیمتوں میںاستحکام رہا ، لائن لاسز کے اہداف حاصل ہوئے ، بجلی چوری کی کیا صورت حال رہی ،بجلی بلوں کی مد میں وصولی کا تناسب بہتر ہوا یااس میں کمی آئی ، کہیں ہمارے مختلف منصوبے تاخیر یا تعطل کا شکار تو نہیں ہورہے ؟ یہ اور اس جیسے کئی سادہ سوال ہیں جن کے جواب ہمیں واپڈا کی توڑ پھوڑ اور پاور ونگ کے مزید حصے بخرے کرنے کے نتائج تک پہنچنے میں مدد دے سکتے ہیں ۔

حیرت اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ ان نام نہاد اصلاحات کو پاکستان میں نافذ کرتے ہوئے ارباب ِاختیار میں سے کسی نے بھی یہ ”نسخہ¿ کیمیا“ تجویز کرنے والے بین الاقوامی اداروں سے پوچھنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی کہ صاحبان آپ نے پاکستان کے پاور سیکٹر کو فعال بنانے کے لئے جو ماڈل تشکیل دیا ہے اور جس کے نفاذ پر آپ مُصر ہیں ، کیا یہ ماڈل دنیا کے کسی اور ملک میں بھی آزمایا گیا ہے اور اگر آزمایا گیا ہے تو اس کے نتائج کیا رہے ؟ اگر اس وقت یہ دریافت کر لیا جاتا تو شاید نوبت اس جگہ تک نہ پہنچتی ، جہاں آج پہنچ چکی ہے۔

اگر چہ صورتِ حال پریشان کن ہے اور بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہے ،لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ابھی بھی دیرنہیں ہوئی ، اگر ماضی میں کئے گئے غلط فیصلے پر نظرثانی کر لی جائے اور پاور سیکٹر کو دوبارہ یکجا کرکے اسے پہلے کی طرح واپڈا کے کنٹرول میں دے دیا جائے تو صورتِ حال میں بہتری آسکتی ہے۔ اداروں کے بننے میں برسوں درکارہوتے ہیں ، لیکن انہیں غیر مو¿ثر اور تباہ کرنے میں چند دن ضرور لگتے ہیں ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ پاور سیکٹر میں مربوط رابطہ استوار ہو اور نتیجتاً اس کی کاکردگی میں بہتری آئے تو ہمیں واپڈا کے حصے بخرے کرنے کے فیصلے سے دوبارہ رجوع کرلینا چاہئے ، کیونکہ ابھی بھی زیادہ دیر نہیں ہوئی۔  ٭

مزید : کالم