سونامی کا انجام؟

سونامی کا انجام؟

سونامی دم توڑ چکا.... پاکستان تحریک انصاف پارٹی انتخابات کا جوا ہار گئی۔ ضلعوں، ٹاﺅنوں میں جیتا کوئی ایک اور ہارے درجنوں۔ فتح کا نغمہ گنگنانے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، جبکہ ناکامی سے دوچار ہونے والوں کی باہمی کدورتیں بے حساب۔ عمران خان کی نیت،عزم پر کوئی شبہ نہیں، لیکن جس سماج میں وہ بس رہا ہے، وہاں ہار سے مراد سب کچھ ختم....سب کچھ....حتی کہ یار دوست ، گھر بار والے بھی تمسخر اُڑانے سے باز نہیں آتے۔ اگر تحریک انصاف کے مدبرین کے ہاتھ پاﺅں نہ پھولے ہوتے تو پارٹی انتخابات میں ناکام رہنے والوں کو طاقت میں بدلا جا سکتا تھا۔ ”شیڈو تنظیمات“ کا اعلان نامراد رہنے والوں کو نہ صرف معاشرتی ہزیمت سے بچاتا،بلکہ جیتنے والوں کی متوقع آمریت کو بھی لگام ڈالی جا سکتی تھی۔

آخر کب تلک بہتری کی امید پر عمران خان کی غلطیوں پر آنکھیں بند رکھی جائیں گی؟ پاکستانی میڈیا نے اسے حیران کن حد تک پذیرائی بخشی۔ اتنی پذیرائی کہ دوسرے قائدین و کارکنان باقاعدہ بلبلا اٹھے۔ بش جونیئر نے صدارت کے آخری دنوں میں پاکستانی میڈیا کو تعصب اور ہٹ دھرمی کی بناءپر Vicked Media قرار دیا تھا۔ یہ عمران خان کی خوش قسمتی تھی اسی ”بدمعاش میڈیا“ نے اس کی راہوں میں آنکھیں بچھائیں۔ سب سے پہلے میڈیا نے ”تبدیلی“ کے تصور کو عمران خان کی ذات سے نتھی کیا۔ اخبارات نے اس کے عمومی خیالات اور روزمرہ کے بیانات کو ہیرو ازم جیسی سرخیوں کی صورت پیش کیا، پھر الیکٹرانک میڈیا نے جلسوں، ریلیوں کی کوریج سے لے کر ٹاک شوز کے دوران باقاعدہ فریق کی صورت اس کا ساتھ دیا۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آن پہنچا جب محض لاہور کے جلسے، ادھوری تنظیمات اور ناکافی امیدواران کے باوجود میڈیا نے اسے ”عظیم فاتح“ قرار دے دیا۔ بس یہیں سے عمران خان کے زوال کا سفر بھی شروع ہوگیا۔ عظیم فاتح کو اپنے پرانے اور مخلص کارکن برے لگنے لگے۔ کبھی مرکزی دفتر کے دروازے ان کارکنوں کے لئے کھلے رہتے تھے۔ ہر رہنما بشمول عمران خان تک رسائی آسان تھی، لیکن لاہوری جلسے کے بعد دروازے بند اور رہنما ﺅں کی آنکھوں میں اجنبیت کے آثار ابھر آئے۔

 بڑے ناموں کی تلاش اور جیتنے والے گھوڑوں سے مرعوبیت نے ،عمران خان کو ہچکچاہٹ کی اس وادی میں لاکھڑا کیا،جہاں وہ ایسی بھیانک غلطی کر بیٹھا جس کی تلافی کا شاید وقت نکل چکا۔ وہ غلطی تھی طبقاتی کشمکش کی جنگ میں بالادست ٹولے کی طرف جھکاﺅ۔ ناکامی اور عوامی ناپسندیدگی کا یہ زینہ تحریک انصاف کے قائدین نے خود چنا۔ انقلاب یا تبدیلی یہ تھی عمران خان عام انتخابات کو امیر، غریب کی جنگ میں بدلتے۔ بھٹو سے بھی بڑے انقلاب کی نوید سناتے وقت، عمران خان بار بار یہ سبق کیوں بھول جاتے ہیں ، بھٹو نے زندہ گھوڑوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے کھمبوں جیسے کارکنوں کو ترجیح دی تھی۔ تحریک انصاف کو پارٹی انتخابات کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ خان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ان حالات میں اس نے پرانے کارکنوں کو دوبارہ آزمانے جیسی غلطی کیوں کی؟ تحریک کے ابتدائی دنوں میں قربانیاں دینے والوں کو کن شبہات کی بناءپر پارٹی انتخابات کی بھٹی میں جھونکا گیا؟ کیا اس کے گرد براجمان ٹولہ بھی اندر سے سٹیٹس کو کا حامی نکلا؟ یا خوب سے خوب تر کی تلاش میں ”پرانے بوجھ“ سے جان چھڑوانے کی خاطر پارٹی انتخابات کا ناٹک رچایا گیا؟ یہ سوچے بغیر کہ مخلص کارکنوں کا ردعمل کس قدر خوفناک ہو سکتا ہے۔

عام انتخابات میں کون ہارتا ہے کون جیتتا ہے یہ بعد کی باتیں ہیں۔ فی الوقت تحریک انصاف کو ٹکٹوں کی تقسیم جیسے مشکل امتحان سے گزرنا ہے۔ قائدین دعویٰ کر رہے ہیں وہ بہترین ٹیم بنانے کے ماہر ہیں۔ماضی میں بھی ہر اہم موقع پر ایسے ہی دعوے کئے گئے ،لیکن جب بھی نتیجہ سامنے آیا مایوسی ہی ملی۔ سوال یہ ہے اگر اچھی ٹیمیں نہ بنائی جا سکیں تو کیا ہوگا .... قائدین یہ ذہن نشین رکھیں اگر میرٹ پر اترنے والے پرانے کارکنوں کو ٹکٹ نہ ملا تو تحریک انصاف بدترین ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ کئی جگہوں پر پرانے کارکن آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف تحریک کے ووٹ کو تقسیم کرے گا بلکہ ناراض کارکن کثیر تعداد میں مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ سلسلہ شروع بھی ہو چکا ہے۔ لوگ بے خبر نہیں۔ ہر شہر میں تحریک انصاف کے پرانے اور ایماندار کارکن شہریوں نے انگلیوں پر گنے ہوئے ہیں۔ اگر ان کارکنوں پر بدمست نو دولتیوں کو ترجیح دی گئی، تو شہروں کے شہر عمران خان سے متنفر ہو جائیں گے۔ لوگوں کے لبوں پر ایک ہی سوال ہوگا ”کہاں گئی تبدیلی؟“ اگر عمران خان نے بھی بڑے چہروں اور پیسے والوں کو ہی ٹکٹ دینے ہیں تو اس سے کئی گنا بڑے چہرے دوسری جماعتوں میں موجود ہیں۔ لوگ انہیں ووٹ کیوں نہ دیں؟

پاکستان تحریک انصاف آج اس مرحلے پر آن کھڑی ہوئی ہے ،جہاں حقائق سے چشم پوشی عمران خان کو ہمیشہ کے لئے میدان سیاست سے آﺅٹ کر سکتی ہے۔ قائدین و کارکنان 23 مارچ کے جلسے سے بہت ہی بلند و بالا امیدیں وابستہ کر بیٹھے ہیں۔ کیا دو تین لاکھ کا ہجوم عمران خان کو پورے پاکستان میں فتح سے ہمکنار کرے گا؟ قطعا نہیں،اور یہ جو اندازے لگائے بیٹھے ہیں کہ خان کو اس بار بیس ، پچیس سیٹیں ملیں تو بہت بڑی بات ہوگی وہ اگلی بار سویپ کرے گا۔ یہ اندازے بھی حقائق کے خلاف ہیں۔ عمران خان نے اگر مستقبل میں سیاست کرنی ہے تو اسے اب کی مرتبہ ہی فیصلہ کن کامیابی لینی ہو گی۔ بیس ، پچیس کا مطلب یہ ہے کہ جیتنے والے آہستہ آہستہ ،ایک ایک کر کے حکمران جماعت کا حصہ بن جائیں گے۔ بدقسمتی یہ ہے تحریک انصا ف کے پلیٹ فارم سے جیتنے والے صرف ”وننگ ہارسسز“ہوں گے، عمران خان کے نظریاتی کارکن نہیں ۔اسی وجہ سے یہ وننگ ہارسسز عام کارکنوں کو زیادہ لفٹ بھی نہیں کرواتے۔

اگر یہ پرانے اور تجربہ کار لوگ تھوڑی سی کوشش کرتے تو بڑے پیمانے پر تحریک انصاف کے کارکنوں کو سیاسی انداز فکر سے روشناس کرواسکتے تھے۔ لیکن پھر وہی سوال کہ وہ ایسا کیونکر کرتے؟ جیتنے والے عمران خان کو چھوڑ جائیں گے۔ عمران خان کو دوبارہ انہی کارکنوں کی طرف پلٹنا پڑے گا، جنہیں تحقیر آمیز رویے کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے۔ لیکن پھر وہ کارکن بھی ”پرانے “ نہیں رہیں گے۔ ادھورے پارٹی انتخابات میں کارکنوں کے ردعمل نے اپنے مستقبل کے رویوں کی جھلک ابھی سے دکھلا دی ہے۔ یہ حقیقت بھی عیاں ہوگئی پی ٹی آئی کے کارکن فی الوقت فکری بلوغت سے کوسوں دور ہیں اور اس امر میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ لڑنے جھگڑنے والے کارکنان، خواہ پرانے ہی ہوں، نظریہ تبدیلی کے قریب تک سے بھی نہیں گزرے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ یہی کارکن ٹکٹوں کے لئے بھی مرے جا رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں سمجھئے ، عام انتخابات سے بہت قبل، فقط ٹکٹوں کی تقسیم کا عمل ہی پاکستان تحریک انصاف کے مستقبل کا تعین کر ڈالے گا۔ پرانی وفاداری، مضبوط برادری، نیک نامی اور انتخاب لڑنے کی سکت یہ چار پیمانے ہونے چاہئیں تحریک انصاف کے آئیڈیل امیدوار کے لئے۔

 گزرے سال عمران خان یہ کام بڑی تسلی سے سر انجام دے سکتے تھے، لیکن نامعلوم کن وجوہات کی بناءپر قائد اور کارکنوں کے روابط میں فقدان پیدا ہوگیا، جس بڑی تعداد میں نوجوان کارکن عمران خان کو ملے وہ چونکا دینے والا امر تھا، لیکن وہ انہیں پوری طرح متحرک نہیں کر پایا۔ لیڈر شپ تو یہ تھی ہر ضلعے، ڈویژن کے عہدیداروں کو مرکزی دفتر بلایا جاتا۔ پے در پے نشستوں میں جیتنے والوں کی پرکھ کی جاتی۔ حتمی تسلی ہوتے ہی کئی ماہ قبل ہی انتخابات میں شرکت کے لئے گرین سگنل دے دیا جاتا۔ یوں ایک ایک حلقے میں چار چار امیدواروں کی اشتہار بازی بھی اختتام پذیر ہو جاتی اور شہری بھی لاتعداد امیدواروں کے مغالطے سے باہر نکل آتے۔یہ سارے کام عمران خان کے خود کے کرنے والے تھے۔ کیا میاں نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شریف، مریم نواز، آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کارکنوں کے ان حساس معاملات کو براہ راست نہیں دیکھتے۔ اگر پاکستان تحریک انصاف عام انتخابات میں بڑی شکست سے دوچار ہوئی تو قصور کارکنوں ،رائے عامہ یا دھاندلی جیسے عناصر کے سر نہیں رکھا جا سکے گا۔ قصور وار وہ لوگ سمجھ جائیں گے، جنہوں نے عمران خان کو اول جلول قسم کی تجاویز پر عمل کرنے پر اکسایا۔ کم از کم تین بڑے نام یا بقول خان صاحب وکٹیں ان سے بے وفائی کرکے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں جا رہی ہیں۔ انقلاب لانے سے پہلے ذرا ان کی بھی فکر کریں۔    ٭

مزید : کالم