ہمیں کب سمجھ آئے گی؟

ہمیں کب سمجھ آئے گی؟
ہمیں کب سمجھ آئے گی؟

  

علامہ طالب جوہری کہتے ہیں: © ” اردو لغت میں امن کا مطلب نہ جانے کیا ہے، لیکن میرے ملک میں ایک شیعہ لاش گرنے سے دوسری شیعہ لاش گرنے کے درمیان کا وقفہ امن کہلاتا ہے“ ....پاکستان میں پے در پے جس انداز میں عام لوگوں کی ہلاکتوں کے واقعات نمو دار ہو رہے ہیں، اس سے ہر طبقہءحیات کے لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع، اس کے معدنی وسائل، اور اس کا ایٹم بم خطے میں جنم لینے والی صورت حال میں اس کے اپنے وجود کے لئے خطرہ بن گئی ہیں۔ ایک کراچی یا کوئٹہ ہی کیا ، صوبہ خیبر پختونخوا سے جاری دہشت گردی کا دائرہ کار پھیلایا جا رہا ہے، بلوچستان اس کا شکار ہے، سندھ میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے دو اہم واقعات ہو چکے ہیں، جس سے تمام لوگ بلا واسطہ یا بالواسطہ متاثر ہو رہے ہیں۔

سندھ میں پیش آنے والی کارروائیوں کے بارے میں ذمہ دار پولس افسران اسے بلوچستان میں ہونے والے واقعات سے جوڑتے ہیں۔ ان کے مطابق دھماکوں میں استعمال کیا جانے والا مادہ آر ڈی ایکس تھا، جس کا استعمال بلوچستان میںجا بجا ہو رہا ہے۔ کراچی میں رینجرز کے دو اہلکاروں کا اغواءاور ان کی تشددزدہ لاشوں کا ملنا، کڑیوں کو جوڑنے میں مدد دیتا ہے۔ دہشت گردی کی کارروائیاں اسی لئے کی جاتی ہیں کہ ملک میں ایسا خلفشار ہو کہ ہر چیز ساکت ہو جائے اور اپنی کارروائیوں میں دہشت گرد تو کامیاب رہتے ہی ہیں، لیکن ہماری حکوتیں ان کاروائیوں کا سدباب کرنا تو درکنار ، ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کا مقابلہ کرنے کی کوئی منصوبہ بندی کر سکیں، نہ ان کا ارادہ نظر آتا ہے۔ ہربڑی کارروائی کے بعدسیاسی جماعتیں بھی احتجاج، ہڑتال کرا کر اپنے تئیں سمجھ لیتی ہیں کہ ہم نے سد باب کر لیا۔

پاکستان کے ماضی بعید میں نہیں جاتے، بلکہ ماضی قریب کو دیکھتے ہیں۔ 2005ءمیں آنے والے زلزلے کے وقت سے دیکھتے ہیںکہ کیا ہوتا رہا ہے۔ زلزلہ ہو یا سیلاب، حد سے زیادہ بارشیں ہوں یا سڑک کے حادثات، ہدف بنا کر قتل کی وارداتیں ہوں، ہولناک آتش زدگی کے واقعات ہوں ،دھماکے ہوں یا کوئی اور آفت، قوم ایک امتحان سے نکلتی نہیں کہ دوسرا سر پر آن پڑتا ہے۔ کیا حادثات کے بعد سرکاری ادارے متحرک ہوتے ہیں ؟ کیا سرکار کی کوئی ایمبولنس فوری آجاتی ہے؟ کیا سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج و معالجہ کے لئے انتظامات حرکت میں آجاتے ہیں ؟ کیا متاثرہ لوگوں کی بحالی کا کام شر وع ہو جاتا ہے ؟ کیا متاثرہ لوگوں اور ان کے اطراف میں رہنے والوں کے ذہنی یا نفسیاتی علاج کا بندوبست کیا جاتا ہے ؟

کیا سرکار کی طرف سے اعلان کردہ امداد یا معا وضہ فوری طور پر متا ثرین تک پہنچا دیا جاتا ہے ؟ کیا متاثرین کی بحالی کے لئے ا نہیں روز گار فراہم کرنے کا کوئی بندوبست ہوتا ہے؟ کیا معاشرہ متاثرین کی عملًا مدد کے لئے تیار ہوتا ہے؟ کیا حادثات کے مقام پر لوگ نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ ہر حادثے کے بعد ہم جن رضا کاروں سے کام لیتے ہیں، کیا ہم ان کی کوئی پذیرائی اور بامعنی تربیت کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنی قوم کے بچوں اور طالب علموں کو ان کے تعلیمی اداروں میں تربیت دیتے ہیں کہ حادثات کے وقت، ان کے دوران اور ان کے بعد انہیں کیا کرنا چاہئے؟ غرض ایسے درجنوں سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں اور اتفاق ہے کہ ہر سوال کا جواب نفی میں ملتا ہے۔ تباہ کن سیلاب کے بعد نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ قائم کی گئی اور اسی طرز پر صوبوں میں اس کی تشکیل کی گئی ۔

این ڈی ایم اے ہو یا پی ڈی ایم اے، کسی روح اور جذبے کے بغیر کام کرنے والے سرکاری ادارے ہیں۔ نہ کوئی منصوبہ بندی ہے ، نہ ہی کوئی دور دیکھنے والی نگاہیں، نہ ہی کوئی سوچنے والا ذہن، بس سرکاری ملازمین کا ایک ایسا ہجوم اکٹھا کر لیا گیا ہے جو آفات کا اس لئے منتظر رہتا ہے کہ اسے پیسہ بنانے کا موقع ملے گا.... ایک کام البتہ من حیث القوم ہم ادا کرنے کے عادی ہو چکے ہیں کہ حادثات کے وقت تماش بینی کرتے ہیں اور بعد میں رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں۔ حکمران اور سیاستدان مذمت کے بیانات جاری کردیتے ہیں۔ اخبارات میں بیانات کا انبار لگ جاتا ہے۔ ریڈیو، ٹی وی اپنے پروگرام کر لیتے ہیں ، شور غوغا مچایا جاتا ہے، جائے حادثات پر نوجوان بپھر جاتے ہیں اور دوسروں کی ملکیت کو نذر آتش کرنا شروع کر دیتے ہیں، جس کا حکومت زبانی کلامی نوٹس بھی نہیں لیتی اور متاثرہ لوگوں کو ہرجانہ معاوضہ ادا نہیں کرتی اور نہ ہی ذمہ دار افراد کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا جاتا ہے اور نہ ہی پولس حرکت میں آتی ہے۔ دہشت گرد تو اپنی کارروائی کر کے کہیں دور کھڑے تماش بینی کرتے ہی ہوں گے، لیکن ہمارے لوگ رد عمل میں دہشت گردوں کے کام کو ہی آگے بڑھا رہے ہوتے ہیں۔

پاکستان کی اپنی خارجہ پالیسی روس کے افغانستان میں داخل ہونے کے بعد سے سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ ایک کے بعد ایک حکومتیں آتی اور جاتی رہی ہیں، لیکن کسی نے بھی طویل المیعاد خارجہ پالیسی ترتیب دینے کی سعی نہیں کی ۔ 1980ءکے بعد سے دنیا تبدیل ہو چکی تھی، پھر امریکہ میں پیش آنے والے ٹوئن ٹاور کے حادثے نے تو دنیا کو پلٹ ہی دیا ہے ۔ ایران، بھارت، چین، افغانستان اور امریکہ خطے میں جس انداز میں سرگرم ہیں، اس کے اثرات تو پاکستان پر ہی مرتب ہونا ہیں اور ہو رہے ہیں۔پاکستان کو عالمی دہشت گردوں کا مہمان خانہ قرار دیا جاتا ہے۔ یتیم خانہ تو یہ بہت پہلے سے بنا ہوا ہے۔ معیشت لرز رہی ہے۔ ملک کے وزیر خزانہ اعتراف کرتے ہیں کہ ” دہشت گردی پاکستان میں سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے متاثر ہے“۔

ایک کراچی کا واقعہ ہی کیا، اس تماش گاہ میں تو ہر طرف صورت حال ایک ہی جیسی ہے۔ جگہ جگہ حکومت کی کوتاہیاں شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہیں ۔دہشت گردی کے ایک واقعہ کے بعد دوسرے واقعہ کے دورانیہ کو ہی امن تصور کیا جاتا ہے۔ یہ کھیل تو جاری رہنے کے لئے ہی شروع کیا گیا ہے۔ اسے جن قوتوں نے شروع کیا ہے، ختم کرنے کا بٹن بھی انہی کے پاس ہے، لیکن ہمیں بھی تو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی، ہم کب تک بٹن بند ہونے کے منتظر رہیں گے ۔ حکومت ، سرکاری ادارے، پولیس، رینجرز، فوج اور ہم خود کب حرکت میںآ ئیں گے؟ کیا اس وقت جب وقت ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہوگا۔ پاکستان میں حکومتوں کی کوتاہیاں اپنی جگہ، لیکن ہمیں کب سمجھ میں آئے گا کہ :

قابل فخر ہوتی نہیں ہے وہ قوم

جس کے سیاست دان سیاست کو پیسہ بنانے کا پیشہ قرار دیتے ہیں

جس کے مذہبی رہنما سیاست میں مکر و فریب کے قائل ہوتے ہیں

 جس کے جنرل سیاست کرتے ہیں

جس کے مبلغ منبر پر کھڑے ہو کر غیبت کرتے ہیں

جس کے صحافی لکھتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں

جس کے ذرائع ابلاغ پیسہ بٹورنے میں پیش پیش رہتے ہیں

قابل فخر ہوتی نہیں ہے وہ قوم     ٭

مزید : کالم