ڈرون حملے پاکستان آرمی نے کئے ہوں گے!

ڈرون حملے پاکستان آرمی نے کئے ہوں گے!

پہلے میرا خیال تھا کہ دنیا کی سپر طاقتیں ہر لحاظ سے سپر ہوتی ہیں، حتیٰ کہ جھوٹ بھی بولیں تو وہ بھی سپر سکیل کا ہوتا ہے۔ چھوٹا موٹا اور ایسا جھوٹ جس کی بنیاد غیر منطقی اور غیر تصوراتی ہو، اس کا استعمال سپر طاقتوں کا شیوہ نہیں ہوتا، لیکن اگلے روز ”نیویارک ٹائمز“ میں ایک خبر پڑھ کر معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنے کے لئے کوئی سٹریٹجک وجہ درکار نہیں ہوتی او نہ ہی وہ جھوٹ کسی دلیل و منطق کا محتاج ہوتا ہے.... خبر یہ تھی کہ گزشتہ ماہ جو دو ڈرون حملے فاٹا پر کئے گئے، وہ (6 اور 8 فروری2013ئ) پاکستان آرمی نے کئے ہوں گے، ہمیں کیا خبر؟.... ہم نے نہیں کئے!....

امریکہ کے پریس اور الیکٹرانک میڈیا کے میکدے کا جامِ معلومات، تضادات سے لبریز ہے۔ کبھی وہ ایسے واقعات کی پورٹنگ کرتا ہے، جو بہت دور رس نوعیت اور دیرپا نتائج کے حامل ہوتے ہیں اور کبھی ایسے ایشوز بھی بریک کرتا ہے جو کسی بھی حوالے سے قابل اعتبار نہیں ہوتے۔ امریکہ سے شائع ہونے والے کم از کم نصف درجن اخبارات ایسے ہیں، جو ساری دنیا میں پڑھے جاتے ہیں اور قارئین کے لئے حصولِ معلومات کا ایک جدید ترین اور باوثوق ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ لکھنے والے ان تحریروں کو بطورِ سند ،کوٹ(Quote) کرتے ہیں.... ان چھ سات روزناموں میں ”نیویارک ٹائمز“ کا نام بھی شامل ہے۔

”نیویارک ٹائمز“ کی اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ 6 اور 8 فروری2013ءکو شمالی اور جنوبی وزیر ستان پر جو ڈرون حملے کئے گئے، وہ امریکہ نے نہیں کئے تھے.... اگر بات یہاں تک ہی رہتی تو زیادہ سے زیادہ ”گومگو“ کی کیفیت میں بعض قارئین کو یقین آتا اور بعض کو نہ بھی آتا، لیکن اس اخبار میں ڈرون حملوں کی تردید کرنے کے بعد یہ بھی بریک کیا گیا کہ....کچھ نہیں کہا جاسکتا، شاید یہ حملے خود پاکستانی فورسز نے کئے ہوں گے!

پاکستان بلاشبہ فاٹا پر بعض مقامات (مثلاً اورکزئی ایجنسی اور باجوڑ وغیرہ) میں کئی مقامات پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کے لئے اپنی فضائیہ استعمال کرتا رہا ہے، لیکن حالیہ ایام میں یہ سلسلہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں جو فیصلہ جاری کیا گیا، اس کے مطابق تو کہا گیا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں تاکہ چند ہفتوں بعد ملک میں جو الیکشن ہونے جا رہے ہیں، ان کو پُرامن ماحول میں منعقد کرانے کی سازگار فضا پیدا کی جائے.... یہ موضوع کہ آخر پورے پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے اور ملک بھر کے عوام کو انتہا پسندی کی آگ میں جلتا دیکھ کر ٹس سے مَس نہ ہونے کے بعد یکایک طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس پر آج کل میڈیا پر بہت سا مواد شائع ہو رہا ہے اور نشر بھی کیا جا رہا ہے۔ لیکن پاکستان آرمی نے بڑے واضح انداز میں سیاسی قیادت کو یقین دلایا ہے کہ وہ پُرامن انعقادِ انتخابات میں مدد دینے کے لئے تیار ہے اور فی الحال فاٹا ایریا میں کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ملٹری کے ترجمان نے نیویارک ٹائمز کی اس خبر کو انتہائی بے بنیاد بلکہ شر انگیز قرار دیا ہے۔ ترجمان نے مزید وضاحت کی ہے کہ ہم گراو¿نڈ پر جا کر چیکنگ کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کسی بھی عسکریت پسند کے کسی ٹھکانے پر پاک فوج کی طرف سے کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔ پاکستان ملٹری (جس میں آرمی، ایئر فورس اور نیوی شامل ہیں) کی طرف سے یہ تردید بڑے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کئی گئی ہے۔

جہاں تک پاکستانی ملٹری کی طرف سے اس قسم کا ایکشن بروئے عمل نہ لانے کا تعلق ہے تو اس کی پشت پر بعض اور بھی دلائل ہیں جو آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلے پر صاد کرنے کے علاوہ ہیں۔

 مثلاً پاکستان آرمی کی سینئر ترین قیادت ایک سے زیادہ بار کہہ چکی ہے کہ یہ ڈرون حملے غلط ہیں اور ان کا کوئی جواز نہیں اور امریکہ کو یہ حملے بند کر دینے چاہئیں۔ چیف آف آرمی سٹاف، جنرل کیانی، اس موقف پر دو ٹوک رائے رکھتے ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ پاکستان آرمی کے پاس مسلح ڈرون سازی کا تاحال کوئی بھی وسیلہ اور کوئی بھیFacility موجود نہیں.... ویسے تو ڈرون بنانا ایک سادہ سی ٹیکنالوجی ہے۔ 20، 25 برس پہلے پاکستان ایئر ڈیفنس کی طرف سے اس کا پہلا تجربہ کیا گیا تھا ۔ کسی طیارہ شکن توپ کا نشانہ چیک کرنے کے لئے ایک ڈرون فضا میں اڑایا جاتا ہے اور اس پراینٹی ایئر کرافٹ گن فائر کرتی ہے۔ پاکستان یہ ڈرون ، بیرونی ممالک سے درآمد کیا کرتا تھا اور اس کی بھاری قیمت ادا کی جاتی تھی۔ سکول آف ایئر ڈیفنس، ملیر کینٹ میں کسی بندئہ خدا کو یہ خیال آیا کہ کیوں نہ یہ ڈرون ہم خود پاکستان میں تیار کریں۔

اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سکول نے کراچی یونیورسٹی کا رُخ کیا۔ وہاں متعلقہ مضامین و موضوعات کے پروفیسر صاحبان سے بات کی گئی (ان کے نام میں بوجوہ نہیں لکھ رہا) انہوں نے اپنی کلاسز میں سے چند طلباءکو ملیر بھیجا کہ وہ جا کر اس منصوبے کی تفصیلات معلوم کریں اور دیکھیں کہ آیا یہ ڈرون ہم خود بنا بھی سکتے ہیں یا نہیں؟

قارئین گرامی! آپ یہ جان کر حیران اور خوش ہوں کہ ان جواں سال طلباءنے وہ سارا کام صرف دو تین ماہ میں مکمل کر دیا۔ (اس کام کی تفاصیل انشاءاللہ کسی اور کالم میں عرض کروں گا) اُس برس ایئر ڈیفنس نے جو مشقیں کیں اور جن ڈرونوں کو بطور ٹارگٹ، اُڑا کر، طیارہ شکن توپوں کی گولہ باری سے نشانہ بنایا وہ یہی ”خانہ ساز“ ڈرون تھے، ان پر لاگت کا تخمینہ ناقابلِ یقین حد تک درآمد کئے گئے، ڈرونوں کے مقابلے میں کم تھا۔

پھر اس ڈرون سازی کے سلسلے کو آگے بڑھایا گیا۔ پاک بھارت سرحد پر ریکی کے لئے بھی ڈرونوں سے کام لیا جاتا ہے۔ یہ گویا ان ڈرونوں کی دوسری نسل تھی.... اس کے بعد تیسری نسل اور اب چوتھی نسل یا پانچویں نسل (شاید) بنائی جا رہی ہے یہ کام کراچی میں ہو رہا ہے اور واقفانِ حال کو اس کی تفاصیل کا علم ہے اور خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ سارا پراجیکٹ پرائیویٹ سیکٹر میں پروان چڑھ رہا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا، پاکستان نے کئی بار امریکہ سے درخواست کی تھی کہ اسے ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی جائے اور امریکہ نے جواب میں غیر مسلح ڈرون بنانے کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔ امریکہ کو معلوم تھا کہ پاکستان غیر مسلح ڈرون بنانے میں بہت حد تک خود کفیل ہو چکا ہے، لیکن مسلح ڈرون کی ٹیکنالوجی، منتقل کر کے امریکہ خود اپنے ہاتھ کیسے ”کٹوا“ سکتا تھا؟

مسلح ڈرون ٹیکنالوجی میں کچھ اور پہلو ایسے بھی ہیں، جن پر پاکستان کو فی الحال کوئی قدرت حاصل نہیں، مثلاً جی پی ایس (GPS)، سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے ڈرون کو ہم آہنگ کرنا، گراو¿نڈ کوآرنیٹس(Co-ordinates) معلوم کرنا اوران کو اکٹھا کرنے کے لئے مقامی لوگوں (ایجنٹوں) کو تیار کرنا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان ساری ”زمینی اور آسمانی“ کارروائیوں کو ہم آہنگ کر کے بیک وقت استعمال میں لانا....ایک مشکل اور مہنگی ایکسر سائز ہے جو پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک کے بس کا روگ نہیں.... جو قارئین ان تفاصیل کو مزید جاننے میں دلچسپی رکھتے ہوں، انہیں کسی بھی اچھی لائبریری یا بُک شاپ پر جا کر اس موضوع پر طبع شدہ مواد کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ میری نگاہ میں سٹیو کول(Steve coll) کی گھوسٹ وارز(Ghost Wars) ایک ایسی کتاب ہے جس میں اس موضوع پر سی آئی اے، پنیٹا گون اور آئی ایس آئی کے باہمی اشتراک و تعاون اور پھر باہمی برہمی و ناراضی کی مثالیں جا بجا ملتی ہیں۔ سات سو سے زائد صفحات پر مشتمل کول کی یہ تصنیف پلٹزر انعام(Pulitzer Prize) یافتہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ Best sellerہے اور اس کا ایک ایک لفظ مصدقہ اور مستند ہے۔ اس کے استناد کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے آخر میں کتابیات اور اشارات و حوالہ جات کے لئے مصنف نے 140 صفحات میں اپنی محنتِ شاقہ اور عرق ریزی کا گویا نچوڑ پیش کر دیا ہے۔ میرے پاس اس کا ایک پرانا ایڈیشن ہے جو 2005ءمیں امریکہ سے شائع ہوا تھا۔

اسی موضوع پر پیٹر برجن(Peter Bergen) کی بھی ایک کتاب ابھی حال ہی میں (2012ئ) منظرِ عام پر آئی ہے۔ اس کا عنوانMan hunt ہے۔ اس کا ایک نسخہ مَیں نے ملٹری سٹیشن لائبریری، لاہور سے لے کر پڑھا تھا۔ تقریباً 350 صفحات کی یہ کتاب، اسامہ بن لادن کی تلاش اور پھر 2 مئی2012ءمیں ایبٹ آباد پر نیوی سیل(NAVY SEAL) کے حملے کی تمام روئیداد بیان کرتی ہے، لیکن اس فائنل ایکشن سے پہلے CIA نے ڈرونوں کا استعمال کر کے جو معلومات حاصل کیں، ان کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان اس مدرسے میں ہنوز طفلِ مکتب ہے۔

کیا یہ ساری باتیں اور ساری معلومات امریکیوں کو معلوم نہیں....؟ ان کو سب کچھ معلوم ہے، انہیں ہماری تمام محدودات اور مقدورات کا علم ہے، لیکن اس کے باوجود یہ کہنا کہ یہ ڈرون حملے شاید پاکستان ملٹری نے کئے ہوں گے، ایک ایسا بیان ہے جو کذب بیانی کی نہ صرف ایک انتہائی بھونڈی کوشش ہے، بلکہ پاک امریکہ تعلقات کی خلیج کی ”وسعت“ کی بھی آئینہ دار ہے۔    ٭

مزید : کالم