الیکشن میں خونریزی کا کوئی خطرہ نہیں

الیکشن میں خونریزی کا کوئی خطرہ نہیں
الیکشن میں خونریزی کا کوئی خطرہ نہیں

  

ایک سیاست دان نے بیان دیا کہ ” الیکشن میں بڑی خونریزی ہوگی“.... تو سب نے یہ لکیر پکڑ لی اور اسے پیٹنا شروع کر دیا ،لیکن وجہ بیان کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی۔ ایسا ہی شوشہ ماضی میں بھی چھوڑا جاتا رہا ہے ‘ مثلاً 1988ءمیں جب ہم نے فیصلہ کیا کہ 90 روز کے اندر اندر انتخابات ہوں گے تو ہمارے دوست ،سیاست دان اور دانشورچیخ پڑے کہ غلطی کر رہے ہو، ملک جہادیو ں سے بھرا ہوا ہے، ان حالات میں اگر انتخابات ہوئے تو انتہا پسند چھا جائیں گے۔ہم نے کہا: ” صبر کیجئے‘ انشاءاللہ ایسا کچھ نہیں ہوگا“۔ سب نے دیکھا کہ الیکشن ہوئے اور کوئی بھی انتہا پسند جماعت سامنے نہیں آئی۔ اسی طرح 2008ءمیں جب انتہا پسند اسلام آباد سے صرف 70 میل کے فاصلے پر تھے اور پشاور ان کی زد میں تھا تو شور اٹھا کہ الیکشن ہوئے تو انتہا پسندچھا جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انشاءاللہ آئندہ ہونے والے الیکشن بھی پُرامن ہوں گے اور سب سے بڑی بات یہ ہوگی کہ امریکہ، آرمی، عدلیہ اور موقع پرست سیاسی جماعتوں کی مداخلت اور ان کی ریشہ دوانیوں سے آزاد ہوں گے اور ان میں این آر او (NRO) کی تلخی کی ملاوٹ بھی نہیں ہوگی۔

پاکستان میں جتنے بھی انتخابات ہوئے ہیں ،ان میں ایک حقیقت بڑی واضح رہی ہے کہ پاکستانی قوم نے ہمیشہ انہی جماعتوں کے حق میں فیصلہ دیا ہے، جو اعتدال پسند ہیں۔ اس لئے کہ پاکستانی قوم کی سوچ نہ تو سیکولر ہے اور نہ ہی انتہا پسند ذہنیت پر یقین رکھتی ہے۔ اپنے نظریہ¿ حیات کو مقدس سمجھتی ہے۔ نظریہ¿ حیات.... جس کی تشریح ہمارے آئین میں ان الفاظ میں کی گئی ہے: ”ایک جمہوری نظام کا قیام جس کی بنیادیں قرآن و سنہ کے اصولوں پر قائم ہوں“۔ قوم کی یہ سوچ قابل احترام ہے اور اس تقدس کا قائم رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر بنیادی اصولوں سے انحراف کیا جائے گا تو بڑی خرابی پیدا ہوگی، جس کی مثال آج ہم بنگلہ دیش میں دیکھ رہے ہیں۔

مستقبل قریب میں ہونے والے انتخابات کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں، جو ایک ایک کر کے ناکام ہوئی ہیں۔ کراچی اور کوئٹہ کے واقعات دراصل اسی سازش کا تسلسل ہیں، جو ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ طے پانے سے بہت پہلے سے جاری ہے۔اس کا مقصد پاکستان میں شیعہ سنی منافرت کو بڑھانا ہے۔ ایران میں انقلاب آیا، تو امریکہ اور دیگر سیکولرقوتوں کو فکر ہوئی کہ کہیں پاکستان پر اس کے اثرات نہ پڑیں۔ اس لئے یہاں شیعہ سنی منافرت کو ہوا دی گئی۔ مسلکی بنیادوں پر سپاہ صحابہ، سپاہ محمد اور لشکر جھنگوی جیسی عسکری تنظیمیں قائم ہوئیں۔بدقسمتی سے ان تنظیموں کی تشکیل اور سرپرستی میں پاکستان کی حکومتیں بھی شامل تھیں۔ یہ تنظیمیں مسلکی بنیادوں پر کام کر رہی تھیں، لیکن انہیں کالعدم قرار دے دیا گیا جو ایک غلط فیصلے کے بعد دوسرا غلط فیصلہ تھا، کیونکہ اس کے نتیجے میں ان تنظیموں کے انتہا پسند عناصر نے دہشت گردی کا راستہ اختیار کر لیا اور سرحد پار چلے گئے، جہاں پہلے ہی ایسے لوگ موجود تھے جو سرحد پار سے پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہے تھے اور افغانستان کی جنگ کو پاکستان پر پلٹنا چاہتے تھے۔ انہوں نے انہیں اپنا آلہ کار بنایا اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا۔

ان جماعتوں میں اکثریت تو اچھے لوگوں کی تھی، لیکن انہیں بھی ہم نے دہشت گرد قرار دے کر تعلقات منقطع کر لئے۔ اس لئے ضروری ہے کہ نئی سوچ کے تحت تمام کالعدم تنظیموں کے ساتھ روابط قائم کر کے ان سے مذاکرات کئے جائیں اور انہیں قومی دھارے میں واپس لایا جائے،اس لئے کہ انہیں کالعدم قرار دے کر بات چیت کا راستہ توحکومت نے خود ہی بند کیا ہے، جس طرح تحریک طالبان پاکستان کو کالعدم قرار دیا گیا تھا، لیکن اب ان سے بات چیت کا راستہ تلاش کیا جا رہا ہے۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔ اس وقت ضروری ہے کہ ان تنظیموں پر سے پابندی ختم کی جائے، جو لوگ شر پسند ہیں، انہیں گرفتار کیا جائے، لیکن یہ نہ ہو کہ ان میں شامل ہر شخص کو شر پسند کہہ کرمزید مشکلات پیدا کی جائیں۔ ان میں بہت سے لوگ عام شہریوں کی طرح پر امن زندگی گزارنا چاہتے ہیںاور قومی سیاسی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، مگر ان تنظیموں کو کالعدم قرار دے کر ان کے لئے تمام راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔

فرقہ پرستی کے فتنے کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت پاکستان کالعدم تنظیموں کے ساتھ رابطے قائم کر کے بات چیت شروع کرے۔ یہ وقت اس لئے بھی مناسب ہے کہ امریکہ افغانستان سے شکست کھا کر نکل رہا ہے ۔ وہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے اندر دہشت گردی اور فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے والوں کی سرپرستی کر تارہا ہے۔ امریکہ جب افغانستان سے نکل جائے گا تو اس دو طرفہ سازش کی سر پرستی بھی ختم ہو جائے گی۔ امریکہ اور بھارت سمیت عالمی سیکولر قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان اور ایران قریب آئیں اور مل کر کسی بڑے منصوبے پرکام کریں، مگر ان کی مرضی کے خلاف پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر دستخط ہو چکے ہیں اور جلد کام بھی شروع ہوجائے گا۔ امریکہ کی خواہش کے برعکس گوادر کی بندرگاہ بھی چین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ یہ پاکستان کے بڑے جرا¿ت مندانہ فیصلے ہیں، کیونکہ پاکستان کی تاریخ میںایک عرصے کے بعد حکومت پاکستان نے امریکی دباﺅ کو نظر نداز کر کے اپنے قومی مفادات کو ترجیح دی ہے، جو نہایت خوش آئند بات ہے۔ایسے اقدامات سے آئندہ قائم ہونے والی حکومت کو آزادانہ خارجہ پالیسی کی تشکیل اور تزویراتی مفادات کے تحفظ کے لئے بڑے اچھے مواقع حاصل ہوں گے۔

اب یہ ہمارے عزم و استقلال کاامتحان ہے کہ ہم اپنے فیصلوں پر قائم رہیں۔ امریکہ پابندیاں لگاتا ہے تو لگا لے۔ ہم تو پہلے بھی امریکی پابندیو ں کا سامنا کر چکے ہیں، لیکن پابندیاںلگانے سے پہلے امریکہ کو سوچنا ہوگا کہ وہ افغانستان سے نکل رہا ہے اور انخلا کا راستہ صرف پاکستان سے گزرتاہے۔ پاکستان پر اقتصادی پابندیا ں عائد کر کے امریکہ خود اپنا راستہ بند کرے گا۔اس کے باوجود امریکہ، بھارت اور مغربی قوتیں سازشوں سے باز نہیں آ رہے۔ اس سازش میں ہمارے اپنے ملک کے لوگ بھی شامل ہیں، جس پالیسی کے تحت بنگلہ دیش پربھارت کی بالادستی قائم کی گئی ہے، ویسی ہی پالیسی پر پاکستان کے خلاف یہ قوتیں عمل پیرا ہیں، لیکن ایسی سازشیں الیکشن کے بعد اپنی موت آپ مر جائیں گی۔

سیاسی اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہیں، لیکن سیاست میں اگر نظریاتی اختلافات پیدا ہو جائیں تو ملکی سلامتی کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ان کا نظریاتی تصوراتنا ہی وسیع ہے، جتنا ہمارا دین وسیع ہے، لیکن بنگلہ دیش کی حکومت غلط راستے پر چل پڑی ہے، جس کا انجام خونریزی ہے۔ مصر اور ترکی میں بھی اسلامی سوچ کا راستہ برسوں بند رکھا گیا، لیکن وہ فکر جس کا تعلق اللہ اور اللہ کے رسول سے ہے، اس کے سامنے کوئی قوت نہیں ٹھہر سکی ہے۔ دشمن پاکستان کو سیکولر بناناچاہتا ہے، لیکن وہ یہ بھول گیا ہے کہ پاکستان کا نقشہ بنگلہ دیش سے مختلف ہے۔ ہماری سرحدیں اسلامی انقلابی ممالک افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں اور کشمیر میں اسلامی قوتیں سیکولر بھارت سے نبرد آزما ہیں۔ یہ قوتیں پاکستان پر اثر انداز ہیں،اس لئے ہمیں سیکولر بنانے کی کوشش کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔

  الیکشن میں خونریزی کی باتیں ان عناصر کی طرف سے ہو رہی ہیں، جو الیکشن نہیں چاہتے۔انہوں نے انتخابات کے التوا کے لئے سازشیں کی ہیںجو ناکام ہو گئی ہےں۔ ڈاکٹر طاہر القادری الیکشن ملتوی کرانے کا ایجنڈا لے کر آئے تھے، لیکن ناکامی اور شرمندگی کے ساتھ واپس لوٹ گئے ہیں۔ کوئٹہ بم دھماکے اور عباس ٹاﺅن کراچی کی خونریزی اسی لئے ہو رہی ہے کہ پاکستان عدم استحکام کا شکار ہوجائے اور یہاں جمہوری طریقے سے حکومت تبدیل نہ ہو۔امریکہ انتخابات کا التوا چاہتا ہے، کیونکہ وہ آئندہ ہونے والے انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہوکر اپنی مرضی کی حکومت نہیں بنا سکتا جس طرح ماضی میں وہ پاکستان میں انتخابات پر اثر انداز ہوتا رہا ہے، لیکن آج صورت حال مختلف ہے، کیونکہ امریکہ جن قوتوں سے مدد لیتا تھا، وہ اب مداخلت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ فوج الیکشن کرانے کی مکمل طور پر حمایت کرتی ہے اور انتخابی عمل میں تعاون کے لئے بھی تیار ہے۔ عدلیہ بھی انتخابات کاا لتوا نہیں چاہتی اور وہ اس کا واضح اظہار کر چکی ہے۔ مفاد پرست سیاسی عناصر پسپا ہو چکے ہیں، لہٰذا انشاءاللہ کوئی خونریزی نہیں ہوگی اور ایک بہتراور اہل قیادت سامنے آئے گی جو پاکستان کو مشکلات سے نجات دلائے گی،بقول اقبال:

آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوش

اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی

مزید : کالم