اردن اور اسرائیل کے مابین سکیورٹی تعاون پر اینٹی نارملائزیشن کمیٹی کا انتباہ

اردن اور اسرائیل کے مابین سکیورٹی تعاون پر اینٹی نارملائزیشن کمیٹی کا انتباہ

عمان( اے این این )وطن کے تحفظ اور اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون استوار کرکے حالات کو معمول پر لانے کے خلاف سرگرم اردن کی سپریم کمیٹی نے اپنی حکومت کو متبنہ کیا ہے کہ عرف اور فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کی قیمت پر ہونے والے اردن ، مصر اور اسرائیل کے مابین سکیورٹی تعلقات کسی صورت قابل قبول نہیں۔اینٹی نارملائزیشن کمیٹی نے منگل کے روز اپنے معمول کے ایک اجلاس کے بعد جاری بیان میں عمان کی جانب سے حیفا کی مقبوضہ بندرگاہ سے پھل اور سبزیاں برآمد کرنے والوں کو فراہم کی جانے والی سکیورٹی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ شام میں جاری حالات کے تناظر میں امپورٹ اور ایکسپورٹ کے لیے متبادل راستے اور ذرائع تلاش کیے جائیں۔

اسرائیل کے ساتھ سکیورٹی تعاون کی مخالفت میں قائم کمیٹی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی معیشت کو مدد فراہم کرنے کا مقصد فلسطینیوں کے قتل عام کے لیے وسائل فراہم کرنا اور اردن کے اپنے امن کو بھی خطرے میں ڈالنا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ وادی عربہ معاہدے کے بعد بھی اردن اسرائیل کا ہدف بنا رہے گا۔اینٹی نارملائزیشن کمیٹی نے کردستان کی حکومت کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ اقتصادی اور سکیورٹی تعاون پر بھی تنبیہ کی اور کہا کہ تمام اسرائیلی منصوبے عرب اور اسلامی دنیا کے لیے خطرناک ہیں۔ اردن میں سرگرم کمیٹی نے مغربی کنارے کی یہودی بستیوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کے یورپی موقف کو سراہا اور کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی کنارے میں یہودی بستیاں جاری رکھنے والے اسرائیل کو سبق سکھانے کے لیے یورپ کو صہیونی حکومت پر پابندیاں بھی عائد کرنا ہونگی۔

مزید : عالمی منظر