امریکہ میں چار کروڑ ستر لاکھ خاندان فوڈ بینکوں پر انحصار کرتے ہیں، رپورٹ

امریکہ میں چار کروڑ ستر لاکھ خاندان فوڈ بینکوں پر انحصار کرتے ہیں، رپورٹ

واشنگٹن (آن لائن) امریکہ میں چار کروڑ ستر لاکھ خاندان کھانے کے لیے فوڈ بینکوں پر انحصار کرتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے کل جی ڈی پی میں تقریباً ایک چوتھائی حصہ صرف امریکہ کا ہے لیکن خود یہاں لاکھوں بچے بھوک سے بلبلا رہے ہیں اور اس تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکہ میں اس وقت ایک کروڑ ستر لاکھ بچے غربت کا شکار ہیں اور بہت بڑی تعداد میں بچوں کے لیے بھوک ایک ان چاہے دوست کی طرح روز ساتھ رہنے لگی ہے۔

دس سالہ کیلی ہیوڈ اور اس کے 12 سالہ بھائی ٹائلر دونوں کے دماغ میں ہمیشہ کل کے کھانے کے بارے میں خیال آتا رہا ہے اور اکثر وہ کھانا انہیں میسر نہیں ہوتا۔آﺅوا کے ایک فوڈ بینک سے کیلی کی والدہ صرف پندرہ چیزیں خرید سکتی ہیں اور وہ پندرہ اشیاءچیزیں کون سی ہوں یہ فیصلہ ان کی ماں یا بھائی بہنوں کے لیے آسان نہیں ہے۔کھانے کی ضروری چیزوں کے بعد ایسی دو چار ہی چیزیں بچتی ہیں جو بچوں کی پسند سے لی جا سکتی ہیں۔عموماً یہ ہوتا ہے کہ کیلی کے خاندان کے پاس کافی مقدار میں کھانا خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ کیلی کہتی ہیں ’ہم دن میں تین بار نہیں کھاتے۔ مطلب ناشتہ، دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا اور جب مجھے بھوک لگتی ہے تو میں دکھی ہوتی ہوں اور کچھ کرنے کو دل نہیں چاہتا۔کیلی اور اس کا بھائی اپنی ماں باربرا کے ساتھ رہتے ہیں۔ باربرا کسی فیکٹری میں کام کیا کرتی تھیں۔ ان کی نوکری چلی گئی جس کے بعد انہیں بےروزگاری الاو¿نس کے طور پر 1480 ڈالر ملتے ہیں۔بظاہر یہ رقم کافی لگتی ہے لیکن اتنے پیسوں میں امریکہ میں گزارہ کرنا انتہائی مشکل ہے۔یہ لوگ اپنے گھر میں رہ نہیں سکتے کیونکہ وہاں رہنے کے اخراجات 1326 ڈالر ماہانہ ہیں جنہیں دینے کے بعد ان کے پاس کھانا خریدنے کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔ہر گھر میں سے جو چار ڈالر ملتے ہیں وہ میں اپنی ماں کو دے دیتا ہوں تاکہ کچھ کھانا خریدا جا سکے۔۔۔جب میں ٹی وی پر کہیں فوڈ شو دیکھتا ہوں تو چاہتا ہوں کہ ٹی وی میں گھس جاو¿ں اور سارا کھانا کھا لوں۔اب جس کمرے میں وہ رہتے ہیں وہاں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں کھانا پکایا جا سکے۔ جس جگہ وہ قیام پذیر ہیں اس کا کرایہ تقریباً 700 ڈالر ماہانہ ہے لیکن اس جگہ رہنے کے بعد خاندان کے بجٹ کو چلانا بہت مشکل ہے۔کیلی نے خاندان کی مدد کے لیے ریلوے ٹریک کے آس پاس خالی ڈبے اکٹھے کرنے شروع کیے ہیں اور ہر ڈبے کی قیمت دو سے پانچ سینٹ مل جاتی ہے۔ٹائلر یہاں وہاں لوگوں کے باغات کی گھاس کاٹ دیتا ہے۔ ان کے مطابق ہر گھر میں سے جو چار ڈالر ملتے ہیں وہ میں اپنی ماں کو دے دیتا ہوں تاکہ کچھ کھانا خریدا جا سکے۔کیلی کے کپڑے پرانے کپڑوں کی ایک دکان سے آتے ہیں جہاں پر اسے ہدایت ہے کہ وہ ایسے کسی کپڑے کے بارے میں نہ سوچے جس کی قیمت دو ڈالر ہو۔اچھے دنوں میں خاندان کے پاس دو کتے تھے جن میں سے ایک کو عطیہ دے دیا گیا تاکہ کچھ کھانا بچ جائے۔ٹائلر کا کہنا ہے کہ جب میں ٹی وی پر کہیں فوڈ شو دیکھتا ہوں تو چاہتا ہوں کہ ٹی وی میں گھس جاو¿ں اور سارا کھانا کھا لوں۔ امریکہ میں ایسے چار کروڑ ستر لاکھ خاندان ہیں جو کھانے کے لیے فوڈ بینکوں پر انحصار کرتے ہیں اور ہر پانچ میں سے ایک بچہ کسی غذائی مدد پروگرام کے تحت ملنے والا کھانا کھاتا ہے۔جس علاقے میں کیلی اور ٹائلر رہتے ہیں وہاں کے قریبی فوڈ بینک کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے وہاں مدد کے لیے آنے والے خاندانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

مزید : عالمی منظر