اسمبلیوں میں بل پاس پونے کے باوجود خواتین بنیادی سہولیات سے محروم

اسمبلیوں میں بل پاس پونے کے باوجود خواتین بنیادی سہولیات سے محروم

لاہور( رپورٹ : دیبا مرزا) سال2012 میںخواتین کے حقوق کے لئے بہت سی تنظیموں نے آواز بلند کی اور اس کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبا ئی حکو مت نے بھی عورتوں کے حقوق کے حوالے سے بل پاس کئے لیکن اس کے باوجود خواتین بنیادی سہو لیات سے محروم ہیںپاکستان میں قومی سطح پر 77% سے 87% خواتین مختلف سیکٹرز میں کام کر رہی ہیں۔پاکستان میں 55فیصد آبادی خواتین کی ہے جن میں نصف سے زائد خواتین گھروں میں کام کرتی ہیں ۔ پاکستانی خاتون کو موجودہ وقت میں جن دو بڑے پریشرز کا سامنا ہے ان میں ” صنفی امتیاز“ اور ”غربت“ ہے۔ پاکستانی معاشرے کا بڑا المیہ عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق نہ دینا ہے۔۔ سال -2012 2010ءتک زچگی بلڈپریشر اور دیگر بیماریوں کے باعث 2 لاکھ 90 ہزار خواتین ہلاک ہوئیں جبکہ ملک میں خواتین کی کل آبادی کا صرف ایک تہائی ہی خواندہ ہے ”ویمن ڈویلپمنٹ“ کے قیام کے بعد اب پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ اس ادارے کے دائرہ کار میں ان خواتین کو بھی لایا جائے جو کہ ”ورکرز“ کی کیٹگری میں نہیں ۔ ورکر کنگ ویمن کو بنیادی ضروریات فراہم کرنا بہت ضروری ہے تاہم قوام متحدہ کے فنڈ برائے اطفال یعنی یونیسف کے اشتراک سے حکومت پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین اور بچوں کی صورت حال میں قدرے بہتری آئی ہے۔گزشتہ 2سالوں میں زچگی کے دوران خواتین کی ہلاکتوں میں 47 فیصد کمی آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2000سے 2010تک دنیا بھر میں زچگی اور دیگر بیماریوں کے باعث 5 لاکھ 40 ہزار خواتین ہلاک ہوئیں۔ عالمی ادارہ صحت کی کوششوں سے مختلف ممالک نے خواتین کی ہلاکتوں کو روکنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے جس کے نتیجے میں خواتین کی ہلاکتوں میں کمی آئی ہے،لڑکیوں کی بنیادی تعلیم کے حصول میں رکاوٹوں کا تذکرہ کرتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں خواتین کی کل آبادی کا صرف ایک تہائی ہی خواندہ ہے۔گزشتہ روز خواتین کے دن کو منا نے کے حوالے سے ویمن ڈویلپمنٹ کی سیکرٹری ارم بخاری نے گفتگو کر تے ہوئے روزنامہ پاکستانءکو بتایا کہ ”ویمن ڈویلپمنٹ“ کے قیام کے بعد اب پوری کوشش کی جا رہی ہے کہ اس ادارے کے دائرہ کار میں ان خواتین کو بھی لایا جائے جو کہ ”ورکرز“ کی کیٹگری میں نہیں ہے۔ ور کنگ ویمن کو بنیادی ضروریات فراہم کرنا بہت ضروری ہےحکومت پنجاب نے خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں قانون سازی کی ہے انہوں نے کہا کہ لیکن اب بھی اس ضمن میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی صحت اور انھیں درپیش مسائل کے تدارک کے لیے بعض شعبوں میں بہتری کی نشاندہی بھی کی گئی ہے مگر ساتھ ہی مزید موثر اقدامات کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو ان کی بنیادی ضروریات اور ادویات کی معلومات فراہم کرنے میں بیرون ملک ڈونر ایجنسیوں سمیت خواتین اور بچوں کی فلاح کےلئے کام کرنے والی این جی اوز ، نجی تنظیموں اور میڈیا نے اپنا بہت اہم کردار ادا کیا ۔

مزید : میٹروپولیٹن 1