امریکی دباﺅ کے باوجو داربوں ڈالر کے پاک ایران گیس منصوبے کو مکمل کرینگے ، پاکستان

امریکی دباﺅ کے باوجو داربوں ڈالر کے پاک ایران گیس منصوبے کو مکمل کرینگے ، ...

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکی دباﺅ کے باوجود اربوں ڈالر کے پاکستان اور ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرےنگے ¾ آصف علی زرداری.5 7 ارب ڈالر کی گیس پائپ لائن منصوبے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کےلئے پیر کو ایران جائینگے ¾سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے زیرکنٹرول دریاﺅں پر ڈیمز بنانے کیلئے پاکستان کو بھارت سے این او سی لینے کی ضرورت نہیں ¾ دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنا ہمارے اپنے مفاد میں ہے ¾پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔دفتر خارجہ کے ترجمان معظم احمد خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ گیارہ مارچ کو پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے سنگ بنیاد کے موقع پرکچھ دوست ممالک کے سربراہان کو بھی دعوت دی گئی ہے،ترجمان نے کہا کہ گیس پائپ لائن پر پاکستان کی پالیسی واضح ہے کہ ہم کسی کشمکش کا شکار نہیں ہیں، پاکستان کو توانائی بحران کا سامنا ہے،امریکہ اور کچھ دیگر ممالک اس منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرچکے ہیںتاہم ہم امریکی سمیت ان ممالک سے توقع کرتے ہیں کہ پاکستان میں توانائی کے شدید بحران کے پیش نظراس منصوبے کوقبول کریں گے ترجمان نے تصدیق کی کہ راجہ پرویز اشرف پرسوں بروز ہفتہ خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ پرحاضری دینے کیلئے بھارت جائیں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ امریکہ سمیت کئی ممالک کی طرف سے مطالبات سامنے آئے ہیں اور واشنگٹن سے ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں تشویش کا اظہارکیا گیا ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ امریکا سمیت پاکستان کے دوست ممالک پاکستان کی معاشی مجبوریوں کو سمجھیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ کی طرف سے اس منصوبے پر کوئی باضابطہ احتجاجی نوٹ نہیں ملا صرف بیانات سامنے آئے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے حالیہ بیان کے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی ہے ، دہشت گردی اور انتہاپسندی ایک مشترکہ خطرہ ہے جس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اورخطے کے تعاون کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں میں ملوث افراد کو عدالتوں میں مجرم ثابت کرنا ہوگا محض کہہ دینا کافی نہیں ہے ، دونوں ممالک اس مسئلے پرکام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا، دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنا ہمارے اپنے مفاد میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات ہی دونوں ممالک کے درمیان مسائل حل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ بھارت کو انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ دینے کے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ کابینہ نے اس پر فیصلہ دیدیا ہے کہ بھارت کے ساتھ معمول کی تجارت ہونی چاہئے ۔ حکومت اس فیصلے پرعمل کےلئے پرعزم ہے ، یہ ایک عمل ہے جس پر کام جاری ہے۔ بھاشا ڈیم کی تعمیرکےلئے بھارت سے این او سی کے حصول کے متعلق سوال پر ترجمان نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کےلئے مختص دریاﺅں پرکسی بھی منصوبے کی تعمیرکےلئے بھارت سے این او سی کی ضرورت نہیں ، عالمی ثالثی عدالت نے بھی اپنے ایک حالیہ فیصلے میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کو ڈیم وغیرہ کےلئے بھارت سے این او سی کی ضرورت نہیں ہے تاہم بھارت ان دریاﺅں پر کوئی سٹرکچر تعمیر کرنا چاہے گا تو اسے پاکستان کو پہلے آگاہ کرنا ہوگا۔ چین میں قیادت کی تبدیلی اور اصلاحات کے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ یہ قطعی چین کا اندرونی معاملہ ہے پاکستان کو چینی قیادت پرمکمل اعتماد ہے جو اپنے ملک اورعوام کی ترقی کےلئے کوشاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کی نئی قیادت کے ساتھ کام کرنے کا خواہشمند ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مثالی تعلقات ہیں۔ موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کامیابیوں کے بارے میں سوال پر ترجمان نے کہا کہ ان کامیابیوں کو مختصر وقت میں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاک ایران گیس پائپ لائن معاہدے پر دستخط کی تقریب میں کئی ممالک کے سربراہان شریک ہوں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ

مزید : صفحہ اول