ایک ہی حل!!

ایک ہی حل!!
ایک ہی حل!!

  

کم و بیش دس روز بعد موجودہ جمہوری منتخب حکومت کی آئینی ٹرم ختم ہو جائے گی۔اس طرح پانچ سال مکمل، تو ہوجائیں گے، لیکن یہ نہ پوچھیں کہ ایک ایک پل کس قدر بھاری تھا اور قدم قدم پر کیا کیا مشکلات در پیش رہیں۔یہ بے یقینی کے پانچ سال تھے۔ہر طرف سے دباﺅ پڑتا رہا،حکومت ٹوٹنے کی پیش گوئیاں جاری رہیں، اتحاد بنتے رہے اور ٹوٹتے رہے، بلیم گیم کا سلسلہ کہیں ختم ہونے کو نہ آتا تھا۔ہر چند میثاق لندن میں طے تو یہ ہوا تھا کہ آئندہ ایک دوسرے کی ٹانگیں نہیں کھینچی جائیں گی ، مگر اس پر عمل ندادر!!وفاقی حکومت نے مفاہمت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ، کسی ایک نے ہاتھ جھٹکا تو دوسرے کا تھام لیا، اس طرح استحکام بر قرار رکھا گیااور اب یہ معجزہ رونما ہونے جا رہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئی جمہوری حکومت اپنی ٹرم پوری کر رہی ہے۔

اب آگے کیا ہو گا۔اس وقت دلوں میں شدید وسوسے ہیں۔کوئٹہ کے بعد کراچی میں قتل و غارت کا بازار گرم ہے ، میں ایک ہفتہ اس شہر میں گزار کر آیا ہوں، جو کبھی روشنیوں ، رنگوں اور مسرتوں کا مرقع ہوا کرتا تھا ، اب یہاں ویرانیوں اور بدگمانیوں نے ڈیرہ ڈال رکھا ہے۔تخریب کاری، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ ہے کہ کہیں رکتا ہی نہیں،جلاﺅ گھیراﺅ نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔کوئی کسر باقی تھی تو دھرنا کلچر نے نکال دی۔دھرنے اِس لئے ہوتے ہیں کہ دہشت گرد عام بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں ،مگر دھرنوں کی وجہ سے بھی عام بے گناہ شہریوں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں، سب راستے بند ملتے ہیں ، سڑکوں پر ٹریفک کی لمبی قطاریں نظام زندگی کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ احتجاج ایک آئینی حق ہے، مگر اس کا طریقہ بہر حال ایسا ہونا چاہیے کہ دوسروں کی زندگی وبال نہ ہو۔سیاسی دھرنے اسلام آباد کو شل کر کے رکھ دیتے ہیں۔اس مقصد کے لئے الگ پارک مختص کرنے کی ضرورت ہے، جہاں لند ن کے ہائیڈ پارک کی طرح لوگ دل کی بھڑاس نکال لیا کریں۔ ہمارے ہاں طاقت کے جواب میں طاقت کا استعمال بگاڑ پیدا کر رہا ہے، اس صورت حال پر فوری قابو پانے کی ضرورت ہے اور میرے نزدیک اس کا ایک ہی حل ے کہ اب بلا تاخیر الیکشن کروا دیئے جائیں، شفاف، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ الیکشن، جن پر کوئی انگلی نہ اُٹھا سکے اور ان کے نتائج کو ہر کوئی خوش دلی سے قبول بھی کر لے اور پر امن طور پر انتقال اقتدار کا عمل مکمل کر لیا جائے۔ اس مقصد کے لئے ایک متفقہ الیکشن کمیشن تشکیل پا چکا ہے، انتخابی فہرستوں پر نظر ثانی کر لی گئی ہے ۔ بس نگران حکومت بننے کی دیر ہے اور الیکشن کے لئے الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔ اس دوران امن و امان کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ، میری تجویز یہ ہے کہ فوج کا ادارہ سول حکومت کی مدد کے لئے آگے بڑھے اور اپنی پیشہ وارانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے قیام امن کو یقینی بنائے۔ہماری مسلح افواج اس سے قبل سوات اور مالاکنڈ میں انتہا پسندی پر قابو پا چکی ہیں اور قبائلی علاقوں میں بھی دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے، مگر اب فرقہ وارانہ قتل وغارت کا نیا فتنہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔اس میں ہمارے علمائے کرام کا بھی فرض ہے کہ وہ مذہبی ہم آ ہنگی، اتحاد اور یک جہتی کے لئے فضا ہموار کریں۔ ہمارا مذہب خون بہانے کی اجازت نہیں دیتا، اس اصول کو دلوں اور ذہنوںمیں راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔

الیکشن کے دوران عوام لازمی طور پر ہر پارٹی کی ماضی کی کارکردگی کا سوال پوچھیں گے، اس وقت دونوں بڑی پارٹیاں ملک میں بر سر اقتدار ہیں اور اگر لوگوں کی تکالیف کو پوری طرح رفع نہیں کیا جا سکا، تو اس سے گورننس کی خرابی ظاہر ہوتی ہے۔کراچی میں حالیہ قتل وغارت انتہائی بھیانک اور ہولناک شکل اختیار کر گئی تھی اور اگر فوری طور پر صوبائی حکومت نے اس کا نوٹس لے لیا ہوتا تو سپریم کورٹ کو مداخلت نہ کرنا پڑتی،انتہا پسندوں تک پہنچنا مشکل ضرور ہو سکتا ہے، لیکن جہاں لاشیں بکھری پڑی ہوں اور زخمی کراہ رہے ہوں ، وہاں حکومتی اہل کار بر وقت پہنچ جائیں تو لوگوں کی بڑی حد تک تشفی ہو جاتی ہے اور وہ حکومت کو اپنے دُکھ درد میں شریک سمجھتے ہیں۔اس لحاظ سے موجودہ حکومتوں کی اہلیت پر عوام انگلی اٹھائیں گے، تو یہ کوئی انہونی نہیں ہو گی، یہ تو مکافات عمل ہے۔ بہر حال اصل فیصلہ عوام نے کرنا ہے اور انہیں اپنا یہ فیصلہ پوری آزادی سے کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ مجھے یہ کہنے میں باک نہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے میں موجودہ حکومتوں کو پوری کامیابی حاصل نہیں ہو سکی، ان جماعتوں کو اپنے ووٹروں کو بتانا ہوگا کہ اس ضمن میں ان کے سامنے کیا مشکلات حائل تھیں اور اگر عوام انہیں دوبارہ مینڈیٹ دیتے ہیں تو سابقہ مشکلات پر کس طرح قابو پایا جا سکے گا۔اس وقت انتہا پسند طبقوں نے قیام امن کے لئے مذاکرات کی پیش کش کی ہے، خود امریکہ بھی افغان طالبان سے مذاکرات کا عندیہ دے چکا ہے۔ دنیا میں تمام تنازعات آخر کار آمنے سامنے میز پر بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے ہی طے ہوتے ہیں ، دونوں عالمی جنگوں کا خاتمہ بھی بات چیت کے ذریعے ممکن ہوا ، کئی ممالک میں انتہا پسندوں سے بھی مذاکرات کے ذریعے ہی امن قائم کیا گیا ہے، آئر لینڈ کی مثال سب کے سامنے ہے ، تھائی لینڈ میں بھی اسی طریقے سے حل نکالا گیا ہے، فلپائن میں صدیوں کی خانہ جنگی سے مذاکرات کے ذریعے ہی چھٹکارا حاصل کیا گیا ہے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا نے بھی قومی مفاہمت کے جذبے کے ساتھ ملک میں قیام امن کو یقینی بنایا تھا۔ پاکستان میں اگر بات چیت کے ذریعے امن قائم ہو سکے تو اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔امریکہ نے افغانستان سے نکلنا ہے، تو ہمیں اس کی مخالف قوتوں کے ساتھ گزارا کرنا ہے اور بہتر یہ ہے کہ پُرامن راستہ نکالا جائے۔ سر دست ہماری ترجیح انتخابات کا انعقاد ہے، یہی وہ راستہ ہے، جس پر چل کر ہم ملک میں سیاسی استحکام لا سکتے ہیں۔الیکشن کا التوا کسی حال اور کسی بہانے قبول نہیں، اس لئے کہ یہی ایک حل ہمارے مسائل کا واحد حل ہے۔الیکشن کے انعقاد پر عمومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے، عوام ، میڈیا، عدلیہ، حکومت، اپوزیشن اور فوج کی طرف سے الیکشن کے بر وقت انعقاد پر زور دیا جا رہا ہے۔ ساری دُنیا کی نظریں بھی اس الیکشن پر مرکوز ہیں ، الیکشن کا بر وقت انعقاد اس امر کا ثبوت ہو گا کہ ہم ایک مہذب ، ذمے دار اور بالغ نظر قوم ہیں۔ہمیں اقوام عالم کی صفوں میں سرخرو ہونا ہے، تو برستی گولیوں میں بھی الیکشن ہو جانا چاہئے، خوا ہ آسمان گر پڑے یا زمین پھٹ پڑے ، ہمیں الیکشن کے انعقاد کے عزم پر قائم رہنا چاہئے۔ہماری سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے منشور کے ساتھ میدان میں اترنا ہو گا،اسی منشور کے ذریعے عوام کے سنگین مسائل کے حل کی یقین دہانی کرانا ہوگی اور یہی وہ طریقہ ہے، جو آنے والے الیکشن کو مثبت اور نتیجہ خیز بنا سکتا ہے۔

مزید : کالم