کراچی میں فساد نہیں طاقت کی رسہ کشی ہے، سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں ، شہری بچانے کیلئے جو ممکن ہے کر دکھائیں : سپریم کورٹ

کراچی میں فساد نہیں طاقت کی رسہ کشی ہے، سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں ، شہری ...
کراچی میں فساد نہیں طاقت کی رسہ کشی ہے، سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں ، شہری بچانے کیلئے جو ممکن ہے کر دکھائیں : سپریم کورٹ

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے جمعہ کی شام تک سانحہ عباس ٹاون کے تمام متاثرین کو امدادی چیکس فراہم کرنے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ کراچی میں فرقہ وارانہ فساد نہیں،طاقت کی رسہ کشی ہے ، ہمارایہ المیہ ہے کہ اچھے افسران کو ہٹادیاجاتاہے ۔عدالت نے آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرزکو ہدایت کی کہ وہ جائیں اور شہریوں کے جا ن ومال کے تحفظ کیلئے جو کچھ کرسکتے ہیں ، کریں ، سپریم کورٹ اُن کی پشت پناہی کرے گی ، تمام احکامات عدالت کو ہی دینے ہیں تو حکومت کیاکررہی ہے جبکہ تین مختلف اداروں نے کراچی کے حالات پر رپورٹیں سپریم کورٹ میں پیش کردیں۔سانحہ عباس ٹاﺅن ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ کررہاہے ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ سابق آئی جی فیاض لغاری نے تمام معلومات ہونے کے باوجود بد امنی روکنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔سندھ کے نئے آئی جی شبیر شیک نے یقین دلایا کہ وہ ملزموں کیخلاف کارروائی کریں گے۔ کراچی کے حالات پر رینجرز، سپیشل برانچ اورآئی بی نے رپورٹ پیش کی جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریماکس دئیے کہ کراچی کی عمومی صورتحال دیکھ کررینجرز کی پیش کی گئی رپورٹ کی طرز پر ہم بھی بنا سکتے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کراچی میں فرقہ وارانہ فساد نہیں طاقت کی رسہ کشی ہے ۔ سانحہ عباس ٹاو¿ن کے تفتیشی افسر کی طرف سے کسی سوال کا جواب نہ ملنے پر لارجر بینچ نے برہمی کا اظہار کیا۔دوران سماعت قائم مقام آئی جی سندھ غلام شبیر شیخ نے عدالت کو بتایا کہ کراچی میں 31 ہزار88 پولیس کی نفری ہے جس میں سے 18ہزارپولیس اہلکارشہریوں کیلئے جبکہ آٹھ ہزاروی آئی پیز کیلئے ہیں ۔ ایس ایس پی نیازکھوسو نے بتایا کہ تھانوں میں 20 ہزارنفری ہے جو دو کروڑ آبادی کیلئے نا کافی ہے ، اگر عدالت حکم د ے دے تو ہمیں نفری مل سکتی ہے ، عدالت کے حکم کے بغیر یہاں کچھ نہیں ہوگاجس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم حکم کیوں دیں حکومت کیا کام کررہی ہے ؟آئی سندھ نے کہا کہ تھانوں کی نفری پوری ہوجائے تو معاملہ بہتر ہوسکتا ہے جس پر چیف جسٹس نے آئی جی سے استفسار کیا کہ آپ جب سے آئی جی بنے ، آپ نے اپنے ہاﺅس کوان آرڈرکرنے کیلئے کیااقدامات کیے جس پر غلام شبیر شیخ نے جواب دیا کہ اُنہیں رات ٹی وی پر پتہ چلا کہ آئی جی کا چارج دیا گیا ہے ، سب سے پہلے ہاﺅس ان آرڈر کروں گا، عوام کو تبدیلی نظر آئے گی،چاروں صوبوں میں رہا، سمجھوتا نہیں کیا،اس لیے معطل بھی رہا۔چیف جسٹس نے آئی جی کو کہا کہ ڈی آئی جی بشیر میمن کہاں ہیں ، اُنہیں اپنی ٹیم کا حصہ بنائیں، سپریم کورٹ آپکی پشت پر ہے ، جائیں عوام کے تحفظ کیلئے جوکرسکتے ہیں کریں ، ڈی جی رینجرزبھی جائیں، عوام کے جان ومال کاتحفظ کریں، ہم ا±ن کے ساتھ ہیں ، چند پولیس افسران نے پوری فورس کو یرغمال بنارکھا ہے، فیاض لغاری ہٹادیئے گئے تو کیا فرق پڑے گا؟ اچھے افسران بہت موجود ہیں ،آپ آئی جی لگ گئے ہیں ، شام تک ایسے افسران کو عہدوں سے ہٹادیں جس پر قائم مقام آئی جی عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ایسا کرینگے۔چیف جسٹس نے کلفٹن واقعہ پر کہا کہ ملزم ابھی تک کیوں نہیں پکڑے گئے؟ آئی جی سندھ نے بتایاکہ ملزم لاہور کا رہنے والاہے، جلد پکڑلیں گے جس پر جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیئے کہ اور آہستہ آہستہ آپ اسے سرحد پار کرادیں گے۔کمشنر کراچی ہاشم رضا نے عباس ٹاﺅن سانحہ کے حوالے سے عدالت میں کہا کہ میڈیا سے یک طرفہ موقف پیش کیا، ہمیں نہیں دکھایا گیا، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا مطلب ہم سمجھ گئے کہ ہم یک طرفہ ہیں ۔کمشنر کراچی نے کہا کہ اُن کا یہ مطلب نہیں لیکن میڈیا نے اُنہیں نہیں دکھایاجبکہ وہ وہاں موجود تھے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کہیں توہم چینلزکوڈائریکشن دیدیتے ہیں کہ وہ آج سے صرف آپ کو دکھائیں ۔دوران سندھ حکومت نے موقف اختیار کیاہے کہ سانحہ عباس ٹاﺅن کے متاثرین کومعاوضہ دے چکے ہیں جس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ ایک ٹی وی پروگرام میں بتایا گیا کہ متاثرین کوکوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔عدالتی استفسار پر وزیر اعلیٰ سندھ کے وکیل نے بتایا کہ معاوضے کی ادائیگی کا اعلان ہوا ہے، مزید اُنہیں معلوم نہیں جس پر چیف جسٹس نے کمشنر کراچی کو ہدایت کی کہ آج شام تک سانحہ عباس ٹاو¿ن کے تمام متاثرین میں معاوضے کی چیکس تقسیم کر دیئے جائیں۔

مزید : اسلام آباد /Headlines