وسطی امریکی ملک میں کمپنی کے ملازمین کو زبردستی پیمپر پہنا دئیے گئے

وسطی امریکی ملک میں کمپنی کے ملازمین کو زبردستی پیمپر پہنا دئیے گئے
وسطی امریکی ملک میں کمپنی کے ملازمین کو زبردستی پیمپر پہنا دئیے گئے

  

تیووسی والپا (نیوز ڈیسک) ملازمین کے حقوق کی خلاف ورزی مختلف طریقوں سے کی جاتی ہے لیکن وسطی امریکا کے ملک ہنڈوراس کی ایک کمپنی نے ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کا نہایت شرمناک طریقہ اختیار کیا جس کا انکشاف ہونے پر اسے بین الاقوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

گزشتہ ہفتے جنرل کنفڈریشن آف ورکرز کے سیکرٹری جنرل ڈینئل ڈیورن نے کیونگ شین لیئر ہنڈوراس الیکٹریکل ڈسٹری بیوشن سسٹمز نامی کمپنی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بتایا کہ اس کمپنی نے اپنے ملازمین پر ضروری حاجات کے لئے واش روم جانے پر بھی پابندی لگادی اور انہیں سارا دن پیمپر پہن کر کام کرنے پر مجبور کیا۔ ڈیورن نے اپنے الزامات کی بنیاد کمپنی کے کچھ ملازمین کے بیانات کو بنایا جن میں کہا گیا تھا کہ یہ بات سچ ہے کہ انہیں ضروری حاجات کے لئے واشروم جانے کی بھی اجازت نہیں تھی اور ملازمت سے نکالے جانے کے خوف کے باعث انہیں سارا دن پیمپر استعمال کرنا پڑتے تھے۔

غیر ملکیوں کے خلاف قانون نافذ کرنے کی خواہش نے سعودی عرب کو مشکل میں ڈال دیا

کمپنی کی ایک سابقہ ملازمہ ماریہ گیلیانو کا کہنا ہے کہ وہ اس کمپنی کے لئے سات سال تک کام کرتی رہی ہیں اور اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ملازمین کو پیمپر پہنانے کی بات 100 فیصد درست ہے۔ شرمناک انکشافات کے بعد مقامی اور بین الاقوامی تنظیموںنے کمپنی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کمپنی کا تعلق بنیادی طور پر کوریا اور امریکا سے ہے اور ہنڈوراس میں اس کے تقریباً 3500 ملازمین ہیں۔

مزید :

انسانی حقوق -