ماں! تجھے سلام

ماں! تجھے سلام
ماں! تجھے سلام

  

’’ماں‘‘ دنیا کی لطافتوں میں سے سب سے حسین، لطیف، خوبصورت، منفرد ،عظیم رشتہ اور تحفہ ہے۔ رسول عربیؐ کے بعد دنیا میں جو سب سے اعلیٰ و ارفع ہستی تصور کی گئی وہ ’’ماں‘‘ ہی ہے، جس نے ماں کی قدر نہ جانی وہ دنیا میں بھی نامراد رہا اور آخرت میں بھی نامراد رہے گا۔ جن کے پاس ماں جیسا عظیم عطیہ ہے وہ دنیا کے سب سے خوش قسمت ترین انسانوں میں سے ہیں اور جو اس عظیم ہستی سے محروم ہیں، انہیں بدقسمت ہی کہہ سکتا ہوں ،کیونکہ ماں کی دعاؤں سے ہی قسمتیں بدلتی ہیں اور تمام آرزوئیں، تمنائیں بَر آتی ہیں۔ جنت اور دوزخ اللہ نے روزِ محشر کے لئے مخصوص کر دئیے ہیں۔ کہا گیا جو اچھے اور نیک کام کرے گا وہ جنت میں جائے گا، جبکہ گناہ گاروں کے لئے خدا نے دوزخ مخصوص کر دی ہے، یعنی جو بُرے کام کرے گا، جہنم، یعنی دوزخ اُس کی جگہ ہو گی۔

جنت اور دوزخ کا یہ سفر بہت لمبا ہے۔ جنت کے لئے جو کچھ کرنا پڑتا ہے اور پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، اُس کی فہرست خاصی طویل ہے، لیکن خدا کا اس دنیا پر یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ انسان کو ماں جیسا عطیہ دیا ہے اور اُس کے قدموں میں جنت رکھ دی ہے۔ ظاہر ہوا کہ خدا نے دنیا میں ہی جنت عطا کر دی ہے۔ ’’ماں‘‘___ خدا کی اتنی بڑی تخلیق ہے کہ یہ نہ ہوتی تو کائنات بھی وجود میں نہ آتی۔ یہ ماں کا ہی احسان ہے کہ ہمارا وجود دنیا میں ہے۔ماں نے ہی بڑے بڑے سائنسدان اور بہت ہی عظیم لوگ پیدا کئے۔ سچ ہے کسی سے ’’کدے ناں وچھڑے ماں‘‘ ۔ ماں بچھڑ جاتی ہے، تو جیسے دنیا ہی روٹھ جاتی ہے۔ انسانی مصیبتوں اور مشکلوں کے آگے ڈھال کا کام دینے والی ماں جب دنیا میں نہیں رہتی تو سب مصیبتیں اور سب مشکلیں غالب آ جاتی ہیں۔ ماں ہوتی ہے تو وہ سب مصیبتوں اور مشکلوں کو اپنی دعاؤں سے ٹال دیتی ہے۔ ماں کی دعا میں اتنا اثر ہوتا ہے کہ نہ صرف فوری عرش پر پہنچتی ہے ،بلکہ خدا کی بارگاہ میں پہنچ کر قبولیت کا عظیم شرف بھی حاصل کرتی ہے۔

میں اگرچہ شدید علیل ہوں۔ کینسر جیسے موذی عارضے نے گھیر رکھا ہے اور کبھی کبھی یہ گھیرا بہت ہی تنگ ہو جاتا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ مَیں ایک جان لیوا مرض سے لڑ رہا ہوں اور کئی سال سے اس سے برسرپیکار ہوں، لیکن اس لحاظ سے خوش قسمت ہوں کہ مجھے خدا کے بعد ماں جیسا آسرا حاصل ہے۔ جو ہر دعا میں مجھے یاد رکھتی ہے۔ مَیں اگر جی رہا ہوں اور میرا وجود دنیا میں باقی ہے تو صرف ماں کی دعاؤں کے اثر سے ہے۔مجھے دنیا میں اگرچہ ہر نعمت میسر ہے، لیکن مَیں ماں سے بڑی نعمت کوئی نہیں سمجھتا۔ ہم تین بھائی اور ایک بہن ہیں اور تینوں سے ہی ماں کا پیار کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، لیکن مجھے لگتا ہے کہ ماں مجھے باقی بہن بھائیوں سے زیادہ چاہتی ہیں۔ اس کی وجہ میری بیماری بھی ہو سکتی ہے۔میری ماں خاصی عمر کی ہو چکی ہیں۔ بیمار بھی رہنے لگی ہیں، لیکن اب بھی میرے لئے کھانا اپنے ہاتھ سے بناتی ہیں اور میری صحت کے حوالے سے بہت فکرمند رہتی ہیں۔

مَیں جب بھی اپنی والدہ کے کمرے میں داخل ہوتا ہوں ، ہمیشہ ادب میں اُن کے قدموں کی جانب ہی بیٹھتا ہوں۔ جہاں دو کرسیاں رکھی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک میرے لئے ہوتی ہے۔ میری والدہ کو تھوڑی سی پنشن ملتی ہے جو میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد انہیں ملنا شروع ہوئی۔ جو ، اب تک جاری ہے۔ اس پنشن میں سے وہ اپنے تمام پوتوں، پوتیوں کو نہ صرف جیب خرچ دیتی ہیں، بلکہ یہ بھی کوشش کرتی ہیں کہ اپنے بیٹوں کو بھی اس پنشن میں سے کچھ نہ کچھ دیں۔ اُن کا اپنی تمام بہوؤں کے ساتھ سلوک بیٹیوں جیسا ہے۔ وہ کبھی ساس نہیں بنیں ،بلکہ ایک حقیقی ماں کی طرح اُن کے لئے بھی ویسا ہی سوچتی ہیں، جیسا اپنی بیٹی کے لئے سوچتی ہیں۔ عید یا کوئی تہوار آ جائے تو سب کو کچھ نہ کچھ دینا اُن کے مزاج میں شامل ہے۔

مَیں نے ہمیشہ، ماں کو دعا کرتے دیکھا ہے۔ دیگر مائیں بھی ضرور ایسا کرتی ہوں گی۔ مَیں سمجھتا ہوں، ماں، ماں ہی ہوتی ہے اور ماں کے اس عظیم جذبے سے اُس کا رتبہ اور بھی بلند ہو جاتا ہے۔ روزِ محشر جب ہم اٹھائے جائیں گے تو ماں کے حوالے سے ہی ہماری پہچان ہو گی۔ دُنیا کے ہر ملک کی ماں خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتی ہو۔ کسی بھی رنگ یا نسل سے تعلق رکھتی ہو، ماں ہی ہے۔ یقیناًماں کا جذبہ بڑا انمول ہے۔ اُسے کسی ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ ماں کسی رنگ، نسل، قومیت یا زبان کی محتاج نہیں۔ وہ لوگ بڑے ہی بدبخت ہیں جو ماں کی قدر نہیں کرتے۔ اُن کی عزت و تکریم میں فرق لاتے ہیں۔ میرے دماغ میں اب بھی ایک فوک گلوکار کا یہ پنجابی نغمہ گونج رہا ہے ’’مائیں نی میں کینوں آکھاں، درد وچھوڑے دا حال نی‘‘ جب بھی کہیں یہ نغمہ سنتا ہوں، میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور آنسو موتی بن کر گرنے لگتے ہیں۔ میری کیفیت ہی کچھ اور ہو جاتی ہے۔ میری والدہ بیمار ہونے کے باوجود اپنے مطالعے کی عادت کو نہیں چھوڑ سکیں۔ وہ ’’پاکستان‘‘ میں چھپنے والے میرے کالم بڑے شوق سے پڑھتی ہیں اور تمام کالم بڑی حفاظت سے ایک پرانے صندوق میں سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں۔ وہ مختلف ٹی وی چینلوں پر میرے ’’ٹاک شوز‘‘ بھی بڑے شوق سے دیکھتی ہیں۔ جن میں وقتاً فوقتاً شرکت کرتا ہوں، یہ میرے لئے ماں کا بڑا انعام ہے۔ جس پر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے مجھے ایک عظیم ہستی سے نوازا ہوا ہے۔

مَیں نے یہ کالم اپنی ہی نہیں، دُنیا کی اُن تمام ماؤں کے لئے تحریر کیا ہے جو کسی بھی خطے اور کہیں بھی رہتی ہیں۔ مَیں کہنا چاہتا ہوں ’’اے ماں! تُو نہ ہوتی تو ہماری یہ حیثیت ہی نہ ہوتی۔ تیری آغوش نے ہمیں دُنیا کی گرم سرد ہواؤں سے محفوظ رکھا، چلنا اور بولنا سکھایا۔ علم ہی نہیں وہ تربیت بھی دی ، وہ سلیقہ عطا کیا جو آج ہمارے کام آ رہا ہے۔ ماں! تیری بدولت ہی ہم عزت کے ساتھ جینے اور بہت کچھ کرنے کے قابل ہوئے۔ ماں! تُو نہ ہوتی تو ہمارا وجود بھی نہ ہوتا۔ آج جو کچھ بھی ہیں، ماں! تیری بدولت ہی ہیں۔ ماں! تو جب تک دنیا میں ہے، ہمارے سروں پر سلامت رہے ،کیونکہ تیرے دم سے ہی ہمیں دعاؤں کا خزانہ ملتا ہے۔ ہمارے دلوں کو پیار کی ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے۔ ماں! تیرے ان جذبوں کو سلام کرتا ہوں جو صرف اپنی اولاد کے لئے وقف ہوتے ہیں۔ ماں! مَیں اور بھی بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں، لیکن میری آنکھیں بھر آئی ہیں اور فرطِ جذبات سے بہنے لگی ہیں، جبکہ الفاظ ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ ماں! تجھے سلام، تجھے سلام!

مزید :

کالم -