پاک چین جوائنٹ چیمبر کی عمدہ کارکردگی

پاک چین جوائنٹ چیمبر کی عمدہ کارکردگی
پاک چین جوائنٹ چیمبر کی عمدہ کارکردگی

  

پاکستان کی بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ معاشی میدان کے علاوہ ترقی کے ہرراستے میں چین پاکستان کے ساتھ ہے، چین کی دوستی صرف الفاظ تک محدود نہیں ہے بلکہ چین عملی طورپر پاکستان کو ایشیا میں خصوصاً سارک ممالک میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ بظاہر انڈیا کے ساتھ اس کی ایکسپورٹ ساٹھ بلین ڈالر کے قریب پہنچ رہی ہے اور پاکستان اس کے مقابلہ پر بہت پیچھے ہے لیکن خوشی کی بات ہے کہ چین مختلف شعبوں میں پاکستان کو ٹیکنالوجی فراہم کرکے پاکستان کی صنعت وتجارت اور دوسرے شعبوں کو مضبوط بنارہا ہے۔ زرعی طورپر ایک ایکڑ زمین سے زیادہ فصل حاصل کرنے کے لئے ہائی برڈ، ٹیکنالوجی کے استعمال سے مغرب انتہائی کم رقبہ میں فصلیں کاشت کرکے پاکستان سے کہیں زیادہ پیداوارحاصل کررہا ہے جبکہ دوسری طرف پاکستانی کاشتکار ہائی برڈ بیج اور ٹیکنالوجی نہ ہونے سے محدود پیداوار حاصل کرتا تھا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر شہزاد ملک نے چین کے ساتھ مشترکہ منصوبہ کے تحت چاول وغیرہ کے شعبہ میں ہائی برڈ بیج پیداکرکے پاکستان میں چاول کی پیداوار میں ہزاروں ٹن کا اضافہ کردیا ہے جس پر حکومت پاکستان نے انہیں اعزاز سے بھی نوازا ۔

پاک چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے روح رواں شاہ فیصل آفریدی کا شمار ان چند پاکستانیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے وژن کے ساتھ پاکستان کا تابناک اور روشن مستقبل چین کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کی شکل میں دیکھا۔ سب سے پہلے جن چند افراد نے چین کے ساتھ جوائنٹ ونچر کئے ان میں شاہ فیصل آفریدی پیش پیش ہیں۔ اس وقت رائیونڈ میں ہائررباسپیشل اکنامک زون اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان صنعت وتجارت کے شعبہ میں بہت تیزی سے ترقی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اگر جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی کا رخ پاکستان کی طرف ہوجائے۔ دلچسپ بات ہے کہ پاکستان مغربی ممالک سے اربوں ڈالر کا مال امپورٹ کرتا ہے لیکن بار بار وعدوں کے باوجود کسی بھی مغربی ملک نے پاکستان کو اپنی ٹیکنالوجی فراہم نہیں کی جبکہ دوسری طرف چینی ٹیکنالوجی ہرملک حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن چین پاکستان کے سوا کسی دوسرے ملک کو ٹیکنالوجی کی فراہمی پر رضامند نہیں ہے ۔

حال ہی میں چین کے جیانگ سو چیمبر آف کامرس کے ایک وفد نے پاکستان کا دورہ کیا اور یہاں انہوں نے بہت مصروف وقت گزارا۔ پاک چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی طرف سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ریجنل آفس لاہور میں ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا جس میں پنجاب سرمایہ کاری بورڈ، اپٹما سمیڈا سمیت دونوں ملکوں میں سرمایہ کاری سے دلچسپی رکھنے والوں نے شرکت کی۔ چینی وفد نے بتایا کہ وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے بنانے کے لئے آئے ہیں۔ شاہ فیصل آفریدی نے آئیڈیا دیا کہ ٹیکنالوجی کے بغیر پاکستان معاشی طورپر دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل نہیں کرسکتا اس لئے معاشی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے کہ پاکستان کے دل لاہور میں پاک چائنا ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی جائے۔ اس سلسلے میں چینی وفد کی ملاقات ہائر ایجوکیشن کے سیکرٹری پروفیسر نظام الدین سے بھی کرائی گئی۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے بھرپور پیشکش کی ہے کہ پاک چائنا ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے قیام میں ہرممکن مددفراہم کی جائے گی۔

پاک چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس کی میڈیا منیجر وردہ گوہر نے ہمیں بتایا کہ چینی وفد نے ایک ہفتہ بہت مصروف گزارا۔ ہائر اور بحریہ ٹاؤن سمیت مختلف اداروں میں گئے۔ ایک بہت اہم ملاقات یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے حکام کے ساتھ ہوئی ۔ یہ میٹنگ اس لحاظ سے بہت اہم تھی کہ انجینئرنگ یونیورسٹی کی خواہش ہے کہ پاک چائنا جوائنٹ ایم بی اے پروگرام شروع کیا جائے، اس ضمن میں شعبہ سے تعلق رکھنے والا جب بھی کوئی اہم وفد آئے تو ان سے ہماری بھی ملاقات کروائی جائے۔ چنانچہ چینی وفد نے ان سے تفصیلی ملاقات کی جس میں انجینئرنگ یونیورسٹی کی طرف سے دلچسپی کا اظہار کیا گیا کہ وہ چین کے ساتھ تعلیمی شعبے میں مشترکہ منصوبہ بنانا چاہتے ہیں۔ چینی وفد نے مثبت جواب دیا اور کہا کہ وہ آئندہ باقاعدہ ایک ملاقات میں باہمی رضامندی کے سمجھوتے پر دستخط کریں گے۔ شاہ فیصل آفریدی نے پاک چائنا ٹیکنالوجی یونیورسٹی کا جو آئیڈیا پیش کیا ہے اسے چینی وفد نے بہت پسند کیا اور یقین دہانی کروائی کہ اس ضمن میں وہ چین واپس جاکر متعلقہ شعبہ سے تمام امور طے کرکے اس ضمن میں پیش قدمی کریں گے۔ سب سے زیادہ خوشی کی بات ہے کہ اس سلسلہ میں انہیں زمین کی فراہمی کا بھی یقین دلادیا گیا ہے۔ چینی وفد نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ پاکستان میں خانہ فرہنگ ایران اور برٹش کونسل کی طرز پر پاک چائنا فرینڈ شپ سوسائٹیز قائم کی جائیں، جو دونوں ملکوں کے باشندوں کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی شعبوں میں بھرپور تعاون کریں۔ چینی زبان کی ترویج پاکستان میں اور اردو زبان کی ترویج اور سکول کی سطح پر انہیں اختیاری مضمون کا درجہ دے کر دونوں ملکوں کے عوام کو مزید قریب لایا جائے۔

پاک چائنا جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے سیکرٹری صلاح الدین حنیف نے کہا کہ چینی وفد لاہور سے بہت متاثر ہو کر گیا ہے امید ہے کہ نہ صرف ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے آئیڈیاکو قبولیت ملے گی بلکہ کچھ نئے شعبوں میں چینی سرمایہ کاری بھی ہوگی۔ *

مزید :

کالم -