یومِ خواتین پر ایک سبق آموز کہانی!

یومِ خواتین پر ایک سبق آموز کہانی!
یومِ خواتین پر ایک سبق آموز کہانی!

  

[۸؍ مارچ یومِ خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بلاشبہ خاتون کو اس کے حقوق سے مشرق و مغرب میں محروم کیا گیا ہے۔ خواتین کو اسلام نے جو عزت دی ہے، اس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔ ہم نے بچوں کے لئے لکھی گئی ایک کہانی میں یہ حقیقت بچوں کے ذہن نشین کرانے کی کاوش کی ہے۔ یومِ خواتین کے موقع پر ہم یہ کہانی نذرِ قارئین کر رہے ہیں کیوں کہ بچوں کے علاوہ بڑوں کے لئے بھی اس میں پیغامِ عبرت ہے۔ ]

پیارے بچو! فاطمہ آپ کی طرح سکول میں پڑھتی تھی۔ وہ اپنی کلاس کی ذہین ترین طالبہ تھی۔ محض نصابی میدان ہی میں نہیں بلکہ ہر فیلڈ میں اس کی کارکردگی شان دار تھی۔ پھر وہ انتہائی سنجیدہ اور نیک فطرت بچی تھی، صاف ستھرا لباس اور صاف ستھرے اطوار، میٹھی زبان اور مسکراتا چہرہ! پرنسپل مسز عافیہ ایک عظیم استانی، بے مثال مربیّہ اور ہر طالبہ کے تمام احوال سے خود کو باخبر رکھنے والی منتظمہ تھیں۔ وہ ہر بچی کی کیفیت کو پہچانتی تھیں اور ان کے دکھ درد اور خوشی و مسرت میں شریک ہوتی تھیں۔ ایسے عظیم لوگ کہاں ملتے ہیں۔ یہ سکول خوش نصیب تھا کہ اسے ایسی سربراہ میسّر تھی۔

پرنسپل صاحبہ نے محسوس کیا کہ فاطمہ چند دنوں سے کچھ بجھی بجھی سی رہتی ہے۔ تفریح کے وقت میں انھوں نے فاطمہ کو اپنے دفتر میں بلا بھیجا۔ جب وہ حاضر ہوئی تو مسز عافیہ نے کہا: ’’آؤ میری پیاری فاطمہ بیٹھو۔‘‘فاطمہ مودب انداز میں کرسی پر بیٹھ گئی۔ پرنسپل صاحبہ نے پوچھا: ’’بیٹی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ چند دنوں سے تم کچھ پریشان پریشان سی رہتی ہو، کیا بات ہے؟ کیا میں تمھاری کوئی مدد کرسکتی ہوں؟‘‘

فاطمہ نے غم گیر لہجے میں کہا: ’’میڈم، آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے والد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور امی بھی بہت پڑھی لکھی ہیں۔ اللہ نے ہمیں گذشتہ ہفتے پانچویں بہن عطا کی ہے۔ ہم پہلے بھی چار بہنیں تھیں، ہمارا کوئی بھائی نہیں۔ ہمارے والد پانچویں بیٹی کی ولادت پر گم سم سے رہنے لگے ہیں۔ امی سے بھی کوئی بات نہیں کرتے اور ہم سے بھی بہت کم بولتے ہیں۔ امی اس وجہ سے پریشان ہیں، گھر کا ماحول عجیب ہوگیا ہے۔ میری تیسرے نمبر پر جو بہن ہے، آسیہ وہ کہا کرتی تھی کہ ’’اللہ ہمیں بھائی دے گا، وہ بھی بہن کی پیدایش پر بہت غم زدہ ہے، آخر اللہ کے فیصلے پر ناراض ہونا مومن کو کیسے زیب دے سکتا ہے مگر آسیہ کی وجہ سے میں زیادہ فکر مند ہوں۔۔۔‘‘

مسز عافیہ نے فاطمہ کی بات پوری توجہ سے سنی۔ پھر کہا: ’’فاطمہ بیٹی، کیسا حسنِ اتفاق ہے کہ میں بھی تیری طرح پانچ بہنوں میں سب سے بڑی تھی۔ یقین جانو کہ جو کیفیت آپ نے بتائی ہے ، میری پانچویں بہن کی پیدایش پر ہمارے گھر میں بھی بالکل ایسی ہی صورت حال تھی۔ میرے والد علی گڑھ کے گریجوایٹ تھے اور بہت روشن خیال، اس کے باوجود ان کا ایسا ہی رویہ تھا جو تمھارے ابو کا ہے۔ میرے دادا جامعہ ملیہ دہلی کے فارغ التحصیل تھے اور بہت بڑے عالم، انھوں نے میری پانچویں بہن کی پیدایش پر خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ ہی میری پانچویں بہن کا نام رکھتے ہوئے کہا ’’میری عائشہ کے بعد اللہ ایک نہیں دو بھائی یکے بعد دیگرے عطا فرمائے گا۔‘‘ اللہ کی قدرت دیکھو کہ بالکل ایسا ہی ہوا۔ اللہ نے ہمیں ایک کے بعد دوسرا بھائی عطا فرمایا۔

یہ بات سن کر فاطمہ کو بہت حوصلہ ہوا اور اس نے کہا: ’’میڈم حسنِ اتفاق ہے کہ ہماری بہن کا نام بھی عائشہ صدیقہ رکھا گیا ہے۔ ہمارے دادا تو اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں، ہمارے تایا جی نے بالکل وہی بات کہی ہے جو آپ کے والد محترم نے کہی تھی۔ اب دیکھو، ان کی بات اللہ سچی کردے۔ ہمارے تایا بہت مہربان اور ہمدرد انسان ہیں مگر میں سوچتی ہوں کہ غیب کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔۔۔‘‘

پرنسپل صاحبہ نے فاطمہ کو حوصلہ دیتے ہوئے کہا: ’’بیٹی تم نے بالکل ٹھیک کہا، غیب کا علم سوائے اللہ کے کسی کے پاس نہیں ہے مگر وہ اپنے بندوں کی دعاؤں، آرزوؤں اور حسن ظن کا بھرم رکھتا ہے۔ اللہ سے ہمیشہ اچھا گمان رکھناچاہیے۔ تم خوش قسمت ہو کہ تمھارے خاندان میں تمھارے تایا جان جیسی ایک عظیم شخصیت ہے۔ میرے والد ہماری عائشہ کی پیدایش پر نالاں ہوئے تو دادا جان نے ان کو بڑے حکیمانہ انداز میں سرزنش کی۔ براہ راست ان کو کچھ کہنے کی بجائے انھوں نے ہم کو مخاطب کرکے کہا: ’’بیٹا تم غم نہ کرو، مردوں کے رویے بعض اوقات بڑے عجیب بلکہ عقل و فہم سے بعید ہوتے ہیں اور یہی حال بعض دیگر معاملات میں خواتین کا بھی ہوتاہے۔ مسلمان مرد و عورت کو اور بچے بوڑھے سب کو راضی برضا رہنا چاہیے۔ اس سے اللہ بھی بندوں سے راضی ہوجاتا ہے اور ان کو اتنا نوازتا ہے کہ تصور بھی محال ہے۔‘‘ اس کے بعد ہمارے دادا عربی اشعار پڑھنے لگے، پھر ان کی تشریح بھی کی۔ مجھے آج تک وہ یاد ہیں۔‘‘

فاطمہ کو مسز عافیہ کی اس مربیانہ و مشفقانہ گفت گو سے بڑا حوصلہ ہوا اور اس نے پوچھا کہ وہ اشعار مجھے بھی سنائیے۔ پرنسپل صاحبہ نے اسے اشعار سنائے جن کو اس نے کاپی میں لکھ لیا۔ انھوں نے پس منظر بھی بیان کیا کہ ایک عرب مرد کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں۔ ایک بیوی سے اس کی بچیاں ہی پیدا ہوئیں۔ چوتھی بیٹی کی پیدایش پر اس عرب کا بھی رویہ ویسا ہی ہوگیا جو ہمارے ہاں مردوں کا ہوتا ہے۔ اس نے بیٹیوں والی بیوی کے پاس آنا جانا بھی بند کر دیا۔ ساتھ والے دوسرے گھر میں اس کی بیٹوں والی بیوی رہتی تھی، وہ خوش گپیوں میں مشغول رہتا تو بیٹیوں کی ماں اپنی چھوٹی بچی کو لوریاں دے کر سلاتی اور یہ اشعار پڑھتی،

مَا لِاَبِیْ سَعِیْدٍ لَا یَأتِیْنَا

یَبِیْتُ فِی الْبَیْتِ الَّذِیْ یَلِیْنَا

غَضْبَانَ اَنْ لَّا نَلِدَ الْبَنِیْنَا

وَھَلْ نَلِدُ اِلّا مَا اُعْطِیْنَا

(میرے میاں) ابو سعید کو کیا ہوگیا ہے کہ اس نے ہمارے ساتھ بائیکاٹ کر دیا ہے۔ ہمارے ساتھ والے گھر میں وہ راتیں گزارتا ہے (مگر ہماری کبھی خبر بھی نہیں لیتا)۔ وہ اس بات پر غضبناک ہوگیا ہے کہ ہمارے ہاں بیٹا کیوں پیدا نہیں ہوتا۔ (کیا بیٹے اور بیٹیاں پیدا کرنا ہمارا اختیار ہے)، ہم تو اسی کو جنم دیتے ہیں جو ہمیں عطا ہوتا ہے، بیٹا یا بیٹی! ان اشعار سے ابو سعید بھی شرمسار ہوا اور میرے والد پر بھی ان کا کچھ اثر ہوا۔ تم بھی کسی طرح اپنے ابو کو یہ اشعار سناؤ۔ ’’بس مجھے اشعار سنانے کی ضرورت نہیں میڈم، مجھے آپ کی اس گفت گو سے بہت حوصلہ ملا ہے۔ میں آسیہ کو بھی اسی طرح حوصلہ دلاؤں گی۔ ‘‘ فاطمہ نے کہا اور مسز عافیہ سے شکریے کے ساتھ اجازت طلب کی۔ فاطمہ اس وقت سکول کی چھٹی جماعت میں تھی۔

اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ٹھیک دو سال بعد اللہ نے فاطمہ کو بھائی عطا فرمایا۔ وہ بڑی خوشی سے میڈم کی خدمت میں حاضر ہوئی، مٹھائی کا ڈبہ پیش کیا اور خوش خبری سنائی کہ اللہ نے اسے چاند سا بھائی عطا فرمایا ہے۔ بیگم عافیہ اس خبر سے اتنی خوشی ہوئیں کہ انھوں نے سارے سکول سٹاف اور طالبات کو اپنی طرف سے چائے پارٹی دی اور سب کو کہا کہ آج انھیں اتنی ہی خوشی ہوئی ہے جتنی بچپن میں اپنے پہلے بھائی کی پیدایش پر ہوئی تھی۔

وقت گزرتا گیا۔ فاطمہ دسویں جماعت میں آگئی۔ آج پھر ایک روز وہ مٹھائی کا ڈبہ نہیں ایک ٹوکرا لے کر بیگم عافیہ کے دفتر میں حاضر ہوئی اور کہا کہ اللہ نے اسے دوسرا بھائی بھی عطا فرمایا ہے۔ ساتھ ہی کہنے لگی کہ اب ابو کا رویہ بھی بدل گیا ہے۔ وہ بہت زیادہ خوش ہیں اور ہم سب سے بھی بہت پیار کرتے ہیں۔ میں نے آپ کے لکھائے ہوئے شعر بھی ان کو سنائے تھے۔ انھوں نے پیغام دیا ہے کہ اس مرتبہ وہ پورے سکول کی پارٹی کریں گے۔

فاطمہ کے وعدے کے مطابق پارٹی ہوئی تو اس پر تکلف پارٹی کے موقع پر بیگم عافیہ نے ایک زبردست تقریر کی جس میں اپنے معاشرے کے مردوں اور عورتوں کے توہمات، جاہلی رسوم و خیالات اور ان کے مقابلے میں اسلام کے زریں اصولوں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے فرمایا کہ اولاد دینا یا نہ دینا اللہ کا اپنا اختیار ہے۔ وہ چاہے تو بیٹے ہی بیٹے دے، چاہے تو بیٹیاں ہی بیٹیاں عطا کرتا چلا جائے، چاہے تو ملے جلے دے دے اور چاہے تو کچھ بھی نہ دے۔ رہا یہ معاملہ کہ بچی پیدا ہو تو عورت کو کو سا جائے، تو یہ بدترین قسم کی جہالت ہے۔ کسی پر بھی بیٹی کی پیدایش کی ذمہ داری ڈالنا درست نہیں لیکن کسی کو قصور وار ٹھہرانا ہی ہو تو عورت نہیں، مرد پر اس کا الزام چسپاں ہوتا ہے۔ یہ مرد کے تولیدی مادے سے فیصلہ ہوتا ہے کہ جنین مذکر ہے یامونث۔ اب تو علم اور روشنی کا دور ہے۔ چنانچہ یہ جہالت مسلمانوں کے معاشرے سے ختم ہوجانی چاہیے۔ آخر میں انھوں نے سوال کیا کہ کیا کسی کو اس پر اب بھی کوئی اشکال ہے تو سارے مجمع کا متفقہ جواب تھا کہ سب کو اس وضاحت سے اتفاق بھی ہے اور اطمینان بھی۔ یہ محض ایک سکول نہیں تھا، یہ تو واقعتا ایک ذہن ساز اور انسان ساز ادارہ تھا! *

مزید :

کالم -