سینیٹ کا الیکشن اور میلۂ مویشیاں

سینیٹ کا الیکشن اور میلۂ مویشیاں
سینیٹ کا الیکشن اور میلۂ مویشیاں

  

آج کے کالم کا اچھوتا عنوان میرے دیرینہ ہمدم شاہد مسعود کی تخلیقی سوچ کا نتیجہ ہے ۔ اسی نام کے ایک ٹی وی کمپیئر سے بہت پہلے شعر و ابلاغیات کی دنیا میں جانے گئے ہمارے اصلی شاہد مسعود ٹیلی ویژن پروڈکشن کے علاوہ ’ون لائنر‘ کے بادشاہ بھی ہیں ۔ ایک دن کتے کو میری طرف منہ کر کے بھونکتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے ’کتا کتے کا بیری ہوتا ہے‘ ۔ اِسی طرح ایک دوستانہ ملاقات میں مرحوم پرنسپل ڈاکٹر عزیز محمود زیدی کے مُنہ سے نکل گیا کہ آپ ڈسپلن کے مسائل کو نہیں سمجھتے، کیونکہ آپ گورڈن کالج کے پرنسپل نہیں ہیں ۔ ’تساں توں پہلے نو دیہاڑے رہ چکیاں‘ ۔ اشارہ 1970ء کی دہائی کے شروع کی طرف تھا جب چرچ انتظامیہ کی باہمی لڑ ائی کے دوران شاہد مسعود نے سٹوڈنٹس یونین کے صدر کے طور پہ قبضہ کر لیا ، جس کے بعد تمام مشنری تعلیمی ادارے قومی ملکیت میں لے لئے گئے تھے ۔ فیس بُک پہ میرے اس دوست کے تازہ اسٹیٹس کا ترجمہ ہے ’ سینیٹ الیکشن اور ہارس اینڈ کیٹل شو کا بیک وقت انعقاد ‘ ۔ یہ پڑھ کر مجھے تین سال پہلے کے اس عدالتی فیصلہ کا خیال آیا جس میں بہتر جمہوری نظام کو رواج دینے کے لئے کئی مفید مشورے دئے گئے تھے۔ سینیٹ کے انتخابات میں جس طرح گھوڑے کی خرید و فروخت کو موضوع سخن بنایا گیا ، اس سے ایک طرف تو ان تمام پاکستانیوں کی دل آزاری ہوئی جو اس جانور کو تجارت کا مال نہیں، بلکہ اسلامی عسکری روایت کی علامت سمجھتے ہیں ۔ دوسرے ، ضمیر کی عدالت میں ، جو کسی بھی حساس معاملے کا ’سوؤ موٹو‘ نوٹس لینے سے گریز نہیں کرتی، اپنے ہی خلاف کارروائی شروع ہو گئی ۔ آواز آئی سینیٹ کو چھوڑو اور یہ بتاؤ کہ عام شہری کی حیثیت سے ووٹ ڈالتے ہوئے تم خود کیوں ڈانوا ں ڈول رہتے ہو ، کیا تمہارا جمہوریت پہ یقین نہیں ؟

قارئین کرام ، اس دنیا کی کسی بھی عدالت میں زیر غور آنے والے معاملوں کو عام طور پہ ’قانونی‘ اور ’حقیقی‘ دو طرح کے سوالات میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ جیسے ’پرائیویٹ ڈیفنس‘ سے کیا مراد ہے اور اس کا حق کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہو جاتا ہے ؟ یہ ایک قانونی سوال ہے ، لیکن کسی شخص نے اس کا استعمال کن حالات میں کیا اور آیا وہ اپنے اس حق کے دائرے کے اندر رہا یا اس سے تجاوز کر گیا ؟ اس سوال کا تعلق مقدمے کے حقائق سے ہے ۔ انتخابات میں عام شہری کے ووٹ ڈالنے کے سوال کو لیں تو یہ قانونی نکتہ ضرور اٹھے گا کہ الیکشن میں ووٹ دینے یا نہ دینے کی آزادی کیا بذات خود حق رائے دہی کا حصہ نہیں ہے ۔ یوں سمجھیں کہ کوئی شخص اگر کسی محفل میں اپنی مرضی سے خاموش رہنا چاہے تو کیا یہ مراد لی جائے گی کہ اس کے حق اظہار کی نفی ہو رہی ہے ۔

سینیٹ کے چناؤ کا طریقہ ء کار مختلف ہے ، لیکن عام انتخابات میں بھی لوگوں کے ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے کی وجوہات بھی الگ الگ ہوا کرتی ہیں ۔ بعض تو یہ نکتہ اٹھانا چاہیں گے کہ ’دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب‘ یا ’بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے ‘ ۔ اس پر شائد یہ کہا جائے کہ یہ سوال قانون کے احاطے میں نہیں،بلکہ جو رسپروڈنس کی ذیل میں آتا ہے ،کیونکہ آپ تو اس بنیادی اصول کی افادیت پہ شک کر رہے ہیں جس پہ جمہوریت کی عمارت استوار ہے ۔ دوٹ دہی کے راستے میں انتخابی فہرست میں صحیح اندراج نہ ہوسکنا بھی ایک امکانی رکاوٹ ہے ۔ اسی طرح ، پوش آبادیوں میں بڑے لوگوں کے لئے الیکشن کا دن محض تھکاوٹ دور کرنے کا بہانہ ہوا کرتا ہے کہ سارا دن لیٹے لیٹے سپریم کورٹ ، پارلیمنٹ اور مسلح افواج کے تعلقات پہ غور کرتے رہے اور شام کو موٹر گشت پہ نکل گئے ۔

اب اگر صیغہ واحد متکلم میں بات کی جائے تو جیسا کہ حلفیہ بیان میں کہا کرتے ہیں ’خدا کو حاضر و ناظر جان کر بقائمی ہوش و حواس اور بلا جبر و اکراہ و تحریص کسے‘ یہ عرض کروں گا کہ کوئی اڑتیس سال ہوئے جب پہلی بار قومی انتخابات میں ووٹ ڈالا ۔ اس وقت یہ کام مصلحت ، جذباتیت اور نسلی ، لسانی ، صوبائی عصبیتوں سے بے نیاز ہو کر پوری سنجیدگی ، خوش نیتی اور احساس ذمہ داری سے کیا تھا ۔ یہ شعور بھی تھا کہ پاکستان کا شہری ہونا کوئی معمولی بات نہیں، پھر ہم تو لاہور میں عمومی تعلیم کے قدیم ترین ادارے کے استاد ہیں ، کہیں اس قومی فریضے سے عہدہ برآ ہوتے ہوئے پھسل نہ جائیں ۔ چنانچہ ، صبح سویرے اٹھے ، خاص اہتمام سے سوٹ سا ٹ پہنا ، خوشبو لگائی اور ایک تمکنت کے ساتھ پولنگ اسٹیشن کی طرف چل دئے کہ پطرس بخاری کے بقول ’سلطنتوں کے معاملے ہیں ، سلطنتوں کے‘ ۔

مجھے اعتراف ہے کہ میرے لئے ووٹ دینے کا فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا ۔ 1940 ء کی قرار داد پاکستان سے کر 1977 ء تک کے سیاسی حالات کے تسلسل پہ غور کیا ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر آنے والی امکانی تبدیلیوں پر نظر ڈالی ، والدین سے صلاح اور ایک ایسی جماعت کو اپنے قیمتی ووٹ سے نوازنے کا فیصلہ کر لیا، جس کی قیادت کی کچھ حرکتیں بچگانہ سی لگتی تھیں ۔ پھر بھی گمان یہ تھا کہ انہیں پانچ سال اور مل جائیں تو سیاسی عمل میں روانی آ جائے گی اور شائد غیر ملکی چیلنجوں کا مقابلہ بھی کیا جا سکے گا ۔ مجھ جیسے اور بھی کئی ’محب وطن عناصر ‘ اس دم ایک نظریاتی زیرو پوائنٹ پہ کھڑے دونوں طرف سے امڈتے ہوئے سیلاب کو دیکھ رہے تھے ، مگر سطحیت کے بہاؤ میں بہنے والوں کو کچھ اندازہ نہیں تھا کہ کہاں پہ جا کے رکے گا سفین�ۂ غم دل ۔

سفینہۂ غم دل وہاں جا کے رکا جہاں ٹی ہاؤس کے مونچھوں والے ویٹر الٰہی بخش کو ، جو آزادی کے وقت لاکھوں اور مسلمانوں کے ساتھ ایک پر امن ، محفوظ اور باوقار جمہوری مملکت کا خواب آنکھوں میں سجا ئے کانگڑہ سے لاہور پہنچا تھا ، بچشم نم مجھ سمیت تین نوجوان دوستوں سے کہنا پڑا ’صاحب جی ، ہمارے ساتھ تو وہی ہوا ہے ، رب نیڑے کہ گھسن نیڑے ۔‘ میری آنکھوں میں سیالکوٹ کے بڑے ڈاکخانہ کا وہ منظر گھوم گیا جب تیسری جماعت کے طالب علم کے طور پہ میں اپنے دادا کی انگلی تھامے کنک منڈی سے پورن نگر جاتے ہوئے فوجی سپاہیوں کو دیکھ دیکھ کر دل ہی دل میں ڈر رہا تھا ۔ سروں پہ لوہے کی ٹوپیاں ، جالی دار کپڑے میں گھاس پھوس اور ہاتھوں میں ’کرچ والی‘ بندوقیں ، لیکن کوئی اندازہ نہیں تھا کہ ایک روز بڑے ڈاکخانہ والی یہ سنگینیں میرے اولین ووٹ کی پرچی تک پہنچ جائیں گی ۔

سیاسی عمل میں بار بار آنے والی رکاوٹوں کے باوجود ملک کے جمہوری مستقبل میں یقین رکھنے والے شہریوں کی تعداد کروڑوں میں ہے، اِسی لئے جب بھی عام انتخابات میں ووٹ لینے اور ووٹ دینے کا مرحلہ آتا ہے تو شیخ طارق نام کے ہمارے پوٹھوہاری دوست سمیت الیکشن ہارنے کا بھر پور تجربہ رکھنے والے سینکڑوں امیدوار محض ریکارڈ کی درستی کے لئے یہ کہہ کر میدان میں کود پڑتے ہیں کہ ’کل ہسٹری لکھی جلے تے اوس وچ ایہہ نہ آوے کہ اک واری چونڑاں پیاں تے شیخ طارق اٹھیا نئیں ‘ ، یعنی کل کلاں تاریخ لکھی جائے تو اس میں یہ حوالہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایک مرتبہ ووٹ ڈالے گئے مگر شیخ طارق امیدوار نہیں تھے ۔ شائد ہر شخص کے حوصلے ، صبر اور دلیری کا پیمانہ مختلف ہوا کرتا ہے ، مگر وہ جو میر تقی میر نے کہا تھا:

موسم آیا تو نخل دار پہ میر

سر منصور ہی کا بار آیا

البتہ عام رائے دہی کے موسم میں ٹی وی پر یہ اشتہار دیکھ کر اپنی حب الوطنی پہ شک گزرنے لگتا ہے کہ ووٹ قوم کی امانت ہے ، اس کا استعمال سوچ سمجھ کر کریں۔ میرے اولین مینڈیٹ کی جو شدید بے حرمتی ہوئی اس احساس سے بے نیاز ہو کر اب سے دو سال پہلے اپنا قیمتی ووٹ ایک مرتبہ پھر سوچ سمجھ کر دیا اور خداوند کریم سے استدعا کی کہ میرے مینڈیٹ کو ٹھڈا ٹیکنالوجی کی نذر نہ ہونے دینا ۔ لگتا ہے یہ قبول دعا کی گھڑی تھی ، اسی لئے جمہوریت کی ریل بڑے بڑے ہچکولے کھا کر بھی پٹڑی سے نہیں اتری ۔ سینیٹ الیکشن میں ووٹ ڈالنے والوں میں سے کون کون لاہور کے ہارس اینڈ کیٹل شو میں گیا ؟ اس کے بارے میں معلومات تو مل ہی جائیں گی ۔ ہاں ، یہ پتا نہیں چل سکا کہ اس دوڑ میں کس نے جمہوری گھوڑے پہ شرط لگا رکھی ہے اور کس نے کسی اور ڈھور ڈنگر پر ۔

مزید :

کالم -