سینیٹ کے انتخابات

سینیٹ کے انتخابات
سینیٹ کے انتخابات

  

کسی ہنگامہ کے بغیر سینیٹ کے انتخابات ہو گئے ہیں اور توقع کے مطابق مسلم لیگ(ن) نے اس میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ گزشتہ چند روز سے ایک طوفان بپاتھا۔ انتخابات کو شفاف بنانے کے لئے یا دوسرے الفاظ میں اراکین اسمبلی کو اپنا ووٹ فروخت کرنے کے ’’استحقاق‘‘ سے محروم کرنے کے لئے آئینی ترمیم کا بھی خوب چرچا رہا ۔ عمران خان نے پندرہ کروڑ کی پیش کش کا بھی انکشاف کیا، مگر جس طرح انہوں نے اس پیشکش کرنے والے کو شریف آدمی قرار دیا اور اس کا نام بتانے سے انکار کردیا۔ اس سے ان کے انقلابی کی بجائے جمہوری ہونے کی خبر ملی۔ عمران خان میں ان تبدیلیوں کی وجہ ریحام خان کو بھی قرار د یا جا رہا ہے ۔ شادی کے بعد انہوں نے دھرنے کا نام لینا بند کردیا ہے۔ سینیٹ کے انتخابات میں یہ امکان بھی ظاہر کیاگیا کہ وہ قومی اسمبلی میں واپس جا رہے ہیں، مگر مولانا فضل الرحمن کو عمران خان اور ان کی پارٹی نہ تو صوبہ خیبرپختونخوا کی اسمبلی میں پسند ہے اور نہ ہی وہ ان سے قومی اسمبلی میں ملاقات کرناچاہتے ہیں۔اس لئے انہوں نے خرانٹ عورتوں کی طرح ایک ایسا طعنہ دیا، جس سے عمران خان نے قومی اسمبلی جانے کا ارادہ ترک کردیا۔

اگر عمران خان قومی اسمبلی واپس جانے کا سوچ بھی رہے ہوں گے انہوں نے اپنا یہ ارادہ تبدیل کردیا ہوگا کہ مولانا زندگی بھر انہیں بھینس کی دم کے طعنے دیتے رہے رہیں گے۔ عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کی سیاسی زندگی سے بھی کوئی سبق لینے سے پرہیز کیا،جو ہمیشہ اپنے اصولوں پر ڈٹے رہتے ہیں۔ جمہوریت کے ساتھ اپنی گہری وابستگی پر فخر کا اظہار کرتے رہتے ہیں اور 1973ء کے آئین کے نعرے کو استعمال کرتے رہتے ہیں اور جمہوریت کی برکت سے ہمیشہ حکومت میں بھی رہتے ہیں۔ وہ اپنی جمہوری روایات کے ساتھ اس پارٹی کا ساتھ دیتے ہیں جواقتدار میں ہو۔ اگر کوئی حکومت میں نہ رہے تو اس سے بھی زیادہ بگاڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر کبھی عمران خان برسراقتدار آئے تو مولانا فضل الرحمن اقتدار میں ان کے بھی ساتھی ہوں گے۔بہرحال عمران خان نے سینیٹ کے انتخابات کے ذریعے قومی اسمبلی میں جانے کا موقعہ ضائع کر دیا ۔ سیاست دان ہر موقعہ سے کوئی نہ کوئی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر عمران خان اپنی شادی سے بھی کوئی سیاسی فائدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہوئے ۔

عمران خان نے پاکستانی سیاست میں تبدیلی کانعرہ لگاکر مقبولیت حاصل کی۔ دھرنے میں وہ چیخ چیخ کر یہ بتاتے رہے کہ تبدیلی آنی ہے، بلکہ آچکی ہے۔ پھر ریحام خان کی صورت میں ان کی زندگی میں ایک خوبصورت تبدیلی آئی جسے ان کی پارٹی نے تو خوشدلی سے قبول کرلیا مگر ایسا محسوس ہوتا تھاکہ ان کے خاندان کو یہ تبدیلی کوئی زیادہ پسندنہیں تھی اور انہیں غیرشادی شدہ عمران خان زیادہ اچھالگتا تھا۔ اس طرح میرا جیسی بے شمار لڑکیوں کو صدمہ ہوا جو عمران خان سے محبت کرتی تھیں اور ان سے شادی کی خواہشمند تھیں۔ برصغیر کی فلموں میں ہیرو اور ہیرو ئنیں صرف اس وقت تک مرکزی کردار ہوتے ہیں جب تک شادی نہ کریں۔ فلمی شائقین شادی شدہ ہیرو اور ہیروئن کو ذہنی طور پر پسند نہیں کرتے۔ اس لئے فلمی صنعت سے وابستہ لوگ شادی شدہ لوگوں جیسی حرکتیں کرنے کے لئے یا تو سرے سے شادی ہی نہیں کرتے یا کسی وجہ سے یہ کڑوا گھونٹ پی لیں تو اسے خفیہ رکھتے ہیں۔ اور مدتوں تک ان کے تعلقات کو خفیہ رومانس کا نام دے کر میڈیا قارئین کے لئے چٹ پٹی خبروں کا اہتمام کرتا رہتا ہے۔ ایک معروف مزاح نگار نے کہاتھا کہ مرد زندگی میں عشق ایک ہی دفعہ کرتا ہے،دوسری مرتبہ عیاشی اوراس کے بعد نری بدمعاشی اور سیاست دان تو ہمیں اکثر میکس ملر کی اس ہیروئن کو یاددلا دیتے ہیں، جس کے متعلق یہ جملہ کثرت سے پڑھنے کو ملتا ہے۔

When she was good, she was very good and when

she was bad she was very very popular.

مولانا فضل الرحمن مقبولیت کے اس راز کو سمجھ گئے ہیں اس لئے وہ میڈیا کی کسی قسم کی تنقید سے نہیں گھبراتے، بلکہ مسکراتے ہوئے اعتماد کے ساتھ وہ اکثر سوال کرنے والوں کو اپنے ایسے دلائل سے بھی لاجواب کر دیتے ہیں جن کے غلط ہونے کا مولانا کو بھی سو فیصد یقین ہوتا ہے۔

سینیٹ کے انتخابات کے کامیاب اور بروقت انعقاد کے بعد اب سب کو یقین کر لیناچاہئے کہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہے اور اسے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ حکومت نے سینیٹ کے انتخابات میں کوئی تاخیری حربہ اختیار نہیں کیا،کیونکہ یہ انتخابات اس کے لئے یقینی اچھی خبر لے کر آتے ہیں۔ کچھ لوگ جمہوری حکومتوں پر بلدیاتی انتخابات کے بروقت انعقاد نہ کرانے پر ’’بلاوجہ‘‘ تنقید کرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جس طرح غیرجمہوری حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے جمہوری حرکتیں کرتی رہتی ہیں اس طرح جمہوری حکومتیں بلدیاتی انتخابات کرانے میں تاخیر کرکے چھوٹی موٹی غیرجمہوری حرکات کرنے کا شوق پورا کرتی رہتی ہیں۔ کچھ جمہوری دانشوروں کو بلدیاتی انتخابات کی تاخیر سے جمہوریت خطرے میں نظرآتی ہے اور وہ ملک ’’ نازک دور سے گزر رہا ہے‘‘ جیسے نعرے بلند کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی نے لکھا تھا:

’’میرا خیال ہے کہ حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے وقت جو شخص اپنے بلڈپریشر اور گالی پر قابو رکھ سکے وہ تو ولی اللہ ہے یا پھر وہ خود ہی حالات حاضرہ کا ذمہ دار ہے۔ ایک صاحب کی آواز ایسی تھی جیسے کوئی پلاس سے لکڑی میں سے زنگ آلود کیل کھینچ رہا ہو۔ وقفے وقفے سے اعلان فرما رہے تھے کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے۔ مَیں یہ فقرہ سنتا ہوں تو اس سوچ میں پڑجاتا ہوں کہ جب سے پاکستان معرض وجود میں آیا ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا اور کسی نہ کسی لیڈر نے بشارت نہ دی ہو کہ پاکستان بڑے نازک دور سے گزر رہا ہے۔ صاحبو! کیسی نزاکت ہے کہ 45سال سے بدستور چلی آ رہی ہے! یہ تو بڑی مضبوط ساخت کی نزاکت معلوم ہوتی ہے‘‘۔

ایک نوجوان نے فیض احمد فیض سے پوچھا: ’’فیض صاحب انتظار کرتے کرتے اتنے دن ہو گئے ہیں۔ انقلاب کب آئے گا؟ ارشاد فرمایا:’’بھئی آ جائے گا ابھی آپ کی عمر ہی کیا ہے؟‘‘

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان تبدیلی کا انتظار کرکے تھک گئے تھے۔ ریحام خان ان کی زندگی میں ایسی تبدیلی بن کر آگئیں جسے انہوں نے قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے کرلیا۔ انسان ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘ کے کتنے نعرے بلند کرے۔ بہت سے لوگ اس پر یقین بھی کرلیں تب بھی عمر 60سال سے زیادہ ہوجائے ہمارے ہاں اسے بڑھاپا ہی قرار دیا جاتا ہے۔ شنید ہے کہ عمران خان کی اس عمر میں شادی کے بعد چند سال قبل بوڑھے قرار دیئے جانے والے افراد نے باقاعدہ شادی بھی کر لی ہے، جبکہ بعض خواتین نے اپنے شوہروں کے بڑھاپے کو نظراندازکرکے ان کی مشکوک حرکات پرکڑی نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔سینیٹ کے انتخابات سے ہمیں اپنے ایک مرحوم صحافی دوست یاد آگئے جن کا ماہانہ چائے اور سگریٹ کا بل اکثر ان کی تنخواہ سے زیادہ ہوتا تھا اور جو جب بھی ہمارے پاس تشریف لاتے تو کہتے تھے کہ بھئی فل سیٹ چائے منگواؤ اور اگر آپ کا پینے کا موڈ ہو تو علیٰحدہ منگوا لو۔ وہ بڑی جدوجہد کے بعدکچھ رقم جمع کرنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر انہوں نے اپنے قریبی دوست کو اس ’’زرکثیر‘‘ کے جمع ہونے کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی شادی کرا دیں۔ ان کے دوست نے کہا کہ اتنی کم رقم میں تو شادی نہیں ہو سکتی اس پر انہوں نے برجستہ کہا ’’بھئی اتنی رقم میں جتنی شادی ہو سکتی ہے بس اتنی ہی کروا دو۔ مَیں اس میں گزارا کر لوں گا۔ پاکستانی جمہوریت کے پاس جو سرمایہ ہے اس میں سینیٹ کے جس قسم کے انتخابات ہو سکتے تھے وہ بخیروخوبی ہوچکے ہیں۔ اب بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کی خبر دی جا رہی ہے۔اگرچہ جمہوری حکومتوں کو بلدیاتی اداروں کے بغیر گزارا کرنے کی عادت پڑ چکی ہے اور سرکاری افسر جو ایسے اداروں کے سربراہ بن کر عوام سے زیادہ اپنی خدمت کرنے کا شوق پورا کرتے رہتے ہیں انہیں بھی یہ انتخابات کچھ زیادہ پسندنہیں ہیں، مگر جس طرح اعلیٰ عدلیہ ان کے انعقاد پر زور دے رہی ہے اس سے ان کے انعقاد کی صورت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ہمیں امید ہے کہ پاکستانی جمہوریت سینیٹ کے انتخابات کی طرح بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ شوق بھی اچھے انداز میں طے کرنے میں کامیاب ہو جائے گی ۔ *

مزید :

کالم -