ہمارا طبقاتی نظامِ تعلیم

ہمارا طبقاتی نظامِ تعلیم
ہمارا طبقاتی نظامِ تعلیم

  

برصغیر پرانگریزی راج سے قبل مغلوں اور سلاطینِ دہلی کا قا ئم کردہ تعلیمی نظام ہر خاص و عام کے لئے ایک ہی تھا۔ مسلمانوں کے بچے مکتبوں میں جاتے تھے اور ہندوؤں کے طالبِ علم آشرموں اور دھرم شالاّوں میں جاتے تھے۔ بادشاہوں اور راجوں ،مہاراجوں کے بچوں کے لئے اتالیق یا گرُو مقرر ہوتے تھے جو شاہی خاندان کے بچوں کو عام نصاب کے علاوہ، درباری آداب اور حَرب کی تعلیم بھی دیتے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان آمد کے بعد اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں روائتی مدرسوں کے علاوہ مشن سکول بھی قائم کئے، جہاں کا تعلیمی نصاب مدرسوں سے مختلف ہوتا تھا۔ مسیحی مذہب اور انگریزی زبان کی تعلیم، نصاب کا ضروری حصہ ہوتے تھے۔ تعلیم دینے کے لئے عموماً انگریز پادری اور راہبائیں (Nuns) ہوتی تھیں۔ مشن کے مدرسوں میں تعلیم کا طریقہ بھی غیر روائتی ہوتا تھا۔ طالبِ علموں کے بیٹھنے کے لئے لکڑی کے ڈیسک پہلی مرتبہ مشن سکولوں میں ہی استعمال ہوئے ، جبکہ دیسی مدرسوں اور آشرموں میں فرشی نشستیں ہوتی تھیں۔ یہاں تک کہ جب ہندوستان پر 1858ء میں انگریزی راج باقاعدہ قائم ہو ا تو برِصغیر میں 153 کرسچین مشن سکول قائم ہوچکے تھے۔ مشن سکولوں کے تعلیم یافتہ طلباء کو انگریزی تعلیم کی وجہ سے انگریز کے قائم کردہ محکموں میں ملازمتیں ملنی شروع ہو گئیں۔ پاکستان میں سب سے قدیم مشن سکول سیالکوٹ میں سینٹ جیززاینڈ میری کے نام پر 1846ء میں بنا۔ مرے کالج سیالکوٹ اور گورڈن کالج راولپنڈی 1868ء میں وجود میں آئے۔برطانوی حکومت نے تحصیل کے درجے تک میٹرک کی سطح تک سرکاری سکول بنائے اور قصبوں، دیہاتوں کی سطح تک پرائمری اور کہیں کہیں مڈل سکول بنائے جو بعد میں ضلعی بورڈز کے ماتحت کر دئیے گئے۔ انگریز نے مغل بادشاہوں ، نوابوں اور راجوں کی اولادوں کے لئے بڑے عالی شان معیار کے چیفس سکول اور کالجز بنائے جہاں بعد میں بڑے زمینداروں اور انگریز کے وفاداروں کے بچے بھی داخلہ لے سکتے تھے۔

پاکستان میں 1955ء تک تعلیم کا حصول سرکاری سکولوں اور مشن کے سکولوں تک ہی محدود تھا ماسوائے چند سکولوں اور کالجوں کے جو مسلمانوں کی فلاحی تنظیمیں چلاتی تھیں۔ اسلامیہ سکول اور کالج لاہورانجمنِ حمایتِ اسلام چلاتی تھی۔ DAV کالج ہندوؤں کا تھا جسے اب MAO کالج کہا جاتا ہے۔ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی فلاحی تنظیموں نے انگریزی طرز پر سکول اور کالج بنانے شروع کر دیئے تھے گو اِن کا تدریسی معیار گورنمنٹ سکولوں اور کالجوں کے برابر نہ تھا۔ 1950ء کے بعد سے ہماری آبادی میں بے حد اِضافہ ہونا شروع ہوا جبکہ تعلیم کی ترقی کے لئے بجٹ میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا۔ نتیجتاً پاکستان مستقل تعلیمی بحران کا شکار ہو گیا۔ہمارے سرکاری سکولوں کا معیار بھی آہستہ آہستہ گِرنا شروع ہو گیا۔ کلاس روم میں 30-40 طالب علموں کی جگہ 90 سے 100 طلباء کو داخل کر لیا گیا۔ کم تنخواہوں کی وجہ سے قابل اُستاد بھی میسر آنا بند ہو گئے یعنی قابل افراد بہتر ملازمتوں میں چلے گئے۔ اس کیفیت اور سرکاری سکولوں کے انحطا طِ تعلیم کا نتیجہ دو مختلف نقصان دہ شکلوں میں نکلا۔ اوّلاً خوشحال گھرانوں کے بچوں کے لئے کمرشل سکول وجود میں آنا شروع ہو گئے۔ اِن کمرشل سکولوں نے کشش پیدا کرنے کے لئے اپنے نام مشکل انگریزی الفاظ میں رکھ لئے جیسے لاہور لائسیم ، الشفات، LYCTFَ ، TNC سکول وغیرہ۔

نو دولتئے ما ں باپ اِن مشکل ناموں سے خوب متاثر ہوئے اور اپنے بچوں کو اِن اعلیٰ سکولوں میں بھیجنے لگے۔ طریقہ تدریس مکمل طور پر انگریزی زبان کو بنایا گیا۔ ہر انگلش میڈیم سکول نے نصاب کی کتابیں اپنی صوابدید اور مفاد کے مطابق طلباء پر مسلط کردیں ،جو صرف مخصوص کُتب فروشوں سے ہی مل سکتی تھیں۔ بچوں کی یونیفارم بھی مخصوص ٹیلرنگ ہاوسز سے بنوانے کی تلقین ہوتی۔ یہاں تک کہ بچوں کے استعمال کی سٹیشنری بھی مخصوص دوکانوں پر ہی دستیاب ہو سکتی تھی۔ انگلش ناموں والے سکولوں کے وجود میں آنے سے پہلے کچھ اچھے اُردو میڈیم سکول کمرشل بنیادوں پر قائم ہوئے مثلاً سر سید سکول، نیا علیگڑھ سکول، مدرستہ البنات ، دستگیر سکولز وغیرہ۔ لیکن رفتہ فتہ اُردو طریقہ تعلیم کے زوال نے، رنگین TV پر انگریزی کارٹونوں اور فلموں نے اور دولت کی چکا چوند نے ، انگریزی زبان کی De-Facto حیثیت بڑھا دی اور بالا آخر انگلش میڈیم کمرشل سکول ہمارے لولے لنگڑے نظامِ تعلیم پر ہاوی ہو گئے۔ بدعنوان حکمرانوں کی لا پر واہی، اربابِ تعلیم کی نالائقی، فنڈز کی کمیابی اور آبادی کے بڑھتے ہوئے طوفان نے سرکاری سکولوں کا نہ صرف معیار ختم کر دیا،بلکہ جو گِنے چُنے سرکاری معیاری سکول (سنٹرل ماڈل سکول، پائلٹ سکول) تھے وہ بھی تنزل کا شکار ہو گئے۔ سکنڈری بورڈز کی بد عنوانی، خراب کارکردگی اور اِمتحانوں میں نقل عام ہونے کی وجہ سے ما ں باپ مجبور ہوئے کہ وہ اپنے بچوں کو میٹرک کی بجائے O\" اورA \" لیول کے امتحان دِلوائیں۔

انگلش سکولوں کی مزید چاندی ہو گئی۔ اِن سکولوں کی بھاری فیسیں تو پہلے ہی تھیں، اَب تدریسی کتابیں بھی انگلینڈ سے آنے لگ گئیں، جو طالبِ علموں کو دوگنی اور تگنی قیمتوں پر مخصوص کُتب فروشوں سے مل سکتی تھیں۔ جو غریب اور نادار ماں باپ انگلش میڈیم سکولوں کی مہنگی تعلیم کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے تھے ، لیکن اپنے بچوں کو تعلیم سے بہرہ ور بھی رکھنا چاہتے تھے، اُنہوں نے اپنے بچوں کو مسجدوں سے منسلک مدرسوں میں بھیجنا شروع کر دیا۔ دینی مدرسوں کی حالت 1975 تک زیادہ قابلِ رشک تو نہ تھی لیکن پھر بھی بچوں کو قرآن مجید کی ناظرہ تعلیم مل جاتی تھی، تھوڑی بہت اُردو پڑھادی جاتی تھی۔ جو مدرسے ذرا زیادہ ذرائع اور شہرت رکھتے تھے وہاں درسِ نظامی اور عربی زبان کی سوُجھ بوجھ بھی دی جاتی تھی۔ ہماری مسجدوں کے آئمہ عموماً اِن ہی مدرسوں سے آتے تھے۔ جنرل ضیاء کے آنے کے بعد ہر مدرسے کو اِمداد ملنی شروع ہو گئی بشرطیکہ وہ سرکاری رجسٹریشن کروائیں۔ دنوں اور ہفتوں میں دینی مدارس بکثرت معرضِ وجود میں آنا شروع ہو گئے۔ تدریس کے علاوہ اَب اِن مدرسوں میں خوراک اور رہائش بھی ملنی شروع ہو گئی۔ مدرسے چلانے والے مولویوں کے لئے یہ مدرسے آمدنی کا ذریعہ بن گئے۔ اس کے ساتھ ہی خرابی یہ ہوئی کہ یہ مدرسے بجائے اسلام کی تعلیم دینے کے اپنے اپنے مسلک کی تعلیم دینے لگے۔ جنرل ضیاء کی وفات تک 6000 دینی مدرسے رجسٹر ہو چکے تھے۔ اِن دینی مدرسوں سے ابھی فرقہ بندی کے عفریت نے جنم نہیں لیا تھا۔ 1977 تک اسلامی دنیا میں ابھی فرقہ بندی کا زہر نہیں پھیلا تھا۔

ہم پھر واپس آتے ہیں انگلش میڈیم سکولوں کی طرف جو تعلیم کے علاوہ ظالمانہ کمرشلزم کی علامت بن گئے ہیں۔ یہ نہ صرف بھاری فیسیں لیتے ہیں بلکہ اکثر سکول اپنا کمیشن کھرا کرنے کے لئے ماں باپ کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ بچوں کی یونیفارم ، کتابیں اور سٹیشنری مخصوص سپلائرزسے خریدیں۔ غیر نصابی سرگرمیوں کے نام پر اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک ٹرپ بنائے جاتے ہیں جسکا مالی بوجھ ماں باپ پر ہی پڑتا ہے۔ اگر بغائت دیکھاجائے تو ہمارا نظامِ تعلیم 6 مختلف طبقات میں بٹ چکا ہے۔ سب سے زیادہ مہنگے اور اعلیٰ اشرافیہ کے بچوں کے لئے مخصوص سکول وہ ہیں جہاں امریکی ذریعہ تعلیم رائج کیا گیا ہے۔ طالبِ علم یونیفارم کی پابندیوں سے آزاد بہترین سے بہترین ڈیزائنر لباس پہن کر آتے ہیں۔ اُستاد کو Sir نہیں کہتے بلکہ اُس کو نام سے پکارتے ہیں۔ عموماً یہ سکول اُن پاکستانی ماں باپ کی ضروریات پوری کرتے ہیں جو امریکہ یا کینڈا کی شہریت لے چکے ہوتے ہیں اور اپنے بچوں کی ہائی سکول تک تعلیم امریکی نصاب اور طریقہِ تدریس کے مطابق پاکستان میں پڑھانا چاہتے ہیں۔ اِن سکولوں میں پاکستانی اُمرا بھی اپنے بچوں کو داخل کرواتے ہیں تاکہ وہ بچے بعد میں امریکہ جا کر وہاں کے تعلیمی نظام میں کھپ جائیں۔ یہ سکول مکمل طور پر انگریزی میڈیم ہیں،بلکہ سکول کا غیر نصابی ماحول بھی امریکی ہوتا ہے۔

دوسرے طبقے پر پاکستانی اپر مڈل کلاس اور امیر تاجروں اور زمینداروں کے بچوں کے لئے سکول ہیں۔ یہاں بھی تدریسی کتابیں ہر سکول کی اپنی مقرر کردہ ہیں اور وہ بھی مخصوص کتب فروشوں سے ملِ سکتی ہیں تاکہ سکول کا کمیشن اس ذریعہ سے جاری رہے۔ یہاں A/Oلیول کے لئے طالبِ علم تیار کئے جاتے ہیں۔ یہاں بھی ذریعہ تدریس انگریزی زبان میں ہی ہے۔ اُردو اور اسلامیات واجبی سی پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ سکول سرمایہ دارانہ نظام کی طرح اپنے فرنچائز بھی دیتے ہیں۔

تیسرے طبقے پر بھی بظاہر انگلش میڈیم سکول ہی آتے ہیں۔ طبقاتی لحاظ سے یہاں لوئر مڈل کلاس شہری اور قصباتی آبادی کے بچے داخلہ لیتے ہیں۔ یہاں فیس 1000 سے 1500 روپے ماہانہ سے زیادہ نہیں ہوتی ہے۔اُستاد / اُستانیا ں عموماً غیر تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور اکثر بدلتے رہتے ہیں یعنی مستقل نہیں ہوتے۔ تمام مضامین کی کتابیں تو انگریزی میں ہی ہوتی ہیں لیکن ٹیچر پڑھاتے وقت اُردو کا سہارا زیادہ لیتے ہیں ۔ ٹیچر طلبا سے اُردو میں ہی بات کرتے ہیں۔ اِن سکولوں کے بچے نہ انگلش میڈیم رہتے ہیں اور نہ ہی اُردو میڈیم ۔

چوتھے طبقے پر اکیڈمیاں آتی ہیں۔ چند اُستاد مل کر ایک قسم کا Tuition ہاؤس بناتے ہیں۔ جہاں تعلیمی طور پر کمزور طلباء اور طالبات داخلہ لیتے ہیں اور اکیڈمی کے تجربہ کار ٹیچرز مختلف سکنڈری بورڈ کے امتحانی پرچوں پر نظر رکھ کر طلباء کو رّٹا لگواتے ہیں کچھ Guess work کرواتے ہیں اور عموماً نتیجہ حسب توقع آتا ہے۔ بچے کا علم بڑھے یا نہ بڑھے بس امتحان میں کامیابی مل جائے گی۔ اِن اکیڈمیوں میں طالبِ علم اُن خوشحال لیکن کم پڑھے لکھے گھروں سے جاتے ہیں جہاں ماں باپ خود بچوں پر توجہ نہیں دے سکتے۔

پانچواں طبقہ سرکاری سکولوں کا ہے۔ مشکل سے 10 فیصد سرکاری سکول کارکردگی کے لحاظ سے بہتر ہونگے باقی سکولوں کا اللہ ہی مالک ہوتا ہے۔ کہیں سکول کی عمارت ہی ناپید ہوتی ہے خواہ فائلوں میں وہاں سکول موجود ہو، کہیں اُستاد ناپید ہونگے حالانکہ وہ سرکاری طور پر تنخواہ لے رہے ہو نگے۔ سرکاری سکولوں کا نصاب 18 ویں ترمیم کے بعد صوبائی حکومتیں بنائیں گی جو بہت غلط اور خطرناک ہے۔ 18 ویں ترمیم سے پہلے نصاب مرکزی حکومت بناتی تھی تاکہ طلباء کی ذہنی سوچ ملکی ترجیحات سے ہم آہنگ ہو۔ گو مرکزی حکومت کا بنایا ہوا نصاب بھی غلط مفروضوں اور غلط تاریخی حوالوں پر مبنی ہوتا تھا۔ ہمارے بچوں کو برِصغیر کی قبل از اسلام کی تاریخ سے دُور رکھا جاتا تھا۔ ہندو سے نفرت کرنے کا رجحان پیدا کیا جاتا تھا، حالانکہ پاکستان میں بھی ہندو اقلیتیں رہتی ہیں۔ حکومت کا بنایا ہوا نصاب تنگ نظری اور مذہبی تعصب پر مبنی ہوتا تھا۔ اَب چونکہ صوبے نصاب بنائیں گے وہ اور بھی خطرناک ہوگا۔ ہر صوبہ اَب آزاد ہے کہ وہ اپنے طالبِعلموں کا رجحان، سخت گیر دین کی طرف لے جائے یا اُن کو بالکل لا دین بنا دے۔ انگریزی میڈیم سکولوں کا نصاب لبرل اور عملی تعلیم دینے پر مبنی ہوتا ہے جبکہ دینی مدرسے کا نصاب سوائے مسجد کے ملّا اور مؤذن پیدا کرنے کے کچھ اور بالکل نہیں دے سکتا۔

جس ملک کے طالبِ علموں کو طبقات میں بانٹ کر، اُن کی تعلیم و تربیت ہو گی، وہاں ہمیں قومی جذبے سے سر شار نوجوان کم ہی ملیں گے۔ طبقاتی تعلیمی نظام سے فارغ شدہ نوجوان اپنی ذاتی بہتری اور ترقی کے لئے خوب کوشاں رہے گا۔ لیکن ملک کی خیر کا جذبہ اُس میں کم کم ہی ہو گا۔ وہ اچھا انجینئر ، ڈاکٹر، اَفسر، وکیل یا تاجر تو بن جائے گا لیکن اپنے لئے ۔ ملک کے لئے قربانی دینے والا نوجوان عام طور پر غریب پس منظر سے ہو گا اور یقیناًچھوٹے متوسط سکولوں سے لکھا پڑھا ہوگا۔عمر رسیدہ پاکستانی نسل اکثر سرکاری سکولوں یا ڈسٹرکٹ بورڈوں کے سکولوں سے اُردو میڈیم میں پڑھی ہوئی ہے۔ بہت کم کانونٹ سکولوں میں گئے ہوں گے۔ قائداعظم نے سندھ مدرسہ الاسلام کراچی میں تعلیم حاصل کی ۔ علامہ اقبال ، مولانا شوکت علی، بلکہ مسلمانوں کے ابتدائی لیڈران بڑے ہی سادہ سکولوں میں پڑ ھے تھے۔ ڈاکٹر عبدالسلام ، ڈاکٹر عبدالقدیر، فیض احمد فیض، احمد فراز، چودھری محمد علی،مولانا ظفر علی خان اور بہت سے نامور پاکستانی اُردو میڈیم سکولوں کی پیداوار تھے۔راقم خود دیہات کے پرائمری سکول کے ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھا۔ ڈیسک کی شکل مڈل اور میٹرک میں دیکھی۔ لیکن جب اعلیٰ تعلیم حاصل کی تو انگریزی ادب میں ایم ۔اے کیا اور اقتصادیات میں بھی ایم۔اے کیا حالانکہ میَں خالصتاً دیہاتی اُردو میڈیم ٹائپ تھا۔ دراصل اُس وقت ہم میں اپنی ترقی کے جذبے کے علاوہ قوم اور معاشرے کے لئے بھی کچھ کرنے کا ولولہ ہوتا تھا۔ جو آج کا طبقاتی نظامِ تعلیم نہیں کر پا رہا۔ *

مزید :

کالم -