کشمیر کو باقی ماندہ دنیا سے ملانے والے تمام قدرتی راستوں کو کھولا جائے میرواعظ عمر فاروق

کشمیر کو باقی ماندہ دنیا سے ملانے والے تمام قدرتی راستوں کو کھولا جائے ...

  

سری نگر(کے پی آئی)حریت کانفرنس ع کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے حکومت ہندوستان سے کشمیر کو باقی ماندہ دنیا سے ملانے والے تمام قدرتی راستوں کو کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہاں کے عوام کو اقتصادی اور معاشی طور مفلوک الحال بنانے کا عمل جاری ہے اور جان بوجھ کر ایسے اقدامات اٹھانے سے گریز کیا جا رہا ہے جو ریاست کو اقتصادی طور خود کفیل بنا سکتے ہیں ۔جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا کہ جموں کشمیر ایک پہاڑی ریاست ہے اور 1947سے لے کر آج تک اس ریاست پر حکمران جماعتوں کی جانب سے یہاں کے عوام کی اقتصادی خودکفالت کی جانب کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ہزاروں سال سے جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے ممالک میں ایک اہم تجارتی مرکز کے بطور پوری دنیا میں ایک منفرد مقام کا حامل رہا ہے اور شا ہراہ ابریشم ،سرینگر مظفرآباد اور سرینگر راولپنڈی روڑ سے اس ریاست کے اقتصادی معاشی اور سماجی روابط باقی ماندہ دنیا سے تاریخی نوعیت کے رہے ہیں حتی کہ حضرت شاہ ہمدان اور دوسرے مبلغین بھی اسی راستے سے کشمیر وارد ہوئے ۔ لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ یہاں کے عوام کو باقی دنیا سے محض سرینگر جموں شاہراہ جیسے غیر فطری راستے کا دست نگر بنا کر محتاج بنایا گیا ہے جو معمولی بارش اور برفباری کی وجہ سے کئی کئی روز بند رہتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ سرینگر جمو ں شاہراہ کوجہاں جدید اصولوں پر ڈالنے کی ضرورت ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ کشمیر کی اقتصادی ترقی کیلئے شاہراہ ابریشم اور سرینگر مظفر آباد جیسے قدرتی راستوں کو بھی کھولا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 60برسوں سے دنیا کہیں کی کہیں آگے نکل گئی ہے رسل و رسائل اور آمد و رفت کے لا محدود ذرائع وجود میں آنے کی بنا پر جہاں دنیا کے باقی ممالک اقتصادی ترقی سے ہمکنار ہو رہے ہیں وہیں کشمیر جو ہزاروں سال سے بین الاقوامی تجارت کا ایک مرکز رہا ہے کو دانستہ طور ایک غیر فطری راستے سے باقی دنیا سے ملانے کا عمل کشمیری عوام کی معاشی بدحالی پر منتج ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ ابریشم اور سرینگر مظفر آباد روڑ کشمیریوں کی تجارتی سرگرمیوں کا مرکزو محور رہی ہیں اور ان راستوں کو کھولنے سے صرف کشمیر ی عوام کوہی نہیں بلکہ بھارت کے عوام کو بھی تجارتی لحاظ سے فائدہ ملے گا۔میر واعظ نے کہا کہ حریت جہاں مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کی بات کرتی ہے وہیں یہاں کے عوام کی اقتصادی اور معاشی آزادی کو نظر انداز نہیں کر سکتی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ ساتھ حریت یہاں کے عوام کی باقی دنیا سے اقتصادی، معاشی ،تجارتی اور ثقافتی روابط کو بھی ملحوظ نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کو اس خطے کے تمام مشکلات کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان راستوں کے کھل جانے سے ایسے مثبت اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں جو آگے چل کر مسئلہ کشمیر کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -