ارے بھائی کھیل کو کھیل سمجھو!

ارے بھائی کھیل کو کھیل سمجھو!
ارے بھائی کھیل کو کھیل سمجھو!

  

پاکستانی ٹیم ساؤتھ افریقہ سے جیت گئی۔ جذباتی شائقین ایک بار پھر بھنگڑے ڈالنے لگے اور چینلوں نے اُس کرکٹ ٹیم کی تعریفیں شروع کر دیں جسے کل تک تقریباً گالیاں ہی نکال رہے تھے۔ کھیل کو کھیل ہی سمجھنا چاہئے، یہ کیا بات ہے کہ مخالف ٹیم کے اچھا کھیلنے کی وجہ سے ہماری ٹیم ہار جائے تو ہم اُس کے کھلاڑیوں پر جوئے اور عیاشی میں ملوث ہونے کے الزامات لگا دیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم کوئی دنیا کی آخری یا سپر ٹیم نہیں ہیں، کرکٹ کے جو بادشاہ کہلاتے ہیں، اُن کا بُرا حال ہے، مثلاً برطانیہ اب بہت پیچھے جا چکا ہے، اُس سے بہتر تو آئرلینڈ کی ٹیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کرکٹ کا معیار بہت بلند ہوا ہے، بنگلہ دیش جیسی ٹیمیں اب بڑی ٹیموں کو ناکوں چنے چبوا دیتی ہیں۔ اس لئے ہمیں ایک میچ میں ہارنے کے بعد نہ تو کھلاڑیوں کے پتلے جلانے چاہئیں اور نہ ہی اُن پر جوئے کے الزامات لگانے چاہئیں، اس سے اُن کی حوصلہ شکنی بھی ہوتی ہے اور دُنیا میں ملک کی جگ ہنسائی بھی، پاکستان کی کرکٹ ٹیم جتنی محنت کرتی ہے، اُس سے زیادہ محنت جنوبی افریقہ نے کی ہو گی، مگر وہ ہار گئی۔ مَیں دعوے سے کہتا ہوں کہ جنوبی افریقہ کے میڈیا نے اُس کی شکست کے اسباب کا تو ضرور ذکر کیا ہوگا، مگر یہ الزام نہیں دیا ہوگا کہ وہ جوئے بازی کی وجہ سے ہار گئے ہیں۔

ویسے تو ہمارے ہاں سب کچھ ہی شکوک و شبہات کی نذر ہو چکا ہے۔ انتخابات ہوں یا منصوبے، اُن کے بارے میں ہمیشہ ایسی خبریں اُڑائی جاتی ہیں کہ سب کچھ تباہ ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ابھی سینیٹ کے الیکشن میں ہی دیکھئے کہ کیا کچھ نہیں ہوا، پیسے کے حوالے سے اس قدر سنگین الزامات لگائے گئے کہ اُبکائی سی آنے لگی۔ یہ درست ہے کہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں بعض کھلاڑیوں کی طرف سے کرپشن کے واقعات سامنے آئے اور اُنہیں سزائیں بھی ملیں، لیکن یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہم صرف میچ ہارنے پر تمام کھلاڑیوں کو جوئے باز ثابت کرنے پر تل جائیں۔ کیا میچ ہارنا کوئی انوکھی بات ہے یا کیا ہم نے یہ اشٹام لکھوا رکھا ہے کہ ہم نے ہر صورت جیتنا ہی ہے۔ کیا دوسری ٹیمیں چوڑیاں پہن کر میدان میں اُترتی ہیں، کیا اُن کا معیار عالمی سطح کا نہیں ہوتا کہ اُن کے ہارنے پر ہم دھاڑیں مارنے لگتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان میں جس طرح سیاست اور اقتدار میں موجود لوگوں نے کرپشن کی وجہ سے بے اعتباری پھیلائی ہے، اُسی طرح کرکٹ کے بارے میں بھی ہم بہت مشکوک ہو چکے ہیں۔ ہم نے یہ معیار بنا لیا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم جیتتی ہے، تو اُس نے جوا نہیں کھیلا اگر ہارتی ہے تو اُس نے جوا کھیلا ہے۔ یہ انتہا پسندانہ رویہ ہے، جسے اوپر سے لے کر نیچے تک سب نے اپنا رکھا ہے۔ پارلیمینٹ میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی ٹیم کی شکست پر تحریک استحقاق پیش کر کے جوئے کے الزامات لگاتے ہیں۔ اُس کے بعد ساری توپوں کا رُخ کھلاڑیوں اور آفیشلز کی طرف کر دیا جاتا ہے، جو ایک بہت بڑی زیادتی بھی ہے اور ستم ظریفی بھی۔

جہاں تک کرکٹ کا تعلق ہے تو پاکستان میں یہ کھیل اتنا متنازعہ نہیں بنا جتنا اس کو چلانے والا ادارہ متنازع ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کا من پسند چیئرمین لگانے کے لئے وزیر اعظم کو اتنی ہی دلچسپی ہوتی ہے، جیسے کسی کو وزیر یا گورنر بناتے ہیں۔ معاملات عدالتوں میں جاتے ہیں اور عدالتیں فیصلہ کرتی ہیں کہ کون چیئرمین غلط بنا ہے اور کون صحیح ہے۔ جب کرکٹ کو چلانے والا مرکزی ادارہ ہی سیاست کی نذر ہو چکا ہے تو کرکٹ کیسے بہتر ہو سکتی ہے۔ آپ دُنیا کا کوئی اور کرکٹ کھیلنے والا مُلک بتائیں جہاں پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ جیسے حالات موجود ہوں۔ ایسی کھچڑی پکتی ہو جیسی پی سی بی میں پکتی ہے، حتیٰ کہ یہ تک ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں کے کنٹریکٹ بھی سفارش یا فیورٹ ازم کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں، جہاں صرف چیئرمین بدلتا ہے، باقی لوگ سالہا سال سے مختلف عہدوں پر براجمان ہیں اور سیاہ و سفید کے اصل مالک بھی وہی ہیں۔ ایک ایسا ادارہ جسے سونے کی کان سمجھ کر سب لوٹ رہے ہوں، کیونکر اپنے اصل مقصد، یعنی کرکٹ کے فروغ اور اچھی قومی ٹیم کے انتخاب کی ذمہ داریاں پوری کر سکتا ہے۔ جب ورلڈ کپ کے لئے ٹیم کے انتخاب کی مم جاری تھی اور اُس کے لئے میرٹ پر کھلاڑی ڈھونڈنے کا عندیہ دیا جا رہا تھا تو پی سی بی میں چیئرمین بورڈ کی کرسی میوزیکل چیئر بنی ہوئی تھی۔ اس دوران کرکٹ کنٹرول بورڈ کے تین چیئرمین بدلے گئے کہ ہر ایک نے کرکٹ ٹیم کے لئے اپنی صوابدید استعمال کی، حتیٰ کپتانی کے مسئلے پر بھی یکسوئی پیدا نہ ہو سکی۔دُنیا کے دیگر کرکٹ کھیلنے والے ممالک اپنی ٹیمیں عرصہ پہلے منتخب کر کے انہیں مشق کرا رہے تھے اور ہم نے اپنی ٹیم کو تختۂ مشق بنایا ہوا تھا۔اس سب کے باوجود اگر ہماری ٹیم اچھا کھیل رہی ہے، تو یہ بات کسی معجزے سے کم نہیں، ٹیم ہار جائے تو سارا قصور کھلاڑیوں کا ڈھونڈہ جاتا ہے، حالانکہ ٹیم مینجمنٹ اور پی سی بی کے انتظامی حالات بھی اُس کے اتنے ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔

شکوک و شبہات کا یہ عالم ہے کہ ٹیم کے چیف سلیکٹر معین خان کو صرف اس لئے واپس بلا لیا گیا کہ وہ کسینو کیوں گئے تھے۔ پاکستان میں بیٹھ کر تو لگتا ہے کہ جیسے کسینو کوئی بڑی ہی خراب جگہ ہے،جبکہ آسٹریلیا جیسے مُلک میں یہ ایسا ہی ہے جیسے ہمارے ہاں کوئی ریسٹورنٹ ہوتا ہے، ضروری نہیںآپ جوا کھیلیں، صرف کھانا بھی کھا سکتے ہیں۔ جذبات اور غصے کی رو میں کسی نے یہ نہیں سوچا کہ معین خان کوئی کھلاڑی تو نہیں ہیں کہ کسینو میں بیٹھ کر کسی سے میچ ہارنے کا سودا کرتے تو کیا وہ اپنے بعض کھلاڑیوں کی طرف سے ایسی کوئی ڈیل کرانے گئے تھے۔اگر ایسا ہوتا تو کھلاڑی تو ابھی وہیں موجود ہیں۔ وہ میچ کیوں جیت رہے ہیں، شکر ہے ابھی تک یہ کسی نے نہیں کہا کہ معین خان کو چونکہ واپس بُلا لیا گیا ہے، اس لئے ٹیم جیت رہی ہے۔ کیا معین خان کوئی چرواہے تھے کہ جو اپنے ریوڑ کا سودا کر آتے۔ سب باتیں احمقانہ نظر آتی ہیں، جن کا منطق سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کھیل میں ہار جیت کے یکساں مواقع ہوتے ہیں۔ ہم ویسٹ انڈیز سے ہارے وہ جنوبی افریقہ سے ہار گیا، ہم نے جنوبی افریقہ کو ہرایا، یعنی کبھی اوپر کبھی نیچے والا معاملہ۔ ایسے میں جذبات پر قابو رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ہم سب پاکستانی اپنی ٹیم کو فتح یاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ ٹیم کے جیتنے پر ہمیں خوشی اور ہارنے پر دُکھ ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ فطری ہے، لیکن جب ہم میچ ہارنے پر کھلاڑیوں کے خلاف الزامات کی بوری کا مُنہ کھول دیتے ہیں تو یہ ہمارے اس عمومی رویے کا عکس نظر آتا ہے،جو مختلف وجوہات کے باعث ہمارے معاشرے کا حصہ بنا ہوا ہے اور جس کی وجہ سے ہم ہر معاملے میں مالی منفعت کے عمل دخل کا کوئی پہلو نکال لیتے ہیں۔

البتہ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ٹیم کے ساتھ جانے والے آفیشلز میچ میں کھلاڑیوں کی شمولیت کے حوالے سے فیورٹ ازم کا شکار ضرور ہو سکتے ہیں اس میں ذاتی سوچ کا عمل دخل بھی ہو سکتا ہے اور اپنے تجربات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی روایت بھی اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے، مثلاً پچھلے چار میچوں میں اوپنر ناصر جمشید کی ناکامی کے باوجود ٹیم کے ساتھ جانے والی سلیکشن کمیٹی نے سرفراز کو نہیں کھلایا۔ جب میڈیا اور لوگوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ایک کھلاڑی کی بار بار ناکامی کے باوجود اسے کیوں کھلایا جا رہا ہے اور سرفراز کو کیوں موقع نہیں دیا جا رہا، تو جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں اسے شامل کر لیاگیا۔ مَیں سمجھتا ہوں جنوبی افریقہ کوشکست دینے میں سرفراز کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے، وکٹوں کے پیچھے6کیچ اور49رنز کی اننگز کھیل کر اُس نے مین آف دی میچ کا اعزاز تو حاصل کیا ہی، اس سے بھی بڑھ کر اُس نے پاکستانی ٹیم کے اس داغ کو دھو دیا جو اُس کی ابتدائی دو ناکامیوں کے بعد اس کے ماتھے پرلگ گیا تھا۔یہ بات بھی ثابت ہو گئی کہ وکٹ کیپر کی میچ جتوانے میں بڑی اہمیت ہوتی ہے اور اس شعبے میں کسی پارٹ ٹائم وکٹ کیپر سے کام نہیں چلایا جا سکتا۔

مجھے تو یہی لگتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرانے جا رہی ہے۔ عمران خان کی کپتانی میں جس ٹیم نے ورلڈکپ جیتا تھا، وہ بھی ابتدا میں اپنے میچ ہار گئی تھی، مگر بعدازاں فتح اُس کے قدم چومتی رہی،موجودہ ٹیم بھی اِسی طرح آگے بڑھ رہی ہے،صرف چار مزید میچ جیت کر ہم ورلڈ چیمپئن بن سکتے ہیں، جو عین ممکن ہے، لیکن اگر نہ بھی بنے تو بھی ہمیں اپنے حواس اور جذبات پر قابو رکھنا ہو گا،وگرنہ دنیا میں ہمیں ایک ایسی قوم سمجھا جائے گا جو سپورٹس مین سپرٹ کے جذبے سے بھی محروم ہے اور شکست کو خوش دلی سے قبول نہیں کرتی۔ *

مزید :

کالم -