گرانفروشی کے خلاف مہم؟

گرانفروشی کے خلاف مہم؟

  

ہمارے سٹاف رپورٹر کی اطلاع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی گرانفروشی کے خلاف مہم جاری ہے اور گزشتہ روز چھاپے مار کر تین افراد کو گرفتار اور متعدد کو جرمانے کئے گئے۔ضلعی انتظامیہ کی طرف سے مہنگائی یا گرانفروشی کے خلاف مہم کی مخالفت تو ممکن نہیں کہ ہم سب مہنگائی سے پریشان ہیں،لیکن اس مہم کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر تو گزارشات پیش کی جا سکتی ہیں، کیونکہ اس مہم کا جو یہ انداز ہے اس سے مہنگائی میں کمی واقع نہیں ہو گی، زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ انتظامیہ پرچون فروشوں کو مارکیٹ کمیٹی کے نرخوں کے مطابق اشیاء فروخت کرنے پر مجبور کر دے۔ ویسے بھی پرچون فروش اگر ایسا کریں تو ان کی غلطی ہے کہ مارکیٹ کمیٹیاں منافع کی گنجائش رکھ کر نرخ مقرر کرتے ہیں۔گزارش کی گئی تھی کہ پرچون والوں کو پکڑنے سے گرانی کم نہیں ہو گی، اس کے لئے ذخیرہ اندوزوں کو تلاش کر کے ان کے گوداموں سے مال برآمد کرنا اور تھوک فروشوں کو ناجائز منافع خوری سے روکنے کے بعد ہی گرانفروشی کا عمل رکے گا۔

ضلعی انتظامیہ کو صوبائی حکومت کے تعاون اور اجازت سے پیداواری اور درآمد کے مقام سے پرچون فروشوں تک کا مکمل حساب لگانا ہو گا اور اس سارے سلسلے کو بحال کر کے نگرانی کرنا ہو گی، جب تک بڑوں کو نہ پکڑا، چھوٹوں کو کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ پرچون فروش کی منافع خوری کم ہوتی ہے جسے قابو کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ذخیرہ اندوزی اور تھوک فروشوں کی لوٹ مار پر قابو پا لیا جائے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو حکومت مارکیٹ کو آزاد کر دے۔ کھلا چھوڑ دے اور آمد و کھپت پر نگاہ رکھے، جس شے کی ذخیرہ اندوزی کی کوشش کی جائے گی وہ خود مارکیٹ میں لے آئے اور رعایتی نرخوں پر مہیا کرے اس سے ذخیرہ اندوزی کے رجحان میں کمی ہو سکتی ہے اور مہنگائی بھی کم ہو گی۔

مزید :

اداریہ -