ساؤتھ افریقہ پر فتح، خوش آئند!

ساؤتھ افریقہ پر فتح، خوش آئند!

  

نیوزی لینڈ میں کھیلے گئے پول بی کے اہم ترین میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے کامیابی حاصل کر لی اور یہ اہم ترین میچ جیتنے کے بعد یقینی طور پر ان چار ٹیموں میں جگہ حاصل کر لے گا جو کوارٹر فائنل کھیلیں گی۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ یہ فتح بھی1992ء کی طرز پر ہوئی اور کھیل متاثر ہونے کی وجہ سے اوور کم کر دیئے گئے۔ اگرچہ یہ میچ20رنز کے فرق سے جیتا گیا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ میچ کئی اوور پہلے ختم کر دیا گیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو جیت کے لئے ساؤتھ افریقہ کے کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنا تھا اور یہ کارنامہ ٹیم کے فاسٹ باؤلروں نے انجام دے دیا۔

ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئیں، ناصر جمشید کی جگہ سرفراز اور زخمی حارث سہیل کی جگہ یونس خان کو کھلایا گیا۔ ابر آلود موسم میں بارش زدہ وکٹ پر کھلاڑیوں نے تھوڑے تھوڑے رنز کر کے آسرا دیا تاہم مصباح الحق نے ایک بار پھر کپتان ہونے کا حق ادا کیا، نہ صرف وکٹ پر کھڑے رہے، بلکہ رنز بھی کئے۔ بہرحال جیت فاسٹ باؤلروں کی مرہون منت ہے اور وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔پاکستان کے اس میچ کے فوراً بعد کچھ دیر پہلے ٹیم پر تنقید کرنے والے یکایک تعریف پر مجبور ہو گئے اور کہنے لگے، ہم نہ کہتے تھے سرفراز اور یونس کو کھلاؤ، اگرچہ یونس خان کی جگہ حارث سہیل کے زخمی پاؤں نے بنائی۔ بہرحال ٹیم کے جو کھلاڑی وہاں موجود ہیں ان کو میرٹ پر ہی کھلانا بہتر ہوتا ہے۔جیت کی مبارک دیتے ہوئے ہم یہ کہیں گے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے بارے میں یہ پختہ رائے ہے کہ یہ حیرت انگیز کارنامے انجام دینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی اور کسی بھی وقت کچھ بھی کر گزرنے کی اہل ہے۔ہماری رائے اول روز ہی سے یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں ٹیلنٹ تو ہے، لیکن سازش اور پرچی کارکردگی نہیں دکھانے دیتی، اس ٹیم میں بھی سازش سمیت سب کچھ موجود ہے۔ بہرحال سرفراز اور یونس کو کھلا کر ایک اچھا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔اب کرکٹ بورڈ اور ٹیم انتظامیہ کے علاوہ سینئر کھلاڑیوں کا فرض ہے کہ وہ کسی خوف کے بغیر اگلے میچ کھیلیں، قسمت یاور لگتی ہے،کامیابی ضرور نصیب ہو گی۔ یہ میچ خوش نصیبی ثابت ہو گی اور آئندہ اور بھی کامیابیاں ملیں گی۔ اب پاکستان ٹیم میدان میں بہتر پوزیشن میں ہے حوصلہ بھی ملا ہے، تمام پریشانیوں کو جھٹک کر عزم صمیم کر لیں۔ قوم کی دُعائیں ساتھ ہیں۔

مزید :

اداریہ -