پنجاب میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے قوانین کی منظوری

پنجاب میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے قوانین کی منظوری

  

پنجاب اسمبلی نے خواتین کے متعلق پانچ قوانین کی منظوری دی ہے، جن میں کم سنی کی شادی کی ممانعت، مالیہ اراضی، تقسیم غیر منقولہ جائیداد اور مسلم فیملی لاز شامل ہیں، پنجاب اسمبلی میں منظور ہونے والے ایک ترمیمی بل کے تحت اب کم عمری کی شادی کروانے پر نکاح خواں، ولی یا سرپرست کو50ہزار روپے جرمانہ،چھ ماہ قید یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی، پنجاب اسمبلی نے یہ بل عالمی یوم خواتین سے پہلے منظور کئے ہیں۔قانون میں خواتین کی کم عمری کی شادی کی ممانعت پہلے سے موجود ہے، تاہم بعض والدین قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی بچیوں کی کم عمری میں شادی کر دیتے ہیں، جس سے نہ صرف خواتین کی عمومی صحت متاثر ہوتی ہے، بلکہ معاشرتی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔16سال سے کم عمر بچی کا نکاح قانوناً جرم ہے اس قانون کی خلاف ورزی کرنے اور کروانے والے کے خلاف سزا اور جرمانہ عائد کیا گیا ہے، بعض والدین سماجی رسم و رواج اور خاندانی دباؤ کے تحت اپنی بچیوں کی کم عمری میں شادی کر دیتے ہیں اور نکاح خواں حضرات کو بھی اس میں ملوث کر لیتے ہیں، اب ترمیمی قانون میں جرمانے اور قید کی سزا کے بعد توقع ہے کہ کم عمری کی شادیاں کم ہو جائیں گی اور جو لوگ ایسا کریں گے اُنہیں جرمانے اور قید کی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ منظور شدہ قوانین کے مطابق نکاح خواں حضرات کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ نکاح نامے کے تمام کالم درست معلومات کے ساتھ پُر کریں، نکاح رجسٹر نہ کرانے کی صورت میں سزا اور جرمانہ عائد ہو گا۔ پہلی بیوی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے کی سزا اور جرمانے میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ثالثی کونسل کو بیوی اور بچوں دونوں کا نان نفقہ مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ بیوی اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے فیملی کورٹ کی کارروائیاں جلد از جلد مکمل کرنے کے عمل کو سہل بنا دیا گیاہے۔ عائلی مقدمات کا سمری ٹرائل ہو گا۔ پنجاب اسمبلی میں منظور ہونے والے دوسرے قوانین کے مطابق اب وارثانِ جائیداد کی طلبی کے سمن مَردوں کے علاوہ خواتین کو بھی وصول کرائے جا سکیں گے، جائیداد کی تقسیم کے لئے ثالث کا تقرر خاتون اور مرد وارثان کی رضامندی کے ساتھ ہو گا۔

پاکستانی معاشرے میں مروج بعض رسم و رواج ایسے ہیں جن کے تحت عورتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا ہے اور اُن کے اسلامی اور قانونی حقوق کو نظر انداز کیا جاتا ہے، تعلیم کے فروغ کے باوجود ایسی رسوم و رواج عورت کی ترقی کی راہ میں زنجیر بن جاتی ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے عورتوں کی بہبود کے لئے جو قوانین منظور کئے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان پر ان کی روح کے مطابق عمل کرایا جائے، اچھے سے اچھے قانون پر اگر کما حقہ،عمل نہیں ہوتا تو اس سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے،اس لئے عورتوں کے حقوق کے لئے منظور شدہ قوانین پر اس انداز سے عمل کرایا جائے کہ سماجی رسم و رواج اس کے آڑے نہ آ سکیں۔

پاکستان میں اکثریت مسلمانوں کی بستی ہے اور اسلام نے عورتوں کے حقوق کی نہ صرف کھل کر وکالت کی ہے، بلکہ اُن کے تحفظ کے لئے قوانین بھی وضع کئے ہیں، اسلام نے زوجین کے حقوق الگ الگ بیان کر دیئے ہیں، نکاح و طلاق کے قوانین کا مقصد بھی زوجین کے حقوق کا تحفظ ہے۔ عورتوں کو وراثت میں حق دار بنایا گیا ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو ان کے حقوق حاصل نہیں ہو سکے، شادی کے تحائف اور جہیز کے نام پر عورتوں کو وراثت سے محروم کر دیا جاتا ہے، جاگیرداروں میں یہ عجیب و غریب رسم ہے کہ جاگیروں کو تقسیم ہونے سے بچانے کے لئے عورتوں کو شادی سے بھی روک دیا جاتا ہے۔ ایک طرف یہ ظلم ہے اور دوسری طرف کم عمری کی شادیوں کارواج بھی ہے،جس سے معاشرے میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے جو قوانین اب منظور کئے ہیں ان کی ضرورت عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی، لیکن قانون سازوں نے اس جانب بروقت توجہ نہیں دی۔ گزشتہ روز کی قانون سازی میں بھی اپوزیشن نے حصہ نہیں لیا اور عجلت میں قانون سازی کا بہانہ کرکے اسمبلی سے واک آؤٹ کرگئے، حالانکہ ضرورت تھی کہ وہ اس میں نہ صرف حصہ لیتے،بلکہ اس قانون کو مزید بہتر کرتے۔ اب بھی اگر ضرورت محسوس ہو گی تو اس قانون کو آئندہ مزید بہتر کیا جا سکے گا، لیکن جو قانون منظور ہو چکے ہیں اگر ان پر ہی عملدرآمد شروع ہو جائے تو حالات میں کافی بہتری محسوس کی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں عورتوں کی آبادی بعض صورتوں میں مردوں سے بھی بڑھ گئی ہے۔ اگر خواتین کی نصف آبادی رسم و رواج کے جال میں جکڑی رہے گی تو معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکے گا، اب عورتوں کو زندگی کے ہر شعبے میں مساوی مواقع مہیا کرنے کی ضرورت ہے، خواتین کے تعلیمی اداروں میں بھی اضافے کی ضرورت ہے،جو عورتیں ملازمت کرتی ہیں اُنہیں ملازمت پر بہتر حالاتِ کار مہیاکرنا بھی آجروں کی ذمہ داری ہے۔ اگرچہ اس سلسلے میں بہت کچھ کیا جا چکا ہے تاہم مزید بہتری کی گنجائش ہے اور پنجاب اسمبلی میں خواتین کے متعلق جو پانچ قوانین منظور کئے گئے ہیں امیدہے ان پر عملدرآمد سے عورتوں کے حقوق کی صورت حال بہتر ہو گی۔

مزید :

اداریہ -