ریاست میں آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کا مقابلہ کیا جائیگا محمد یاسین ملک

ریاست میں آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کا مقابلہ کیا جائیگا محمد یاسین ...

  

سری نگر(کے پی آئی) جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہاکہ جب مسئلہ کشمیر حل کرنے کی کوئی نیت ہی نہیں ہے تو پھر مذاکرات کس بات پر کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کو مستقل طور پر بسانیکی کوئی کوشش کی گئی تو اسکا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔یہاں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کل بات چیت اور مزاکراتی عمل کا بڑا شور و غوغا مچایا جارہا ہے۔ ہمارا ایمان و ایقان ہے کہ متنازعہ مسائل اورجھگڑوں کا حل بہرحال مزاکراتی میز پر ہی نکل سکتا ہے لیکن ایسا ہونے کیلئے ضروری ہے کہ مزاکراتی عمل میں شامل ممالک یا اقوام اپنے اپنے لوگوں کو اس حوالے سے ذہنی، جذباتی اور سماجی طور پر تیار کریں۔ مزاکراتی عمل کی کامیابی کیلئے ایسا ماحول تیار کیا جاتا ہے جہاں میز پر مسائل کے حل کے لئے رعایت دینے کا کام آسان ہوجا ئے لیکن یہاں اس حوالے سے گنگا الٹی بہہ رہی ہے۔ ہند پاک مزاکرات ہوں یا ہند کشمیر مزاکرات ہر معاملے میں حالت یہ ہے کہ بھارت کے حکمران میڈیا کے ذریعے سخت موقف اپنائے ہوئے ہیں یہاں تک کہ ریاست جموں کشمیر اور بھارت کے مابین جو معاملات ہیں ان پر بھی آئے روز بھارتی وزیراعظم اور انکی کابینہ کے سخت بیانات آتے رہتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوجاتا ہے کہ بھارت جموں کشمیر کے مسئلے کو حل کرنا تو درکنار اس پر کوئی پیش رفت تک کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں مزاکراتی عمل کا شور و غوغا اس کے سوا کیا معنی رکھتا ہے کہ یہ عمل ماضی ہی کی طرح محض دکھاوا ، وقت گزاری اور دھوکہ دہی ہے۔محمد یاسین ملک نے کہا کہ ماضی میں ہم نے خود بھی مزاکراتی عمل میں حصہ لیا لیکن کشمیری محض فوٹو اٹھوانے کیلئے کئے جانے والے اس عمل سے اب بیزار ہوچکے ہیں ۔ ملک نے ہندو پاک ممالک یا پھر جموں و کشمیر اور نئی دہلی کے بیچ کسی بھی مزاکرات کو ناقابل قبول قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی ہو یا نیشنل کانفرنس،کانگریس،بی جے پی ہو یا کیمونسٹ یا دوسری چھوٹی بڑی ہند نواز سیاسی جماعتیں سب کے سب بھارت کے حاشیہ بردار ہیں جو کشمیریوں کے مفادات کی بیخ کنی اور یہاں بھارت کے مفادات کی رکھوالی پر مامور ہیں۔ ملک نے کہا کہ آج کہا جارہا ہے کہ دفعہ370کا دفاع کیا جائے گا۔ گویا کشمیریوں کی ساری جدوجہد اسی لنگڑے لولے کوکھلے قانون کیلئے ہے۔ ماضی میں بھی نیشنل کانفرنس نے آزادی کے نام سے اپنی شروعات کی اور پھر ماں بہن کی عزت370 کا نعرہ دیا۔ اب یہ نئے لوگ نئی بوتل میں پرانی شراب کی مانند اسی ڈھکوسلے کو آگے بڑھاکر اپنی اقتداری سیاست کو آگے بڑھارہے ہیں۔ ملک نے خبردار کیکہ کسی کو بھی جموں کشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت سے کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی اور مغربی پاکستان کے رفیوجیوں کو جموں کشمیر کے مستقل باشندہ بناکر یہاں کی ڈیموگرافی کی تبدیلی کے خلاف ہم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہوں گے۔ یاسین ملک نے کہا کہ مرھوم غلام محمد صادق کے دور میں مفتی محمد سعید انکی کابینہ میں وزیر تھے اور انکی موجودگی میں ہی اس وقت دفعہ 370میں کافی ترامیم لائی گئیں جس پر وہ اس وقت چپ رہے اور اب دفعہ 370کا محافط ہونے کا دعوی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی طرح اب مفتی محمد سعید اور محبوبہ مفتی دفعہ370کا لاگ الاپ رہی ہے جبکہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انہوں نے محض اقتدار کی خاطر RSSکے ساتھ ہاتھ ملایا اور یہاں کے لوگوں کے جزبات پھر ایک بار مجروح کئے۔ یاسین ملک نے کہا کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے اننت ناگ سے اس جلسے کا آگاز اسلئے کیا کیونکہ مفتی محمد سعید نے یہاں سے انتکاب لڑ کر یہاں کے لوگوں کو شیشے میں اتارنے کی کوشش کی ۔ اس موقعہ پر ملک نے مفتی سعید کو چلینج دیا کہ وہ غیر سرکاری طور پر اننت ناگ سے انکے مقابلے میں انتخاب لڑ کے دکھائیں ۔ملک نے کہا کہ آج عالمی برادری اس بات پر تشویش میں مبتلا ہے کہ کشمیر میں اعلی تعلیم یافتہ جوان عسکریت میں شامل ہورہے ہیں ۔ ہم انہیں بتادینا چاہتے ہیں کہ یہ عالمی برادری کی منافقت ہی ہے کہ جو ان بچوں کو عسکری جدوجہد کی جانب دھکیل رہی ہے۔ عالمی برادری نے ان کی پرامن جدوجہد کو بھارت حکمرانوں کے ہاتھوں پٹتے دیکھا،انہیں پرامن جدوجہد کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان پر پرامن جدوجہد کے دوران سیاسی جگہ محدود کردی گئی اور عسکریت کا راستہ اپنانے پر مجبور کردیا گیا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -