حکومت ہائی ٹیک انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے‘ مزمل صابری

حکومت ہائی ٹیک انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے‘ مزمل صابری

  

 اسلام آباد (کامرس ڈیسک) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر مزمل حسین صابری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ برآمدات کو بہتر طور پر فروغ دینے کیلئے ہائی ٹیک انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرے اور اعلیٰ ٹیکنالوجی مصنوعات کی مقامی پیداوار بڑھانے کیلئے نجی شعبے کی ہرممکن معاونت کرے۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ ملک میں 80فیصد سے زائد اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دے رہا ہے لہذا حکومت برآمدات میں تنوع پیدا کرنے اور مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کیلئے نجی شعبے سے تعاون کرے تا کہ برآمدات کو صلاحیت کے مطابق فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو دہائیوں سے پاکستان کو تجارتی خسارے کا سامنا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری حکومتیں برآمدات کو بہتر طور پر فروغ دینے میں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1947-48میں پاکستان کی برآمدات 13کروڑ 80لاکھ تھیں جبکہ درآمدات صرف 9کروڑ 60لاکھ تھیں اورملک کاتجارتی توازن سرپلس تھا تاہم 2013-14کے مالی سال کے دوران پاکستان کی برآمدات 25ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ درآمدات بڑھ کر 45ارب ڈالر تک پہنچ گئیں جس وجہ سے ملک کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 20ارب روپے ہوگیا ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تین دہائیوں سے دنیا کی کل برآمدات میں پاکستان کا حصہ تقریبا ساکن رہا جو پالیسی سازوں کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا یونائیٹڈ نیشنز کی ایک سٹیڈی کے مطابق 1980تا 2011تک دنیا کی کل برآمدات میں انڈیا کا حصہ 0.43فیصد سے بڑھ کر 1.78فیصد تک پہنچ گیا ، بنگلہ دیش کا 0.04فیصد سے بڑھ کر 0.14فیصد سے زیادہ ہو گیا، ملایشیاء کا 0.74فیصد سے بڑھ کر 1.34فیصد تک اور تھائی لینڈ کا 0.37فیصد سے بڑھ کر 1.35فیصد تک پہنچ گیا لیکن پاکستان کا حصہ اس عرصے میں دنیا کی کل برآمدات میں 0.15فیصد تک ہی ساکن رہا جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی کی حکومتیں برآمدات کو ترقی دینے کیلئے مناسب حکمت عملی وضع کرنے سے قاصر رہی ہیں۔مزمل صابری نے کہا کہ برآمدات کے شعبے میں پاکستان کی ناقص کاکردگی کی اہم وجہ برآمدات میں تنوع کا فقدان ہے کیونکہ ہمارا ملک برآمدات کیلئے زیادہ تر ٹیکسٹائلز اور گارمنٹس سمیت کم ٹیکنالوجی والی محدود مصنوعات پر انحصار کر رہا ہے جن کی مانگ دنیا میں اتنی تیزی سے نہیں بڑھ رہی۔ اس کے برعکس ملایشیاء اور سنگا پور سمیت دنیا کے کئی ممالک نے اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مصنوعات پر توجہ دے کر برآمدات کے شعبے میں حیرت انگیز ترقی کی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کا حصہ اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مصنوعات میں 1980سے لے کر اب تک 2فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکا جس وجہ سے ملک کا تجارتی خسارہ بڑھتا جا رہا ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مقامی سطح پر الیکٹرانک و الیکٹریکل، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام مصنوعات سمیت اعلیٰ ٹیکنالوجی کی دیگر مصنوعات تیار کرنے کی حوصلہ افزائی کرے اور اس سلسلے میں سرمایہ کاروں کو بہتر ترغیبات فراہم کرے جبکہ برآمدات میں تنوع پیدا کرنے کیلئے نئی پالیسیاں لے کر آئے تا کہ نجی شعبہ ان مصنوعات کی مقامی پیداوار بڑھا سکے جس سے برآمدات کو صلاحیت کے مطابق فروغ ملے گا اور ملک تجارتی خسارے سے نکل کر بہتر معاشی ترقی کی طرف گامزن ہو گا۔

مزید :

کامرس -