حکومت نے خواتین کے حقوق کیلئے تاریخی اقدامات کئے،راشدہ یعقوب

حکومت نے خواتین کے حقوق کیلئے تاریخی اقدامات کئے،راشدہ یعقوب

  

لاہور(پ ر)پارلیمانی سیکرٹری برائے ویمن ڈویلپمنٹ راشدہ یعقوب شیخ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ( ن )کی حکومت نے خواتین کے حقوق کا تحفظ کرنے اور انہیں معاشرہ میں اہم کردار دلانے کے لئے ریکارڈ کام کیا ہے یوم خواتین پر پنجاب اسمبلی نے پانچ قانون منظور کرکے خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا ہے ۔ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ آئین میں عورتوں کی مساوی حیثیت کی ضمانت دی گئی ہے لیکن عورتوں کے خلاف منفی رویے اور ا متیازی سلوک ترقی کے عمل میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ معاشی طور پر با اختیارخواتین ہی باوقار سماج کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہیں ۔ رواں مالی سال کے دوران صوبہ بھر میں 65 ڈے کیئر سنٹرز کے قیام کی منظوری دی گئی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ خواتین معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہیں حکومت انہیں قانونی او رمعاشی تحفظ فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام کررہی ہے۔ پنجاب اسمبلی میں جن قوانین میں ترامیم کی منظوری دی گئی ان میں کم عمری کی شادی کی روک تھام ایکٹ 1929ء، مسلم فیملی لاء آرڈیننس 1961ء، فیملی کورٹس ایکٹ 1964ء،غیر منقولہ جائیداد کی تقسیم ایکٹ 1912ء اور لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 شامل ہیں ۔کم عمری کی شادی کی روک تھام ایکٹ میں کم عمری کی شادی کی موجودہ ایک ماہ کی سزا ، ایک ہزار روپے جرمانہ یا دونوں سزاؤں میں اضافہ کرکے سزاچھ اور جرمانہ پچا س ہزار روپے کردیاگیا ۔کم عمر کی شادی کرانے والے نکاح رجسٹرار کی سزا میں بھی اضافہ کیاگیاہے ۔مسلم فیملی لاء آرڈیننس میں دلہن اور دلہا کی طرفسے نکاح نامے میں اندراجات سے متعلق کوئی دفعہ شامل نہیں اور دیکھا گیاہے کہ نکاح نامہ میں اندراج نہ کرنے کے سبب دلہن کے حقوق بالخصو ص خاندانی جھگڑوں کے معاملہ میں بری طرح استحصال ہوا ہے ۔

اس بات کو یقینی بنانے کیلئے کہ نکاح نامہ میں نکاح رجسٹرار یا نکاح پڑھانے والے دیگر شخص کی جانب سے مناسب اندراج کیاجائے ۔ قوانین میں مزید دفعات شامل کی گئیں ہیں۔ فیملی کورٹس ایکٹ 1964ء میں خلع،نان نفقہ،بچوں کی تحویل ، سرپرستی ، جہیز اور بیوی کی ملکیتی اشیاء سے متعلق دیگر خاندانی معاملات کو حل کرنے کے لئے قانون میں ترمیم کی گئی ہے ۔ اس ضمن میں فیملی کورٹس کے اختیارات میں اضافہ کیاگیاہے ۔غیر منقولہ جائیداد کی تقسیم کے ایکٹ 2012ء کی دفعہ 9 کی شق 3 کو ختم کردیاگیاہے تاکہ اس ضمن میں شریک تمام مالکان کی منظوری سے ثالث کے تقرر کو یقینی بنایاجاسکے ( جاری ہے

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -