پاکستان میں 90فیصد سے زائد عورتیں گھریلو تشدد کاشکار ہیں،راضیہ نوید

پاکستان میں 90فیصد سے زائد عورتیں گھریلو تشدد کاشکار ہیں،راضیہ نوید

  

لاہور (نمائندہ خصوصی)پاکستان عوامی تحریک شعبہ خواتین کے تحت مرکزی سیکرٹریٹ میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں خواتین نے شرکت کی ۔ مرکزی صدر راضیہ نوید نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 90فی صد سے زائد عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہیں آبادی کا بڑا حصہ غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزار رہا ہے غربت کے باعث لاکھوں خواتین اور بچے گھروں میں کام کر رہے ہیں مگر حکمران بے حس ہو چکے ہیں اور خواتین کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ملک کو بنے 67سال ہو چکے ،ہم ابھی تک جاگیردارانہ قبائلی کلچر اور فرسودہ رسم و رواج سے پیچھا نہیں چھڑا سکے ۔عورتوں پر تشددبنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، نا اہل حکمران اس تشددکی فضا کو کم کرنے اور قوانین ہونے کے باوجود ان پر عمل درآمد کرانے میں مکمل ناکام دکھائی دیتے ہیں ۔راضیہ نوید نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے18ماہ کے دور حکومت میں خواتین پر تشدد کے 8ہزار سے زائد کیسز سامنے آئے۔نام نہاد حکمرانوں نے کئی بل اور قوانین اسمبلیوں میں پاس کئے لیکن اس کے باوجود ملک بھر اور خاص طور پر پنجاب میں خواتین پر تشدد میں مسلسل اضافے پر ساری قوم پریشان ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد اور مظالم انتہائی سنگین صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں ۔ڈینگی مچھر کی خبر رکھنے والے وزیر اعلیٰ پنجاب 17جون کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں خواتین کی بے حرمتی سے کس طرح بے خبر رہ سکتے ہیں ۔حکمرانوں نے معصوم اور نہتی خواتین پر گولیاں برسا کر یزیدی خصلت کا مظاہرہ کیا ۔حوا کی بیٹیاں تخت لاہور کے ظالم حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتی ہیں ۔راضیہ نوید نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شہید اور زخمی بیٹیاں 8ماہ سے انصاف کی منتظر ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب خواتین پر تشدد کو سنگین جرم سمجھتے ہیں تو پھر وہ پاکستان عوامی تحریک اور تحریک منہاج القرآن کی خواتین پر تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں اور افسران کو تحفظ نہ دیں اور اس تشدد اور قتل و غارت گری کا حکم دینے والوں کو کٹہرے میں لائیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ وہ پنجاب کی ہر خاتون کو ماں،بہن اوربیٹی سمجھتے ہیں راضیہ نوید نے کہا کہ8مارچ نہ صرف خواتین کی کامیابیوں کو منانے کا دن ہے بلکہ ان کے خلاف روامنفی سلوک اور رویوں کے خلاف عمل پیرا ہونے کا عہد بھی ہے۔ سیمینار سے گلشن ارشاد،نبیلہ ظہیر،افنان بابر،ملکہ صبا نے بھی خطاب کیا ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -