بچیوں کی کم عمری کی شادی مسائل کو جنم دیتی ہے،جسٹس(ر) ناصرہ جاوید

بچیوں کی کم عمری کی شادی مسائل کو جنم دیتی ہے،جسٹس(ر) ناصرہ جاوید

  

لاہور (ایجوکیشن رپورٹر) بچیوں کی کم عمری میں شادی ان کی صحت کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ کئی مسائل کو جنم دیتی ہے ہمارے ہاں آج بھی خواتین فرسودہ رسومات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں ان حالات میں فکری انقلاب کی ضرورت ہے اسلام نے عورت کو بحیثیت ماں، بیوی،بیٹی اور بہن کے بہت بلند مقام دیا ہے۔قائداعظمؒ خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں کام کرتے دیکھنے کے خواہشمند تھے ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان میں عالمی یوم خواتین کے سلسلے میں خصوصی نشست بعنوان ’’پاکستان کی معاشی ترقی میں خواتین کا کردار اور ذمہ داریاں‘‘ کے دوران کیا۔اس نشست کی صدارت جسٹس(ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کی جسٹس(ر)ناصرہ جاوید اقبال نے کہا کہ اگر ہم خواندگی کی شرح میں اضافہ کر لیں تو نظام میں تبدیلی آجائے گی۔18سال سے کم عمر بچی کی شادی نہیں ہونی چاہئے، پاکستانی عورت آج بھی گھریلو تشدد کا شکار ہورہی ہے۔ پاکستانی آئین میں مردو عورت کو برابری کا درجہ دیا گیا ہے لیکن ان کو کسی بھی شعبے میں اس کا حق نہیں دیا جا رہا ۔ خواتین کو اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے آوازبلند کرنا ہو گی،بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ اس سال عورتوں کے عالمی دن کا موضوع’’عورت کی بااختیاری انسانیت کی بااختیاری ہے‘‘ رکھا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ان کی خداداد صلاحیتوں اور قابلیتوں پر اعتماد کیا جائے۔سلمان عابد نے کہا کہ ہمارے ہاں ابھی تک عورتوں کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ خواتین کی آبادی کا 60فیصدناخواندہ ہے۔بدقسمتی سے اس خطے میں دوران زچگی سب سے زیادہ اموات پاکستان میں ہوتی ہیں۔عورتوں کیلئے ملازمتوں کے حصول کے مواقع کم ہیں۔ آج ہمیں یہ عہد کرنا ہو گا کہ خواتین کے بارے میں اپنا موقف بدلیں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -