سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، غلام عباس

سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، غلام عباس

  

 لاہور( ایجوکیشن رپورٹر) اسلامی تحریک طلبہ پاکستان کے قائدین غلام عباس صدیقی،شاہد نذیر ،ذکی الدین،محمد عدنان،حافظ عطاء الرحمان نے سینٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ سینٹ الیکشن میں اراکین کی بولیوں،خریدو فروخت کاشور قوم کے بچے بچے نے سن لیا ، ایم این ایز اور ایم پی ایز کو عوام ووٹ کاسٹ کرکے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں تاکہ یہ منتخب ہوکر ہمارے قومی فلاح وبہبود کیلئے کام کریں گے ایسی پالیسیاں مرتب کریں گے جس سے اسلام اور پاکستان کا دنیا میں امیج روشن ہوگا ،مگر افسوس صد افسوس کہ پارلیمنٹ جسے ایوان شوریٰ بھی کہا جاتا ہے کے اراکین عوامی توقعات کے برعکس ذاتی مفادات کو مقدم رکھتے ہیں   ہوئے کرپشن کی گنگا میں اپنے ہاتھ دھو رہے، کرپشن کے اس حمام میں سب ننگے ہیں جو اراکین سینٹ میں اپنے ضمیر کا فیصلہ دیتے وقت نوٹوں کی بوریوں کے عوض اپنا ضمیر بیچ دیتے ہیں ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے ۔     انہوں نے کہا کہ قوم کو ایسے رہبر ملے ہیں جو رہبر کی شکل میں رہزن ہیں جن کے نزدیک ضمیر کی قیمت چند کروڑ روپے ہے قوم کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والے طبقہ کا یہ حال ہے تو پھر پاکستان کس طرح ترقی کرے گا؟ پاکستان کو کرپشن کے ناسور سے کون نجات دلائے گا؟برکیف سینٹ الیکشن میں دھندلی ارباب اقتدار ہی نہیں بلکہ اسمبلیوں میں موجود تمام اراکین،جماعتوں کے چہرے پر بد نما داغ ہے جسے قوم کا بچہ بچہ دیکھ رہا ہے اس داغ کو یہ اہل جمہوریت صاف کرتے ہیں یا نہیں یہ کام ان کا ہے مگر قوم کو حقیقت کا علم ہوگیا ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا نظام چل رہا ہے جس میں جاگیر داروں،مالداروں،نوابوں،کرپٹ،عہدے کے حریص لوگوں کا قبضہ ہے جو ذاتی مفادات کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں اس نظام میں غریب کا کوئی حصہ نہیں اور نہ ہی کو ئی ریلیف۔اسلامی تحریک طلبہ کے قائدین نے کہا کہ اگر یہی کرپشن ،خرید وفروخت کا سلسلہ جاری رہا جو ختم ہوتا نظر نہیں آرہا تو قوم کو اپنے مستقبل کے تحفظ کیلئے نظام بدلو تحریک چلانا پڑے گی۔ اب عوام کو چاہیے کہ کرپشن،حقوق انسانی ،دینی اقدار کو پامال کرنے والے نظام اور اس کے لیڈروں کا بوریا بستر گول کرنے کیلئے عزم صمیم کرکے میدان میں اتریں تاکہ قوم کو کرپٹ لیڈر ،کرپٹ نظام سے نجات نصیب ہوسکے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -