اسلام نے عورت کو چودہ صدیاں قبل ممبر پارلیمنٹ بنایا ، عطیہ بنین

اسلام نے عورت کو چودہ صدیاں قبل ممبر پارلیمنٹ بنایا ، عطیہ بنین

  

 لاہور(نمائندہ خصوصی)منہاج القرآن ویمن لیگ لاہور کی ناظمہ عطیہ بنین نے کہا ہے کہ عورت کو حقوق دینے کا واویلا مچانیوالوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام نے عورت کو چودہ صدیاں قبل ممبر پارلیمنٹ بنایا جبکہ مغرب نے 1929میں عورت کو ووٹ کا حق دیا ۔مادر پدر آزادی کو حقوق کا نام دینا کسی طور پر درست عمل نہیں ہے قیام پاکستان کے66سال بعد بھی قرآن سے شادی،کاروکاری اور مختلف شکلوں میں عورت کا استحصال اسلئے جاری ہے کہ ہم نے اپنی اصل اقدار سے منہ موڑ لیا ہے فرائض سے پہلوتہی کرنیوالے مخصوص ذہنوں نے عورتوں کو حقوق سے محروم کر رکھا ہے خواتین کے حقوق کا اصل دشمن موجودہ استحصالی اور فرسودہ نظام سیاست و اقتدار ہے ۔   اسلام نے عورت کو ماں ،بہن ،بیٹی اور بیوی کے روپ میں ایک اچھوتا اور مقدس رشتہ عطا کیا ہے تاکہ عورت معاشرے میں تخریب کی بجائے تعمیر واصلاح کا فریضہ سرانجام دے سکے ۔عورت کو چاہیے کہ شر م وحیاء کا پیکر بن کر تعلیمی ، معاشی ، اقتصادی اور معاشر تی میدان میں مردوں کا ہاتھ بٹائے تاکہ معاشرے کی ترقی میں فعال کردارادا کرسکے ۔معاشرے میں خواتین کے تقدس کی بحالی کیلئے مؤثر اور فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔وہ گذشتہ روز خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے منہاج القرآن ویمن لیگ کے زیر اہتمام مرکزی سیکرٹریٹ میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہی تھیں۔ منہاج القرآن ویمن لیگ لاہور کی ناظمہ دعوت زارا ملک نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پردہ عورت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کے تحفظ اور اعتمادکا ذریعہ ہے۔خواتین کو معاشرے میں گوناں گوں مسائل کا سامنا ہے ۔حجاب عورت کی عزت وعصمت کامحافظ ہے ۔انہوں نے کہا کہ عورت کو نازیبا انداز میں اشتہاری مہم کا حصہ بنانا انتہائی شرمناک فعل ہے۔اسلام نے عورت کو مرد کے برابرحقو ق دیے ہیں جبکہ معاشرے میں عورت کو کم تر سمجھاجاتاہے جو سراسر ناانصافی ہے ۔اسلام نے عورت کو جو حقوق دیے ہیں وہ قابل تحسین ہیں ۔ عورت اگر چاہے تو معاشرے میں ایک قابل قدر مقام حاصل کر سکتی ہے ۔یہ عورت پر منحصر ہے کہ وہ اپنے وجود سے تصویر کا ئنات میں رنگ بھر دے یا پھر اس کو تاریک کردے ۔آج جہا ں عورت نے ترقی کی منازل طے کی ہیں،وہاں اس کے وجودنے سیاہیاں بھی پھیلائی ہیں۔نائب ناظمہ زریں لطیف نے کہا کہ معاشرے میں خواتین اپنے آپ کو جدت پسند تو ظاہر کرتی ہیں مگر اکثریت کا عمل اسلام سے متصادم ہے۔چادر اور چار دیواری کاتقدس مجروح کئے بغیر عورت کامیابی کی تمام منازل طے کر سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو جتنے حقو ق دیے ہیں اتنے کسی اور مذہب نے نہیں دیے ۔ اسلامی حدود و قیود میں عورت کو اس کی اصل شناخت دلائی جائے نہ کہ نام نہاد جدت پسندی کو فروغ دے کر عورت کی عزت وعصمت کو پامال کیا جائے۔ پاکستان چند خاندانوں کیلئے نہیں بلکہ غریب مسلمانوں کیلئے بنایا گیا تھا ۔جاگیر دار ،وڈیرے ،سرمایہ دار اور نااہل سیاستدان پچھلے 66 سالوں سے غریبوں کے حقوق سے کھیل رہے ہیں ۔ڈاکٹر طاہر القادری قوم کو انقلاب کا جو پیغام دے رہے ہیں اسکی تقلید کرنا ہو گی ۔ عوام کو امن اور دہشت گردی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا ۔ڈاکٹر طاہر القادری کا پیغام امن ،اسلام اور پاکستان کیلئے ہے اس پر عملدرآمد سے ہی ملک میں دائمی امن قائم ہو گا ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -