ہوم بیسڈ ورکرز پر تشدد کے حوالے سے قانون سازی کی جائے، انعم سعید

ہوم بیسڈ ورکرز پر تشدد کے حوالے سے قانون سازی کی جائے، انعم سعید

  

 لاہور(نمائندہ خصوصی) فلاحی ادارے میسو گرومنگ سسٹم کی اسسٹنٹ وائس چےئر مین انعم سعید نے گھریلو خواتین ملازمین پر تشدد کو سماجی المیہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ہوم بیسڈ ورکرز پر ہونیوالے تشدد کے حوالے سے فوری طور پر قانون سازی کی جائے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ مخلوط تعلیم کا خاتمہ کیا جائے، خواتین کیلئے علیحدہ یونیورسٹیاں، میڈیکل کالجزاور انجینئرنگ کالج و یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے، ضلع کی بجائے ہر تحصیل میں فیملی کوٹ بنائی جائے اور فیملی کوٹ کیلئے خواتین ججوں کی تعداد بڑھائی جائے     تاکہ فیملی مقدمات کا فیصلہ جلد از جلد ہو سکے۔ خواتین کیلئے خواتین محتسب کا قیام حکومت کا ایک اچھا اقدام ہے لیکن خواتین محتسب کے دفاتر ضلع اور تحصیل کی سطح پر بنانے کی ضرورت ہے تا کہ خواتین کو نچلی سطح پر انصاف مل سکے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -