مسلم لیگ (ن) نے حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ نامزد کر دیا ،رابطوں کیلئے 3رکنی کمیٹی قائم

مسلم لیگ (ن) نے حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ نامزد کر دیا ،رابطوں کیلئے 3رکنی ...

  

اسلام آباد(لاہور،نمائندہ خصوصی، اے این این، آن لائن،آئی این پی) سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات کے سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطوں، مشاورت اور جوڑتوڑمیں تیزی آگئی ہے، اس ضمن میں حکمران مسلم لیگ (ن) ،اپوزیشن پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں سر گرم عمل ہیں۔وزیراعظم نواز شریف کے زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہفتہ کے روز ہوا جبکہ آصف علی زرداری نے اپنے سینیٹر ساتھیوں اور اتحادیوں کا اجلاس کل پیر کو طلب کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے چیئرمین سینیٹ کے طور پر نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو کا نام تجویز کیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے روبینہ رؤف خالد کو ڈپٹی چیئرپرسن کی حیثیت سے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) چیئرمین کے عہدے کے حوالے سے تحریک انصاف سے بھی رابطہ کر رہی ہے جبکہ اس نے مختلف جماعتوں سے مشاورت کے لئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔اے این این کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کے زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کے مشاورتی اجلاس میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نامزدگی ،تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے کرنے کافیصلہ کیاگیاہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں سینیٹ الیکشن اور اس کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب سے متعلق معاملات پرتفصیلی مشاورت کی گئی اور فیصلہ کیا گیا کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کی نامزدگی تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور اتفاق رائے سے کرنے کی کوشش کی جائے گی ، اس ضمن میں نوازشریف نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جسے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا ٹاسک دیا گیا ہے، اس کمیٹی میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، وزیراطلاعات پرویز رشید اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو شامل کیا گیا ہے ، وزیراعظم نے اسحاق ڈار کو پیپلزپارٹی ،اے این پی اور بلوچستان کی جماعتوں سے رابطہ کرنے کا ٹاسک دیا ہے جبکہ شہبازشریف کو ایم کیو ایم اور پرویز رشید کو جے یو آئی (ایف) سے رابطے کی ہدایت کی گئی ہے ۔نوازشریف نے سینٹ کے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے تاثر کو زائل کرنے کیلئے تمام نو منتخب سینیٹرز سے بھی رابطے کی ہدایت کی ہے ، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگلا مرحلہ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور مفاہمت کے ذریعے طے کیا جائے گا ۔آن لائن کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے چیئرمین سینٹ کیلئے نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو کا نام تجویز کردیاہے، وہ آج (اتوار) وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے حاصل بزنجو کو ٹیلیفون کیا اور مسلم لیگ (ن) کی جانب سے چیئرمین سینٹ کیلئے ان کا نام تجویز کرنے کے فیصلے سے آگاہ کیا۔میر حاصل بزنجو کا تعلق بلوچستان سے ہے اوروہ غیر متنازعہ شخصیت ہیں،توقع کی جاتی ہے کہ میر حاصل بزنجو مسلم لیگ (ن) کے علاوہ دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے ۔پیپلز پارٹی کی طرف سے سینیٹ کے ڈپٹی چیئرپرسن کے لئے سینیٹر روبینہ رؤف خالد کو نامزد کیا گیا ، روبینہ خالد کا تعلق صوبہ خیبر پختون خواہ سے ہے۔کامیابی کی صورت میں وہ پہلی سینیٹ کی چیئر پرسن ہو سکتی ہیں۔پیپلز پارٹی کی جانب سے اعتزاز احسن ممکنہ طور پر چیئرمین سینیٹ کے امیدوار ہو سکتے ہیں۔آن لائن کے مطابق مسلم لیگ (ن) نے چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کے سلسلے تحریک انصاف سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اس حوالے سے مسلم لیگ(ن) کی اعلیٰ قیادت نے گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب کو وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے رابطہ کرنے کا ٹاسک دیدیا ہے۔دوسری جانب حاصل بزنجو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے انہوں نے مجھے سینیٹر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے ،انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کیلئے میرا نام تجویز کیا گیا ہے ،مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتیں جو بھی فیصلہ کریں گی ہم ان کے ساتھ ہیں۔آئی این پی کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے چیئرمین سینٹ کے انتخاب کیلئے پیر کو بلاول ہاؤس اسلام آ باد میں اہم اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی۔ شریک چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کیلئے بھرپور مقابلہ کیا جائیگا اور حکومت کیلئے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے۔ دریں اثناء (ق) لیگ کے صدر چوہدری شجا عت حسین بھی پر ویز الٰہی کے ہمراہ پیر کو زرداری سے اسلام آباد میں ملاقات کرینگے جس میں چےئر مین اور ڈپٹی چےئر مین سینیٹ کے حوالے سے معاملات پر بات چیت کی جائیگی ۔ ذرائع کے مطابق چودھری شجاعت حسین کی ہفتے کے روز آصف علی زرداری سے ملاقات ہو نا تھی مگر انکی مصر وفیات کی وجہ سے اب یہ ملاقات کل ہو گی جس میں اب چودھری پرو یز الٰہی بھی شر یک ہونگے۔لاہور سے نمائندہ خصوصی کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد اپنی اتحادی جماعتوں اے این پی ‘ ایم کیو ایم ‘ مسلم لیگ (ق) اور جے یو آئی (ف) کے ساتھ ملکر اپنا چیرمین سینیٹ لانے کا پروگرام بنا رہی ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے لئے رحمان ملک اور رضا ربانی کے ناموں پر غورکیا جا رہا ہے جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ ایم کیو ایم یا پھر جے یو آئی اور آزاد امیدواروں میں سے کسی کو لیا جائے گا ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ فاٹا کے ارکان کے انتخاب کے بعد مشاورت کے ساتھ ڈپٹی چیئرمین کے امیدوار کا بھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے ۔اب تک ملنے والی اکثریت کو سامنے رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی نے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے انتخاب کے لئے اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت شروع کردی ہے اور ابتدائی طور پر پیپلز پارٹی کی طرف سے رحمن ملک اور رضا ربانی کے نام سامنے آئے ہیں ،اتحادی جماعتوں کی مشاورت کے ساتھ کسی اور کو بھی چیرمین سینٹ کے لئے نامزد کیا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آصف علی زرداری نے سینیٹ کے الیکشن سے قبل ہی ایم کیو ایم ‘ اے این پی ‘ مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اتحاد کر لیا تھا اور جے یو آئی (ف) اور جماعت اسلامی سے بھی تعاون مانگ لیا تھا اس کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو بھی اپنا امیدوار نامزد کرے گی اس کی کامیابی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں ۔دوسری جانب ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر فاٹا کے چار ارکان حکمران جماعت کے امیدوار کی حمایت کردیں تو پھر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان ایک بھرپور مقابلے کی فضا بن جائے گی اور آزاد ارکان بھی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں تاہم اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا کہ چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کا عہدہ کس جماعت کے حصے میں آئے گا۔

مزید :

صفحہ اول -