بیوی کا قاتل پولیس کی ملی بھگت سے رہا ہو کر سوتیلی بیٹی کا دشمن بن گیا

بیوی کا قاتل پولیس کی ملی بھگت سے رہا ہو کر سوتیلی بیٹی کا دشمن بن گیا
 بیوی کا قاتل پولیس کی ملی بھگت سے رہا ہو کر سوتیلی بیٹی کا دشمن بن گیا

  

لاہور(کر ائم سیل) بیوی کا قاتل کمزور ضمنیوں اور پولیس کی ملی بھگت سے رہا ہونے کے بعد سوتیلی بیٹی کا دشمن بن گیا، میانوالی پولیس کا قاتل سے مک مکا ،بیٹی انصاف کی آس لے کر وزیر اعلیٰ ہاؤس پہنچ گئی ۔تفصیلات کے مطابق ضلع خوشاب تھانہ قائد آباد کے علاقہ میں کلثوم بی بی نامی خاتون کا خاوند فوت ہو چکا تھا ، اس نے زندگی گزارنے اور اپنے بچوں کی پرورش کرنے کے لئے 29اگست 2014کوا سمعیٰل جاڑونامی شخص سے جو کہ خوشاب میں کاروباری حیثیت کا حامل تھا ، شادی کر لی اور اس کے ساتھ کالاباغ کے علاقہ میں رہائش پزیر ہو گئی ۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد کلثوم بی بی بچے کی ماں بننے والی تھی مگر اس کا خاوند اسمعیٰل بچہ نہیں چاہتا تھا۔ بیوی کے انکار پر اسمعیٰل نے کلثوم کو قتل کر کے اس کی لاش نہر میں بہا دی۔ کلثوم کی والدہ اور بیٹی سدرہ کی درخواست پر پولیس نے اسمعیٰل جاڑو کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات کیں تو پتہ چلا کہ اصل میں قاتل اسمعٰیل ہی ہے۔ پولیس نے مقدمہ قتل میں چالان مکمل کر کے ملزم کو جیل بھیج دیا اور بعد ازاں مبینہ طور پر بھاری رشوت لے کر ضمنیاں کمزور لکھیں جس کا فائدہ اٹھا کر ملزم نے ضمانت کروالی اور رہا ہو گیا ۔اس کی رہائی کے بعد کلثوم کی ماں اپنی نواسی سدرہ جو کہ کلثوم کے پہلے شوہر میں سے ہے، کو اپنے ہمراہ لے کر میاں والی کے علاقہ کالاباغ میں مقیم ہو گئی مگر ملزم اسمعیٰل جاڑو نے وہاں بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور اپنی سوتیلی بیٹی جو مقامی سکول میں ساتویں جماعت کی طالبہ ہے کا راستہ روکنا شروع کر دیا اور کہا کہ اگر اس کی نانی اور اس نے قتل کے مقدمہ میں اس کو بے گناہ نہ لکھوایا تو وہ سدرہ کو قتل کر دے گا اور اس کی لاش بھی نہر میں بہا دے گا جس کا کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا ۔13سالہ سدرہ نے بتایا کہ اس نے انصاف کے حصول کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ ڈی پی او میا نوالی ،ایس پی، ایس ایس پی سمیت دیگر اعلیٰ پولیس افسران کو درخواستیں دیں کہ اس کی شنوائی ہو سکے مگر ہر جگہ اس کو مایوسی ہوئی ہے کیونکہ بااثر اسمعیٰل کا پیسہ میا نوالی میں ہر جگہ کام کر رہا ہے جس پر سدرہ اپنی نانی اور سکول کی بچیاں انصاف کے لئے وزیر اعلیٰ ہاؤس پہنچ گئیں ۔اس موقع پر سدرہ نے روزنامہ’’ پاکستان ‘‘کو بتایا کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہے جبکہ اس کا سوتیلاباپ قانون کے محافظوں کی پشت پناہی پر اس کو روزانہ روکتا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے مگر قانون خاموش ہے ۔اس نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے درخواست کی ہے کہ واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے اسمعیٰل کو روکا جائے اور اس کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا جائے نیز اس کی ماں کلثوم بی بی کے قتل کی نئے سرے سے تفتیش کی جائے اور ملزم کو سخت سزادلوائی جائے۔

مزید :

علاقائی -