نواز لیگ کے رکن پنجاب اسمبلی کا میاں شہباز شریف کے نام کھلا خط

نواز لیگ کے رکن پنجاب اسمبلی کا میاں شہباز شریف کے نام کھلا خط
نواز لیگ کے رکن پنجاب اسمبلی کا میاں شہباز شریف کے نام کھلا خط

  

جناب خاد م اعلیٰ پنجاب۔

میاں شہباز شریف صاحب۔

السلام علیکم:

میں آپ سے معافی کا طلبگار ہوں۔ ہاں سینٹ انتخابات میں میں نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ کیا کرتا ۔ میرے پاس اپنی آواز بلند کرنے کے لئے کوئی اور راستہ ہی نہیں تھا۔ کوئی لفٹ ہی نہیں تھی۔ آپ وعدہ کے مطابق پنجاب کابینہ میں توسیع بھی نہیں کر رہے۔ کئی بار آپ سے ملاقات ہوئی ۔ آپ نے کہا تیاری کروں۔ میں نے خصوصی شیروانی بھی سلوائی۔ لیکن آپ بہانے پر بہانہ بنا کر کابینہ میں توسیع کو التوا میں ڈال دیتے ہیں۔ آپ نے میری اور میرے ساتھیوں کی تلاش کے لئے ایک کمیٹی بھی بنائی ہے۔ کاش آپ نے ہمارے مسائل سمجھنے کے لئے بھی کوئی کمیٹی بنائی ہو تی۔ جو آپ کو یہ بتاتی کہ ایک دفعہ حلقہ میں یہ اعلان کر کے میں وزیر بن رہا ہوں۔ اس کے بعد نہ بننا کتنی بے عزتی اور ہزیمت کی بات ہے۔ جونہی حلقہ میں اپنے ووٹرز کے پاس پہنچتا ہوں ۔ لوگ پوچھنے لگتے ہیں کہ وزارت کا کیا بنا۔ میرے تمام سپورٹرز تو میرے وزیر بننے کی خوشی میں کئی دفعہ مٹھائی بھی تقسیم کر چکے ہیں۔ میرے حلقہ میں مبارکباد کے سینکڑوں بینرز بھی لگ کر پھٹ چکے ہیں۔ نادان سپورٹرز پھر بینر لگوا دیتے ہیں۔ آپ میری مجبوری سمجھیں ۔ میں انہیں منع بھی نہیں کر سکتا۔ اور یہ بتا بھی نہیں سکتا کہ آپ کئی مرتبہ وزراء کے نام فائنل کر کے تبدیل کر چکے ہیں۔ میرا نام جس لسٹ میں فائنل ہوا تھا ۔ وہ تو اب تبدیل ہو چکی ہے۔ مجھے پتہ چل چکا ہے ۔ کہ اب میرا نام ڈراپ ہو چکا ہے۔ جس لسٹ میں میرا نام تھا وہ تو دھرنوں میں بنی تھی۔ چونکہ عمران خان نے سرنڈر کر دیا ہے۔ ماحول بدل گیا ہے۔ اس لئے اب میں وزیر بھی نہیں بن سکتا۔ لیکن میرے سپورٹرز اور دوستوں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی۔ میری بیگم کی سہیلیاں بھی اب اس کا مذاق اڑاتی ہیں کہ کب تمھارا خاوند وزیر بن رہا ہے۔ کیا بنا وزارت کا۔ وہ تو اب میری بیگم مذاق اڑانے کے لئے انہیں بیگم وزیر بھی کہہ کر پکارتی ہیں۔ اور میری بیگم بھی اس ساری صورتحال کا قصور وار بھی مجھے ہی ٹھہراتی ہے۔ میں ا س کو کیسے سمجھاؤں کہ جب میں نے کہا تھا کہ میں وزیر بن رہا ہوں۔ تب بن رہا تھا ۔ آپ نے اور بڑے میاں صاحب دونوں نے میرا نام اوکے کر دیا تھا۔ حمزہ صاحب نے مجھے فون کر کے مبارکباد دی تھی۔ کیا بتاؤں ۔ کیسے اپنے زخم دکھاؤں کہ میرا تو محکمہ بھی طے ہو گیا تھا۔ لیکن وہ تو اللہ غارت کرے عمران خان کو کہ اس نے سرنڈر کر کے ہمارے مستقبل پر لات مار دی۔ اس نے اپنا خانہ خراب کیا تو کیا۔ میرا خانہ خراب بھی کر دیا۔

محترم میاں صاحب :: میں نے ووٹ ڈالنے سے پہلے اپنے کچھ دوستوں سے بھی مشورہ کیا تھا ۔ کہ اس سے کیا ہو گا۔ ایک دوست نے کہا کہ کچھ بھی نہیں ہو گا۔ کیونکہ میرے ایک ووٹ سے کیا ہو گا۔ لیکن مجھے پتہ ہی نہیں تھا۔کہ اور بھی لوگ میرے جیسا سوچ رہے ہیں۔ میرا تو خیال تھا کہ میں اکیلا ہوں۔ لیکن اللہ کا شکر ہے۔ کہ میرے اور بھی ساتھی ہیں۔ اور آپ بھی تو ہل گئے ہیں۔ مجھے نہیں امید تھی کہ آپ اتنی جلدی اس طرح ہل جائیں گے۔ اور کمیٹیاں بنانی شروع کر دیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ میں پریشان بھی ہوں کہ کیا آپ نے میری طرح دس اور لوگوں کے ساتھ بھی وزارت کا وعدہ کیا ہوا۔ لیکن اتنے نئے وزیر تو تب بھی نہیں بن سکتے۔

جناب وزیر اعلیٰ ::: میں کوئی پیپلز پارٹی کے امیدوار کو سینٹ میں کامیاب نہیں کروانا چاہتا تھا۔ بیچارے ندیم افضل چن کو تو معلوم ہی نہیں کہ میں نے ان کو ووٹ دیا ہے۔ ایک تو پیپلز پارٹی پیسے دے نہیں رہی تھی۔ دوسرا پیپلز پارٹی کا پنجاب میں کوئی روشن مستقبل بھی نہیں ہے۔ جو میں اپنے مستقبل کی سیاست کو محفوظ کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیتا۔ یہ صرف میرے غصہ کا اظہا ر تھا۔ اسے آپ اس سے زیادہ کچھ نہ سمجھیں۔لیکن جتنا شور مچ گیا ہے۔ اس سے مزا بہت آیا ہے۔ یہ جو آپ نے کمیٹی بنائی ہے ۔ اس کے ایک اہم رکن گزشتہ روز مجھ سے ہی پوچھ رہے تھے کہ آپ کے خیال میں کس کس نے پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دیا۔ میں نے اپنی دانست کے مطابق اس کو گمراہ کرنے کے لئے چند نام بتا دئے ۔ اور وہ احمق میری بات مان بھی گیا۔ شام کو وہ نام ایک ٹی وی چینل پر بھی چل رہے تھے۔ اور میں اپنی بیگم کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ آپ فکر نہ کریں میں نے تو اس ڈر سے اپنی بیگم کو بھی نہیں بتا یا کہ میں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا ہے ۔ کہ کہیں وہ اپنی کسی سہیلی کو ہی نہ بتا دے کہ ہم نے بدلہ لے لیا ہے اور بات چلتی چلتی آپ تک پہنچ جائے۔

جناب وزیر اعلیٰ ::: ویسے میری اپنی پارٹی یعنی نواز لیگ کے جتنے بھی ارکان اسمبلی سے بات ہوئی سب کو دکھ ہے کہ انہوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ کیوں نہیں ڈالا۔ کہ اس طرح دھرنے والا ماحول دوبارہ بن سکتا تھا۔ وہ ان سب کی تعریفیں کر رہے ہیں جنہوں نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔ میں تو ان کو بتا بھی نہیں سکتا کہ وہ شیر میدان میں ہوں ۔ لیکن لگتا ہے کہ یہ رسم اب چل نکلے گی۔ کسی بھی سیکرٹ بیلٹ میں ایسا ہو سکتا ہے۔ میرا آپ کو مشورہ ہے کہ جلد از جلد شو آف ہینڈ کی ترمیم کر لیں ورنہ آپ تو گئے۔ آخر میں میں ایک مرتبہ پھر آپ سے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر معافی کا طلبگا رہوں۔ نام اس لئے نہیں لکھ رہا کہ اگلے الیکشن میں ٹکٹ بھی لینا ہے ۔ اور آپ اگر اب معاف کر بھی دیں گے تو تب معاف نہیں کریں گے۔ خط صرف اس لئے لکھ رہا ہوں ۔ کہ حال دل بیان کرنے کا اور کوئی طریقہ نہیں تھا ۔

والسلام

شرمسار ۔۔۔ شیر سیاست رکن پنجاب اسمبلی ۔ مسلم لیگ (ن)

مزید :

کالم -