پشاور کے تاریخی مقام گھنٹہ گھر کو تجاوزات سے پاک کر دیا گیا

پشاور کے تاریخی مقام گھنٹہ گھر کو تجاوزات سے پاک کر دیا گیا

  

پشاور(ڈسپیچ نیوز ڈیسک) پشاور کی ضلعی انتظامیہ بشمول میونسپل کارپویشن ، پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی و دیگرصوبائی حکومت کے تجاوزات اور ٹریفک کے اژدھام کو کم کرنے کے وعدوں کو بطریق احسن پورا کر رہی ہے اور شہر بھر میں قائم ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف اعلان جنگ کیے ہوئے ہے جس سے پشاور کے عوام نا صرف خوش ہیں بلکہ حکومت کے ان اقدامات جن کا تعلق براہ راست عوام سے ہے کو سراہ رہی ہے۔تاہم پشاور کو 1936 کے نقشے پر واپس لانے کے لیے حکومت کو شہر کی پرانی فصیل شہر جسے شہر کی چار دیواری بھی کہا جاتا ہے اور اس کے چند ہی ٹکڑے باقی ہیں کو واگزار کرانے کے لیے بھی اقدامات کرنے ہوں گے ۔ حال میں پشاور کا تاریخی مقام گھنٹہ گھر کو تجاوزات سے پاک کیا گیا ہے تاکہ نوجوان نسل اور باہر سے آنے والے سیاحوں کو اس کی اہمیت دکھائی جا سکے۔ صوبے میں پاکستان تحریک انصاف تاریخی مقامات کو اپنی اصل حالت میں لانے کے لیے سنجیدگی ظاہر کر رہی ہے اور اس بابت تجاوزات کے خلاف مہم بھی صحیح راہ پر گامزن ہے ۔ گھنٹہ گھر بازار پشاور کا انتہائی مصروف ترین بازار ہے جہاں پر ضلعی انتظامیہ نے کاروائی کرتے ہوئے تقریباً 3000 کے قریب ناجائز تھڑے اور دکانیں مسمار کیں۔ مذکورہ بازار کے رہائشی اور دکاندار مالکان نے حکومت کے اس اقدام پر اطمینان بخش قرار دیا ہے ۔ قاسم حبیب نامی نوجوان جو کہ گھنٹہ گھر بازار کے رہائشی اور جامعہ پشاور سے فارغ التحصیل ہیں نے ڈسپیچ نیوزڈیسک سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سیاح اس تاریخی مقام کو دیکھنے آتے تھے مگر بدقسمتی سے وہ اس بازار کی ابتر صورتحال کو دیکھ کر واپس چلے جاتے تھے اور اب یہاں کا رخ کوئی نہیں کرتا۔ مورخین کے مطابق پشاور میں گھنٹہ گھر ملکہ برطانیہ کی سلطنت کو ساٹھ سال مکمل ہونے کی یاد میں بنایا گیا تھا اور اسے اس وقت کے گورنر اور پولیٹیکل ایجنٹ سر جارج کننگھم کے نام سے منسوب کیا گیا تھا ۔اس کے علاوہ اس وقت پورے ملک میں صرف تین تاریخی گھنٹہ گھر ہیں جو کراچی ، ملتان اور فیصل آباد میں ہیں جو اپنی اپنی تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔ پشاور گھنٹہ گھر کو اس وقت کے میونسپل کارپوریشن پشاور کے انجنیئر سٹریچن نے ڈیزائن کیا تھا جس کی لمبائی 85 فٹ ہے اور اسے 2003 میں صرف پینٹ کیا گیا تھا جس کے بعد اب تک اس پر کوئی کام نہیں ہواسوائے تجاوزات ہٹانے کے اور اب بھی گھنٹہ گرد کے اردگرد بے شمار بجلی کی تاریں موجود ہیں جنہیں متبادل جگہ پر لگانے کے لیے حکومت نے کام کرنا ہے ۔ تجاوزات مسمار کیے جانے سے ہزاروں لوگوں کا بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے ۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسامہ وڑائچ کے مطابق حکومت نے جہاں ایک طرف تجاوزات کے خلاف سخت رویہ اپنایا ہے تو دوسری طرف ضلعی انتظامیہ کو یہ ہدایات بھی جاری کی ہیں کہ کسی کا نقصان نہ ہو لہٰذا اس کے لیے ضلعی انتظامیہ سوچ بچار کر کے متاثرہ افراد کو بہت جلد متبادل جگہ دیگی جو شہر سے باہر ہو گی اور اس سے شہر کی خوبصورتی پر اثر نہیں پڑے گا۔ تجاوزات

مزید :

صفحہ آخر -