امریکہ نے اسامہ کی ہلاکت کے بعد اپنے شہریوں سمیت دنیا کو گمراہ کیا ،وال اسٹریٹ جرنل

امریکہ نے اسامہ کی ہلاکت کے بعد اپنے شہریوں سمیت دنیا کو گمراہ کیا ،وال ...

  

 واشنگٹن(اے این این)امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے اسامہ کی ہلاکت کے بعد اپنے شہریوں سمیت دنیا کو گمراہ کیا،اسامہ کے کمپاؤنڈ سے ملنے والی دستاویزات اور امریکی بیانات میں واضح تضاد ہے،اوبامہ انتظامیہ نے جھوٹ کو چھپانے کے لئے دستاویزات تک ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کی رسائی ختم کر کے اسے تجزیے سے روک دیا،کمپاؤنڈ سے پندرہ لاکھ دستاویزات قبضے میں لی گئیں اور صرف دو درجن دنیا کے سامنے لائی گئیں،دستاویزات میں شہباز شریف کے اس خط کا بھی ذکر ہے جس میں جہادیوں کے ساتھ امن معاہدے کی بات کی گئی تھی،دستاویزات میں فضل الرحمان خلیل اور حمید گل کا بھی زکر موجود ہے،انتخابی مہم کے لئے ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی نے 17دستاویزات کا اوبامہ کا من پسند نتیجہ اخذ کر کے دیا۔امریکی اخبار وال اسٹریٹ جر نل نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکا نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکیو ں سمیت دنیا کوگمرا ہ کیا۔ وائٹ ہاوس کی طرف سے القاعدہ کی جس طرح عکاسی کی گئی وہ ان دستاویزات کے متضاد تھی جو سامہ کے کمپاونڈ پر حملے کے وقت وہاں سے قبضے میں لی گئی۔۔ ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ہمیں اب بھی القاعدہ کے بڑھتے خطرات کا سامنا تھا اور یہ صرف پاکستان اور افغانستان اور عراق سے نہیں تھابلکہ یمن سے بھی تھا۔ بیوروکریٹک جنگ کے بعد ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی اور سینٹ کام کے تجزیہ کاروں کی ایک محدود ٹیم کودستاویزات تک رسائی دی گئی۔ان دستاوزات کے تجزے کے مطابق اسامہ کی ہلاکت کے بعد اوباما نے جو مہم چلائی اور جو موقف اختیار کیا وہ ان دستاویزات کے برعکس تھا۔یہ وائٹ ہاوس اور اوباما نہیں سننا چاہتے اس لئے اوباما انتظامیہ نے دستاویزات تک DIA کی رسائی ختم کرکے تجزیے سے روک دیا تھا۔دستاویزات کے مطابق بن لادن کو القاعد ہ پر مکمل کنٹرول تھا۔ بن لادن نے اپنے منصوبے پھیلا دیے تھے۔اسامہ کے کمپاونڈ سے پندرہ لاکھ دستاویزات قبضے میں لی گئی جن میں سے دنیا کے سامنے صرف دو درجن لائی گئیں ۔ان دستاویزات میں جولائی 2010کا ایک خط جس میں شہباز شریف کی طرف سے جہادیوں کے ساتھ ایک امن معاہدے کا ذکر ہے۔ یہ خط عطیہ عبد الرحمن کی طرف سے لکھا گیا۔اس میں ذکر کیا گیا کہ حکومت طالبا ن کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال کرنا چاہتی تھی القاعدہ نے مذاکرات کے دوران پاکستانی طالبان کی رہنمائی کا ارادہ کیا۔ اسی خط میں ذکر ہے کہ القاعدہ اور اس کے اتحادی پاکستانی فوج کے ساتھ اپنے مذاکرات میں مذاکراتی حربہ کے طور پر دہشت گرد حملوں کو استعمال کرتے ہیں۔ خط میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی القاعدہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار تھی۔القاعدہ نے میڈیا کو یہ بیان لیک کیا کہ پاکستان کو ہلاکر رکھ دینے والا زمینی آپریشن شروع کیا جارہا ہے۔ کچھ عرصے کے بعد القاعدہ نے یہ لیک کیا کہ انٹیلی جنس لوگ پاکستانی \'جہادی\' گروہوں کے ذریعے ہم تک پہنچناشروع کر دیا ہے جن کی انہوں نے منظوری دی۔ ان میں سے ایک فضل الرحمان خلیل اور دوسرے حمید گل تھے۔ اسامہ کے کمپاونڈ پر کارروائی کرنے والی ٹیم کے مشن کے صرف دو مقاصد تھے،اسامہ کی ہلاکت اور اس کے کمپاو نڈ سے تما م ضروری دستاویزات حاصل کرنا۔ اسامہ کی ہلاکت کے بعد پنٹاگون کی طرف سے قبضے میں لئے گئے جس مجموعے کا ذکر کیا گیا ان میں دس ہارڈ ڈرائیو ایک سو یو ایس بی، ایک درجن موبائل فون، ہاتھ سے لکھی دستاویزات کے پلندے ،اخبارات اور جرائد تھے ۔سنیئر انٹیلی جنس عہدے دار کا کہنا تھا کہ کسی بھی سینئر دہشت گرد سے حاصل مواد کس واحد سب سے بڑا مجموعہ ہے۔امریکا کے ہاتھ القاعدہ کی پلے بک بھی لگی تھی جس میں ان کی موجودہ کاروائیوں کی تفصیلات تھیں۔سی آئی اے نے اس پر فوری ایکشن لیا۔ ڈائریکٹر آف نیشنل جنرل انٹیلی جنس کے مطابق دستاویزات سے چار سو سے زائد رپورٹیں تیار کی گئی۔ لیکن ان تما م انٹیلی جنس مواد کے تجزیے سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا گیا اور کئی ماہ تک ان دستاویزات کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا۔ وال اسٹریٹ جنر ل

مزید :

صفحہ آخر -