مردم شماری بیلٹ پیپر کی چھپوائی اور سیاہی بلدیاتی انتخابات کی راہ میں رکاوٹ

مردم شماری بیلٹ پیپر کی چھپوائی اور سیاہی بلدیاتی انتخابات کی راہ میں رکاوٹ

  

 لاہور(محمد نواز سنگرا) مردم شماری،حلقہ بندیاں، بیلٹ پیپر کی چھپوائی اور مقناطیسی سیاہی بلدیاتی انتخابات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن گئے۔ عدالت عظمیٰ کی بار بار یقین دہانی کے باوجود الیکشن کمیشن لوکل گورنمنٹ الیکشن کرانے کیلئے ابتدائی مسائل بھی حل نہ کر سکا۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے دو پرنٹنگ مشینوں کی فراہمی پرپنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات 20ستمبر کو الیکشن کرانے کی یقینی دہانی کرائی ہے جبکہ الیکشن کمیشن ذرائع نے بتایا کہ حلقہ بندیوں کے بغیر الیکشن کرانے ممکن نہیں اور حلقہ بندیوں کیلئے مردم شماری لازم قرار دی گئی ہے جس کیلئے متعلقہ محکمے کوکم از کم 6ماہ کا وقت درکارہو گا۔ جس کے بعد الیکشن کمیشن کو تیاری کیلئے مزید 2سے3ماہ کا وقت چاہیے ہو گا اور تمام ابہام دور ہونے کے بعد الیکشن کی تیاریوں میں دس ماہ لگ سکتے ہیں ،جبکہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کی عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر حکومت دو عدد جدید پرنٹنگ مشینیں فراہم کر دے تو20ستمبر2015کو پنجاب اور سند ھ میں بیک وقت لوکل گورنمنٹ الیکشن کرائے جا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن 1951کے بعد سے تاحال پرنٹنگ مشین نہیں خرید سکا ۔حلقہ بندیوں ،بیلٹ پیپر،مقناطیسی سیاہی کے بعد پرنٹنگ پریس بنانے کیلئے ایک ایکڑ کے پلاٹ کو بھی رکاوٹوں میں شامل کر لیا گیا ہے۔13اکتوبر2013 کو پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان کے بیلٹ پیپر کی چھپوائی سے انکار کے باوجود الیکشن کمیشن انتظامات نہیں کر سکا۔    بلدیاتی انتخابات

مزید :

صفحہ آخر -