’خواتین کے رہنے کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک ملک‘

’خواتین کے رہنے کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک ملک‘
’خواتین کے رہنے کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک ملک‘

  


پورٹ موریسبی (نیوز ڈیسک) خواتین کے خلاف جنسی جرائم سبھی ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں عام پائے جاتے ہیں، لیکن جنوبی بحرالکاہل کے ملک پاپوا نیوگنی نے اس حوالے سے ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ جریدے ”ہفنگٹن پوسٹ“ نے اس ملک کے بار ے میں حقائق جاننے کیلئے بین الاقوامی تنظیم ”ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز“ کیلئے کام کرنے والی مینجنگ نرس آئیفی نی مورچو کا ایک انٹرویو لیا، جس میں لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔

آئیفی نی مورچو کا کہنا تھا کہ جنگ زدہ علاقوں کے علاوہ اگر کہیں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کی انتہا ہو چکی ہے تو وہ پاپووانیوگنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ملک میں ہر پانچ میں سے ایک لڑکی کا پہلا جنسی تجربہ عصمت دری کی شکل میں ہوتا ہے۔ یہاں ہر عمر کی خواتین کو جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور خصوصاً نوعمر لڑکیوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی مظالم عام بات سمجھی جاتی ہے۔

پاپوانیوگنی میں خواتین کے خلاف جرائم کے اصل عدادوشمار تو دستیاب نہیں، البتہ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق جنسی ظلم کا نشانہ بننے والو ں میں نصف سے زیادہ تعداد بچیوں کی ہے، جبکہ یہ لرزہ خیز انکشاف بھی سامنے آیا کہ متاثرہ بچیوں میں سے تقریباً 20 فیصد کی عمر 5 سال سے کم ہے۔ ”ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز“ نے سال 2014 ء اور 2015 ء کے پہلے 6 ماہ میں دارلحکومت پورٹ موریسبی میں جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی 3 ہزار سے زائد خواتین اور بچیوں کا علاج کیا۔ ان میں سے تقریباً دو تہائی کو ان کے اپنے ہی قریبی عزیزوں نے نشانہ بنایا تھا۔

آئیفی نی مورچو کا کہنا تھا کہ پاپوا نیوگنی کے مرد شادی کیلئے عورت کے خاندان کو بھاری معاوضہ ادا کرتے ہیں، لہذا وہ اسے ایک خریدی گئی شے اور اپنی ذاتی ملکیت تصور کرتے ہیں۔ عورت کے ساتھ جو بھی ظلم کیا جائے اسے احتجاج کا حق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم کی بات یہ ہے کہ بدترین تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کیلئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ پھر انہی مردوں کے پاس واپس جائیں کہ جن کے ہاتھوں وہ پہلے درندگی کا نشانہ بن چکی ہوتی ہیں۔

مزید : جرم و انصاف