پنجاب حکومت کا ایک اورکارنامہ،لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن پراجیکٹ کی تکمیل

پنجاب حکومت کا ایک اورکارنامہ،لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن پراجیکٹ کی تکمیل
 پنجاب حکومت کا ایک اورکارنامہ،لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن پراجیکٹ کی تکمیل

  


5مارچ 2016ء صوبہ پنجاب کے عوام کیلئے خصوصی اہمیت کا حامل دن ہے ۔ا س دن پنجاب سے اراضی کے ریکارڈ کے تقریبا 2سو سال پرانے نظام کا خاتمہ کر کے ایک جدید اور انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی نظام ’’لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم‘‘رائج کر دیا گیا ہے جس کے تحت صوبے کی 143تحصیلوں میں اراضی ریکارڈ سینٹرز نے اپنی خدمات کی فراہمی کا آغاز کر دیا ہے ۔پچھلے دو سو سال سے رائج پٹوار نظام ایک ایسا گلا سڑا سسٹم تھا جس نے طویل مدت سے پورے معاشرے کو کسی نہ کسی شکل میں اپنا یرغمال بنایا ہوا تھا ۔ صوبے کی دیہی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جو اس بد بودار نظام سے پیدا ہونے والے معاشرتی اور سماجی مسائل سے محفوظ رہا ہو۔کون نہیں جانتاکہ دیہی زندگی میں زمین اور اراضی کوکتنی اہمیت حاصل ہے ۔ آج بھی دیہات میں برسوں تک چلنے والے مقدمات اورنسلوں تک چلنے والی دشمنیوں کی بڑی وجہ اس جائیداد کی منتقلی میں روا رکھے جانے والی بدانتظامیوں اور نا انصافیوں کے سوا کچھ نہیں۔

لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کی تکمیل پنجاب اور پاکستان کی تاریخ میں ایک تاریخ ساز دن ہے اور ایسے انقلابی اقدامات اور منصوبوں سے پاکستان نہ صرف ترقی کرے گا بلکہ اپنا کھویا ہوا مقام بھی ضرور حاصل کر ے گا۔لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے تاریخ ساز اور انقلابی منصوبے کے تحت 23 ہزار دیہات کی اراضی کی کمپیوٹرائزیشن کی گئی ہے۔ اراضی کی کمپیوٹرائزیشن کے جدید نظام سے غیرمنقولہ جائیدادو ں کے معاملات میں ہونے والی قتل و غارت، خاندانی دشمنیوں، بے جا مقدمہ بازی، کرپشن اور بدعنوانیوں کا خاتمہ ہوگا اور عوام کو پٹواری کلچر سے نجات ملے گی ۔ لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم انتہائی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے جس نے عوام کی صدیوں پرانے فرسودہ نظام سے جان چھڑا دی ہے ۔دیہی آبادی اس فرسودہ نظام سے پس رہی تھی۔حکومتیں آتی رہی لیکن کسی کو بھی دیہی آبادی کو اس مشکل سے نجات دلانے کا خیال نہ آیا۔ بالاخروزیراعلیٰ شہبازشریف کی قیادت میں ہی پنجاب حکومت کو لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن مکمل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔وزیر علی پنجاب محمد شہباز شریف جوایک عوام دوست وزیر اعلی کے طور پر مشہور ہیں وہ بہت عرصے قبل اسی نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ پٹوار کلچر او راس کے نتیجے میں جنم لینے والے مربوط اور منظم لینڈ مافیا ،قبضہ گروپوں اور رشوت خوروں کے خاتمے کے بغیر پنجاب کے نوے فیصد دیہات میں بسنے والے عوام کی خدمت کا کوئی خواب شرمند ہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔اسی لئے انہو ں نے لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے کا عظیم کام شروع کیا اور اس کو پایہ تکمیل پہنچا کر دکھایااور 5مارچ وہ دن تھا جب ایوان اقبال میں پنجاب لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی تکمیل کے حوالے سے ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی ۔

وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کے دوران لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں ہم نے 1997-98 میں قصور کی ایک تحصیل سے اس منصوبے کا پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر آغاز کیا تھا۔ بدقسمتی سے 12 اکتوبر 1999 کے مارشل لاء کی وجہ سے منصوبے پر کام رک گیا۔ دور آمریت میں 10 مرتبہ وردی میں ملک کا صدر منتخب کرانے کے دعویدار پنجاب کے سابق حکمران نے اس منصوبے پر 3 اضلاع میں کام تو شروع کیا لیکن عملی طور پر کچھ نہ کیا بلکہ غریب قوم کے 90 کروڑ روپے ضائع کر دیئے۔ انہوں نے کہا کہ اب صوبے کی تمام تحصیلوں میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کا جدید نظام رائج ہو چکا ہے جہاں عوام کو 30 منٹ میں فرد ملکیت مل رہی ہے جبکہ انتقال اراضی کا عمل 50 منٹ میں مکمل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 68 سالوں سے جائیدادوں کے معاملات پر قتل ہو رہے تھے، خاندانی دشمنیاں بڑھ رہی تھیں، رشتے داریاں دشمنیوں میں بدل رہی تھیں، بے جا مقدمہ بازی میں لوگوں کا وقت اور پیسہ ضائع ہوتا تھا۔ ہم نے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کے جدید نظام سے اس کی تلافی کر دی ہے۔ اب کسی کو فرد ملکیت کے حصول اور انتقال اراضی کے معاملات میں رشوت نہیں دینا پڑے گی بلکہ اراضی سنٹر میں آنے والے اراضی مالکان کے مسائل باوقار طریقے سے حل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس جدید نظام کو قانون سازی کے ذریعے مضبوط بنائیں گے تاکہ حکومت بدل بھی جائے تو یہ نظام چلتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید نظام کے تحت 50 لاکھ غلطیوں کی تصحیح کی گئی ہے جبکہ کرپشن میں ملوث تقریباً100افراد کونوکری سے نکالا جاچکا ہے۔ پٹوار کلچر ماضی کا قصہ پارینہ بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر پٹوار خانہ صحیح معنوں میں عوام کی خدمت کر رہا ہوتا تو ہمیں یہ نظام بدلنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ سیاسی بصیرت، اجتماعی کاوشوں اور منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کی دن رات کی محنت سے یہ منصوبہ مکمل ہوا ہے۔ دیہی اراضی کی کمپیوٹرائزیشن کے بعد شہری جائیدادوں کو بھی کمپیوٹرائزڈ کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور اس عمل کو بھی تیز رفتاری سے مکمل کریں گے۔ انہو ں نے کہا کہ عالمی بینک کے نمائندوں نے پنجاب میں لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے کو شاندار اور شفاف قرار دیا ہے جبکہ عدالت عظمیٰ نے بھی اپنے ایک فیصلے میں آبزرویشن دیتے ہوئے ہمارے لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے کی تعریف کی ہے اور اس نظام کو دوسرے صوبوں کیلئے قابل تقلید قرار دیا ہے۔ اس سے بڑھ کر ہمارے لئے کوئی اور تعریفی سند ہو نہیں سکتی۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے لینڈریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران پنجاب حکومت کی شفافیت اورمیرٹ پالیسی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں تمام بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں اورسفارش یا رشوت کی بنیاد پر بھرتی کی ایک بھی مثال موجود نہیں ۔لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے منصوبے کے تحت اراضی ریکارڈ سنٹرکیلئے بھرتی ہونے والے افسران اورعملے نے سٹیج پر آکرپنجاب حکومت کی میرٹ پالیسی کی تائید کی ۔گجرات اراضی ریکارڈ سنٹر کے لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ آفیسر عمران صدیق نے کہاکہ مجھے اخبار کے اشتہار کے ذریعے پتہ چلا اور میں نے اس آسامی کیلئے درخواست دی،ٹیسٹ دیا اوردس رکنی کمیٹی نے انٹرویو کیا اور میں شفاف عمل کے ذریعے بھرتی ہوا۔کسی نے مجھ سے پیسے مانگے اورنہ ہی میں نے کسی کو کوئی پیسہ دیا۔ایک اورآفیسر ثناء کوثر نے کہا کہ میرے والدین نے مجھے محنت مزدوری کر کے تعلیم دلائی میں ایک مزدور کی بیٹی ہوں اور میرے پاس کوئی سفارش نہ تھی۔قصوراراضی سنٹر میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ارم نے کہا کہ میرے خاندان میں کوئی زیادہ پڑھا لکھا نہیں میں نے میرٹ پر ملازمت حاصل کی ہے اور میں وزیراعلیٰ شہبازشریف کی میرٹ پالیسی کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں ۔ایک اورآفیسرعاصمہ چیمہ نے کہا کہ میرے والد وفات پاچکے ہیں میں نے تعلیم حاصل کی اور میرٹ کی بنیاد پر بھرتی ہوئی۔میرے پاس نہ تو کوئی سفارش تھی اورنہ ہی میں کسی کو جانتی تھی۔جس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس بیٹی کی زندگی اندھیرے میں تھی اورمیرٹ پالیسی نے اس کی زندگی کے اندھیرے میں دیا جلایا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرٹ ہی ترقی کا واحد زینہ ہے اورہمیں میرٹ کی پالیسی پر کاربندرہتے ہوئے آگے بڑھنا ہے اورترقی و خوشحالی کی منزل پانا ہے ۔

مزید : کالم