سرقہ، توارد، سوچ کی یکسانیت یا خیال کا سفر!

سرقہ، توارد، سوچ کی یکسانیت یا خیال کا سفر!
 سرقہ، توارد، سوچ کی یکسانیت یا خیال کا سفر!

  


مختلف کتب و رسائل و جرائد، اخبارات پڑھتے ہوئے اکثر ایسے شعر نظر سے گزرتے ہیں، جنہیں پڑھ کر گمان ہوتا ہے کہ یہ شعر یا اس سے ملتا جلتا شعر پہلے بھی کہیں پڑھا ہوا ہے۔ایسے اشعار میں نوٹ کرتا جاتا ہوں اور پھر تصدیق و تحقیق کرکے یہ کالم سپردِ قلم کرتا ہوں، پھر بھی اگر کوئی بھول چوک ہوتو بندہ بشر ہے، اس قسم کی نشاندہی پر بدمزہ ہر گز نہیں ہوتا، شُکریہ ادا کرتا ہوں ، کالم کو عرق ریزی سے پڑھنے والوں کا۔۔۔آج کا کالم ایسے ہی قارئین کی نذر ہے۔۔۔

اِتنا تو ہے طَے خُدا نہیں مَیں

اور اس کے علاوہ کیا نہیں مَیں

پروفیسر گلزار بخاری

اُس دَور میں اَور کیا نہیں ہم

اتنا ہے کہ بس خدا نہیں ہم

گوہر ہوشیار پوری

بدن مسّخر کئے ہیں ابلیس نے ہمارے

خُدا ہماری زبان تک ہی رُکا ہُوا ہے

انیس احمد

بدن مسّخر کئے ہیں ابلیس نے ہمارے

خدا ہماری زبان تک ہی رُکا ہُوا ہے

قائم نقوی

خدا محفوظ رکھے اِس بلا سے

یہ دھاتی ڈور کی تلوار توبہ

انور مسعود

خدا محفوظ رکھّے ہر بلا سے

خصوصاً مولوی بدرالدٰجی سے

اکبر الٰہ آبادی

عشق ہو گیا جب سے کام بھول جاتا ہوں

شکل یاد رہتی ہے نام بھول جاتا ہوں

عقیل اشرف

اب تو مے کدے کی بھی شام بھول جاتا ہوں

چہرے یاد رہتے ہیں نام بھول جاتا ہوں

قتیل شفائی

مَیں بڑی چیز ہوں خدا کی قسم

آؤ! جُھک کر مجھے سلام کرو

جوہر نظامی

وقت کی یاد گار ہیں ہم لوگ

ہم فقیروں کا احترام کرو

حسن بخت

لُٹ چکی جب رَوِش روش اپنی

اب خزاں آئے یا بہار آئے

ضمیر جعفری

تم گلستانِ آرزو تو بنو!

پھر خزاں آئے یا بہار آئے

صوفی تبسم

ترے بغیر کسی چیز کی کمی تو نہیں

ترے بغیر طبیعت اُداس رہتی ہے

عدم

چند کلیاں نشاط کی چُن کر

مُدتوں محوِ یاس رہتا ہوں

تجھ سے ملنا خوشی کی بات سہی

تجھ سے مل کر اُداس رہتا ہوں

ساحر لدھیانوی

شیشہء قلبِ پریشاں کو جِلا بخشی ہے

دیکھئے مَے سے بھی کیا کام لیا ہے ہم نے

صادق قمر

شیشہ دل کو کِیا ہے صیقل

ہم نے کیا کام لیا ہے مَے سے

سرور مجاز

آپ نے میرا حال جب پوچھا

مجھ کو کہنا پڑا کہ بہتر ہے

انوار فیروز

کچھ اس ادا سے یار نے پوچھا مرا مزاج

کہنا پڑا کہ شُکر ہے پروردگار کا

جلیل مانکپوری

کچھ بدگمانیاں بھی ہیں وجہ کشیدگی

کچھ دور کر رہے ہیں ہمیں درمیاں کے لوگ

صادق قمر

بِلا سبب بھی کوئی بدگمان ہوتا ہے

مجھے یقیں ہے کوئی درمیان ہوتا ہے

ناصرِ زیدی

ہم نہیں ہوں گے تیری محفل میں

ہاں مگر ذکر ہمارا ہو گا

صادق قمر

دائم آباد رہے گی دُنیا

ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا

ناصرِ کاظمی

جسے معلوم تھے اسرار گلشن کی سیاست کے

وہی زِیرک پرندہ سب سے پہلے زیر دام آیا

صادق قمر

وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیں

سب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں

عدم

میرا دل اور تری یاد کا نُور

پھول صحرا میں کھِلا ہو جیسے

صادق قمر

پھول صحرا میں کھلا دے کوئی

مَیں اکیلا ہوں صدا دے کوئی

ناصرِ زیدی

گزر گئی جو عبادت میں وہ جوانی کیا

لگی ہوکوئی تو تہمت گناہ کوئی تو ہو

صادق قمر

کسی کا عہدِ جوانی میں پارسا ہونا

قسم خدا کی یہ توہین ہے جوانی کی

جوش ملیح آبادی

تمام عمر اسی اک خطا پہ پچھتایا۔۔۔!

کہ مَیں نے حُسن کا احساس کیوں دلایا تجھے

صادق قمر

حُسنِ بے پروا کو خود بین و خود آرا کر دیا

کیا کِیا مَیں نے کہ اظہارِ تمنا کر دیا

حسرت موہانی

ہم فقیروں سے مل کبھی اے دوست

کچھ نہ کچھ تم کو آگہی دیں گے

امتیاز علی گوہر

ہم فقیروں سے دوستی کر لو!

گُر سکھا دیں گے بادشاہی کا

ساغرصدیقی

مزید : کالم