یمن کے اتحاد کا مسئلہ

یمن کے اتحاد کا مسئلہ
 یمن کے اتحاد کا مسئلہ

  


سعودی عرب یمن میں ان تمام مختلف گروہوں کو ہر قسم کی امداد مہیا کر رہا ہے جو حوثی قبائل کے خلاف جنگ کر رہے ہیں، لیکن ان میں ہر ایک کا اپنا سیاسی مفاد اور ایجنڈا ہے، جبکہ سعودی عرب ایک متحدہ یمن چاہتا ہے جو اس کے زیر نگیں رہے، لیکن ایسا ہوتا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔سعودی عرب کی خواہش اور کوشش ہے کہ صدر منصور ہادی اور اس کی وفادار فوج پورے یمن کا کنٹرول حاصل کر لے، لیکن حوثی قبائل ، سابقہ صدر علی عبداللہ صالح اور اس کے وفا دار یہ نہیں ہونے دے رہے۔۔۔ سعودی عرب ان تمام گروہوں سے رابطے میں ہے جو حوثی قبائل اور علی عبداللہ صالح کے خلاف ہیں، لیکن جنوب میں ان گروہوں کے اپنے اپنے سیاسی مفادات اور اغراض و مقاصد نے صورت حال کافی الجھا دی ہے اور سعودی عرب کا ایک متحدہ یمن کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔اقوام متحدہ کی طرف سے امن قائم کرنے اور بحال رکھنے کی کوشش بھی جاری ہے، لیکن سعودی عرب کے عزائم اِن کوششوں کو شاید کامیاب نہ ہونے دیں۔ وہ چاہے گا کہ یمن میں اُس کے حامی زیادہ سے زیادہ علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیں۔

سعودی عرب نے علی محسن، جو سابق صدر کے چیف کمانڈر تھے، کی ہمدردیاں حاصل کر لی ہیں۔ایک سعودی تجزیہ نگار جمال خشنوگی کے مطابق علی محسن نے یمن کے شمالی علاقے میں حوثی قبائل کا قبضہ کمزور کرنے میں اہم کردار کیا ہے۔ خشنوگی کے مطابق علی محسن کی ہمدردیاں حاصل کر کے اس کی مدد کرنا سعودی عرب کی ایک ’’سمارٹ موو‘‘ یعنی دانشمندانہ چال تھی جو کامیاب رہی۔سعودی عرب اس کے علاوہ بھی کئی اوریمنی بااثر شخصیات کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی کوشش میں ہے جو حوثی قبائل اور سابقہ صدر کے خلاف صدر منصور ہادی اور وزیراعظم خالد کی حمایت کریں، تیل کی آمدنی اس سلسلے میں موثر کردار ادا کر رہی ہے۔ ان گروہوں کی عسکری تربیت بھی سعودی عرب میں کی جاتی ہے اور یمن میں انہیں فضائی امداد بھی دی جاتی ہے۔ علی محسن کا کردار اور اثرو رسوخ صدر اور وزیراعظم سے بھی بڑھ کر سعودی عرب کے لئے معاون ثابت ہو رہا ہے۔علی محسن کی کامیابی میں مسلم برادر ہُڈ کے ساتھ اتحاد کے علاوہ حوثی قبائل میں سے کچھ زیدی بھی سعودی عرب کے حامی بن گئے ہیں۔ سعودی عرب اصلاح پارٹی، یعنی مسلم برادر ہُڈ پر کافی دیر سے کام کر رہا تھا اور بالآخر کامیاب ہو گیا ہے۔ ان کے ساتھ شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے دور میں تعلقات قائم نہیں ہو پائے تھے۔

ریاض اگرچہ ان تمام گروہوں اور قبائل کو حوثی قبائل کے خلاف اکٹھا کرنے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے، لیکن ان میں سب کے اپنے اپنے مفادات ہیں، کچھ علیحدگی پسند ہیں جو سعودی عرب کی ’’متحدہ یمن‘‘ کی کوشش میں رکاوٹ بنیں گے۔ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحادی فوج کے زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں، لیکن وہ ابھی تک دارالخلافے پر قبضہ بحال نہیں کر پائے۔ صدر اور علی محسن مل کر بھی ابھی تک سعودی خواہشات اور توقعات کے مطابق کامیابی حاصل نہیں کر پائے اور سعودی حکومت کے مخالف ابھی بھی مضبوط پوزیشن اور اہم مقامات پر قابض ہیں۔ تاہم سعودی حکومت کا خیال ہے کہ ان کے فضائی حملے بہت حد تک ان کے حامیوں کو ہم مقامات پر دوبارہ قبضہ بحال کرنے میں مدد دیں گے اور عدن کی بندرگاہ بھی دوبارہ ان کے قبضے میں آ جائے گی، لیکن ایک بڑا خطرہ آئی ایس آئی ایس بھی ہے، جس نے حال ہی میں صدارتی محل پر ایک موثر حملہ کیا تھا۔ اس کا کردار بھی سامنے رکھنا ہو گا کہ اُس کے مقاصد کیا ہیں؟ صنعا کے قریب طائر ایک اور اہم علاقہ ہے ، سعودی حکومت کے مطابق اس پر اس کے حامیوں کا موثر کنٹرول ہے اور بالآخردارالخلافہ بھی جلدی سعودی حامی اتحادیوں کے قبضے میں ہو گا۔

اس وقت حوثی قبائل کے خلاف زمینی طور پر سب سے موثر قوت القاعدہ ہے۔ ’’حد و موت‘‘ کا صوبہ جو بندرگاہ کے قریب ہے، مُکلا جو سب سے اہم علاقہ ہے، اس پر القاعدہ کا کنٹرول ہے اور سعودی یہ بھی نہیں چاہتے کہ وہاں کے مقامی قبائل ’’ہڈ حرامی‘‘ کمزور ہو جائیں۔ اِس وقت دس لاکھ کے قریب ’’ہڈ حرامی‘‘ سعودی عرب میں مقیم ہیں اور مالی طور پر بھی مستحکم ہیں۔ اگر یمن کے ’’متحدہ یمن‘‘ بن جانے کے امکانات نہ رہے تو سعودی عرب چاہے گا کہ ’’مُکلا‘‘ کا علاقہ سعودی عرب کے زیر اثر اور زیر نگیں رہے، جہاں سے بحیرۂ عرب تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے، اِس لئے سعودی عرب کبھی یہ نہیں چاہے گا کہ یہ ہمدرد’’ہڈحرامی‘‘کمزور ہونے پائیں (واضح کر دوں کہ ’’ہڈ حرامی‘‘ ایک قبیلہ ہے جو یمن میں آباد ہے اور بااثر)۔۔۔ القاعدہ آل سعود خاندان کو بھی اقتدار سے محروم کرنا چاہتا ہے اور حوثی قبائل کی ہمدردی اس مقصد کے ساتھ ہے، لیکن القاعدہ حوثی قبائل کو بھی ختم کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت سعودی حکومت کی ترجیح ان ٹھکانوں کو تباہ کرنا ہے ، جہاں ایران کے حامی قابض ہیں۔

اِس وقت یمن کے جنوب میں سعودی حمایت سب سے زیادہ ہے، لیکن یہ بکھری ہوئی ہیں، کسی ایک قبیلے کی صورت میں نہیں ۔ یہ بھی سعودی حکومت کے لئے ایک مشکل ہے کہ انہیں متحرک کرکے ایک مضبوط فورس کیسے بنایا جائے؟ اس کے علاوہ یہ علیحدگی پسند بھی سمجھے جاتے ہیں، یہ بھی حکومت کے لئے ایک مشکل ہے، اگر اقوام متحدہ کی کوششوں سے ’’پاور شیئرنگ‘‘ فارمولا قابل قبول ہوتا ہے، پھر بھی کچھ عناصر 1990ء سے پہلے کی صورت حال منظور نہیں کریں گے، جو جغرافیائی طور پر تو جنوبی یمن کا حصہ بن سکتے ہیں اور ہیں، لیکن سیاسی طور پر یہ پہلے بھی شمالی یمن کا حصہ تھے اور اب بھی ایسا ہی ہو سکتا ہے، لیکن ایسی صورت حال میں اس حصے پر ایرانی اثر زیادہ ہو گا جو سعودی عرب کے لئے قابلِ قبول نہیں ہے، کیونکہ ایسی صورت حال میں حوثی قبائل کی مدد سے وہاں سے سعودی حدود کو نشانہ بنانا آسان ہو گا۔

اس وقت سعودی عرب کے لئے مصری مدد سے اِن کی امداد کے راستے بند کرنا آسان ہے، لیکن مجوزہ تقسیم سے ایسا کرنا مشکل اور شاید ناممکن ہو جائے۔ سعودی عرب اس وقت پورا اثر استعمال کر رہا ہے کہ علیحدگی پسندوں کا مقصد پورا نہ ہوا اور یمن متحد رہے جو ان کے مفادات کو پورا کر سکتا ہے، لیکن انہیں اور خلیجی ریاستوں کو احساس بھی ہے کہ اتنی خون ریزی کے بعد یہ محض ایک خواب اور خیال ہے، لیکن ساتھ ہی سعودی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ وقت ان کے ساتھ ہے۔ اگرچہ داخلی طور پر ریاض میں معاملات معمول کے مطابق نہیں ہیں، لیکن ایران کی وجہ سے اختلافات زیادہ ابھرنے نہیں پا رہے۔ سعودی عرب فی الحال یہی چاہے گا کہ یمن میں یمنی ہی یمنی سے لڑتا رہے اور اس صورت میں اس کے لئے فی الحال پریشانی بھی نہیں ہو گی ۔۔۔لیکن کل؟

مزید : کالم